انسانوں کے بیچ جانوروں کی آبادی؛ مذہبی ترجیحات پر ہی اعتراض کیوں؟ محمد زاہد صدیق مغل

انسانی آبادی کی زیادتی سے پریشان ہونے والے ماہرین آپ کو بہت ملیں گے، بہتوں کو تو قربانی پر خرچ کی جانے والی رقم کے ھول اٹھتے ہیں کہ کسی "رفاہی کام" پر کیوں نہیں خرچ کر دی جاتی۔ آئیے امریکی ریاست میں سن 2015 میں گھریلو پالتو جانوروں کی تعداد اور ان پر کئے جانے والے اخراجات کا ایک خلاصہ دیکھتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار AVMA Pet Demographic study اور American Pet Product Association کی رپورٹ سے لیے گئے ہیں۔

- گھریلو پالتوکتوں کی تعداد: 77.7 ملین (یعنی 7 کروڑ ستتر لاکھ)
- گھریلو پالتو بلیوں کی تعداد: 85.8 ملین (یعنی 8 کروڑ اٹھاون لاکھ)
(کتے اور بلیاں کل ملا کر سولہ کروڑ چھتیس لاکھ)
- گھریلو پالتو پرندوں کی تعداد: 14.4 ملین (یعنی ایک کروڑ چوالیس لاکھ)
- گھریلو پالتو گھوڑوں کی تعداد: 7.5 ملین (یعنی پچھتر لاکھ)
- مچھلیاں 105 ملین (دس کروڑ پچاس لاکھ)
- رینگنے والے جانور 9.3 ملین (ترانوے لاکھ)
- دیگر چھوٹے جانور 12.4 ملین (بارہ کروڑ چالیس لاکھ)
کل ملا کر جانوروں کی تعداد: 312 ملین، یعنی اکتیس کروڑ بیس لاکھ۔ دھیان رہے، امریکہ کی کل انسانی آبادی بھی لگ بھگ بتیس کروڑ کے قریب ہی ہے۔
گھریلو جانوروں پر کئے جانے والے کل سالانہ اخراجات:
- کھانے پر 23 بلین ڈالر
- علاج معالجہ 14.28 بلین ڈالر
- خرید و فروخت، کھلونے وغیرہ کے اخراجات ملا کر کل سالانہ اخراجات 60.28 بلین ڈالر(یعنی لگ بھگ ساٹھ ارب ڈالر)

دھیان رہے، یہ اعداد و شمار صرف امریکہ کے ہیں، یورپ کے اعداد و شمار بھی ایسی ہی ہوش ربا کہانی سناتے ہیں۔ یہ ہے جدید تہذیب کی جدید معاشرت کا جدید انسان جو ماں، باپ اور بچوں کے ”انسانی حقوق“ کا تحفظ کرتے کرتے جانوروں سے قریب ہوگیا۔ پالتو جانوروں کا یہ کاروبار بلین ڈالر انڈسٹری بن چکا ہے۔ ہمارے کرم فرماؤں کو انسانوں کے درمیان اس قدر کثیر تعداد میں جانوروں کی آبادی اور ان پر کیے جانے والے ان اخراجات پر کبھی اعتراض نہیں ہوتا کہ آخر یہ خطیر رقم ”سسکتی انسانیت“ پر کیوں نہیں خرچ کردی جاتی۔ انہیں اعتراض ہوتا ہے تو بس خدا کے ساتھ تعلق کا اظہار کرنے والی ترجیحات پر۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.