بنگلور کے اخروٹ اور چلغوزوں کی بحث - حماد احمد

بنگلور میں نیوائیر تقریبات میں سینکڑوں چلغوزوں کی عزتیں اخروٹوں نے لوٹنے کی کوششیں کیں۔
اوپر سے محبت دشمن پولیس گھر گھر جا کر والدین کے زخموں پر نمک پھینک رہی ہے۔
”تمہاری چلغوزی نے کچھ بتایا نہیں کہ اخروٹ کی شکل کیسے تھی؟ نیز اس کا قد کتنا رنگ کیسا تھا؟“
اور اخروٹوں کے گھر گھر جا کر ان کے والدین سے پوچھتی ہے
”کچھ حیا ہوتی ہے، کچھ اخلاقیات ہوتے ہیں، کوئی شرم ہوتی ہے.“
بہرحال وہ کیا جانے کہ یہ سب کیا ہوتا ہے۔

مسئلہ چلغوزوں یا اخروٹوں کا نہیں، مسئلہ سوچ کا ہے. یہ خود ساختہ آزادی کی سوچ اپنے آپ میں ایک انتہائی خطرناک و فسادی سوچ ہے.
آپ سب کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ ویلنٹائن ڈے پر اسلام آباد و لاہور میں بالخصوص اور دیگر شہروں میں بالعموم کچھ ”روشن خیال“ سڑکوں پر دندنانے نکلے ( نوٹ : روشن خیال میں نہیں بلکہ ہمارے دانشور کہتے ہیں ان کو، نیچے تفصیل میں اس کی تفصیل موجود ہے ) کہ بزرگ اعلی جناب ویلنٹائن کی یاد تازہ کروانی ہے کہ محبت کی تو کوئی سرحد نہیں ہوتی، ایون اب تو محبت کا کوئی مذہب و مسلک بھی نہیں ہوتا، یعنی ملحد ہے، خیر کہنا یہ تھا کہ ویلنٹائن کی قربانی کو یاد کروانے نکلے اور دنیا کو ساتھ چلانے والے عام راہگیر لڑکیوں پر پھول پھینکتے ہیں، نازیبا جملوں کے حملے کرتے ہیں کہ محبت تو ہر قید سے آزاد ہوتی ہے، اخلاقیات سے بھی، شرم و حیا سے بھی۔
صورتحال گھمبیر تھی، روشن خیال دانشور حیران و پریشان تھے کہ قومی چینلوں پر ویلنٹائن کا جنازہ نکل رہا ہے۔
بھاگ وان بھاگ وان کر کے محبت کا سورج ڈوب گیا۔

اگلے سال ہمارے وزیرداخلہ نے فیصلہ کرلیا کہ اس بار کم از کم دارالحکومت میں کوئی راہگیر، کوئی طالبہ، کوئی خاتون ویلنٹائن کا شکار نہیں ہوگی، سو پابندی لگا دی، یہ تفصیل بتا کر کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔

اگلے دن ہمارے انتہائی ہی زیادہ وجیہ صاحب اور ان کی ٹیم لڑکیوں کو ہراساں کرنے والوں کی دفاع میں پوری وزارت داخلہ کے خلاف مورچہ زن ہوئی، اور قلم کاغذ نکال لیے،
کالموں و تحریروں کے عنوانات کیا تھے؟
وزیرداخلہ پھول سے ڈر گئے،
محبت کو قید نہیں کیا جا سکتا،
پھول زندہ باد وزیرداخلہ مردہ باد،
پھول کی کہانی اعلی حضرت ویلنٹائن کی زبانی،
جب تک سورج چاند رہے گا ویلنٹائن تیرا کام رہے گا،
یعنی یہ ایک واضح پیغام تھا ہمارے لبرل طبقے کی طرف سے کہ خواہ ان تقریبات و خرافات کا کوئی بھی خاتون، لڑکی شکار ہوجائے، پرواہ نہیں لیکن بزرگوں کی قربانیوں اور مغرب کے رنگ میں رنگنے پر آنچ نہ آنے دیا جائے گا۔
تو قارئین کرام جب بھی کسی کی مثالوں کی وجہ سے اس وحشیانہ آزادی پر آنچ آئے گی، اس کا دفاع مذکورہ آزادی کے علمبردار ضرور فرمائیں گے، خواہ وہ بنگلور میں ہو یا اسلام آباد میں۔

ویسے
بھئی ہم ہوتے کون ہیں اس پر بات کرنے والے ؟
یہ چلغوزے و اخروٹ آپس میں بردرز سسٹرز ہیں۔
ہم مذہبی انتہاپسند اس رشتے کی تقدس کو پامال کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔
آزاد خیالی زندہ باد
حیا و حجاب مردہ باد