چھبن کہاں پر ہے؟ علی عمران

دیکھیے جی مسئلہ بڑا سیدھا ہے.. ہم جانتے ہیں اور مانتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے انسانی نفس کو ایک دیو جیسی طاقت دی ہے اور جیسا کہ اللہ تعالٰی نے اس لائن میں اپنے سب سے زیادہ آزمائے جانے والے نبی حضرت یوسف علیہ السلام کی زبانی اقرار بھی کرایا ہے:
[pullquote] ان النفس لامارۃ بالسوء[/pullquote]
کہ ”بےشک نفس تو برائی کی طرف ہی بلاتا ہے“. یہ نفس روز اول سے ہی انسان کے ساتھ ہے.. اور انسان کا کمال یہی ہے کہ نفس کی اس سرکشی پر اتنا قابو پالے کہ ہر موقع اور ہر جگہ پر اسے جھاڑیوں میں نہ کھینچے، بلکہ کم از کم اتنا تو ہو کہ ”ولے مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا.“

یہ نفس ہی تو تھا، جس نے شیطان کو ورغلایا اور اللہ کریم کی نافرمانی پر اکسایا، اتنا ہی نہیں اسے دلیل بھی سکھلائی کہ
[pullquote]انا خیر منہ، خلقتنی من نار و خلقتہ من طین[/pullquote]

کہ میں آدم کو سجدہ اس وجہ سے نہیں کرسکتا کہ میں ناری ہوں، جس کی طبیعت میں اوپر کی طرف بھڑکنا ہے اور یہ خاکی ہے، جس کی طبیعت میں جھکنا اور زمین میں رلنا ملنا ہے..

معلوم ہوا کہ نفس کبھی بھی انسان سے الگ نہیں رہا.. اور نہ ہی اپنی ذمہ داری سے پیچھے ہٹا ہے.. وہ کل بھی انسان کو بھٹکانے، گرانے اور گمراہ کرنے کے جتن میں تھا، یہ آج بھی اسی جتن میں ہے. اس کے ارادے کل بھی انسان مخالف ہی تھے، اس کے ارادے آج بھی انسان مخالف ہی ہیں.. اس اعتبار سے کچھ بھی بدلا نہیں اور نہ ہی کچھ مختلف ہوا، مگر ہمارے لبرل طبقے کی طرف سے جو کچھ عام کیا جا رہا ہے، اور جس طرح کی موڑ توڑ کر دلیل پیش کی جا رہی ہے کہ دین کا خطاب سماج سے ہوتا تھا، اور فرد سماج کا پابند ہوتا تھا، جبکہ آج انسان آزاد ہوگیا ہے سماج کی پابندیوں سے، لہذا اب مذہب کا اسے ایڈریس کرنا اور اس پر پابندیاں لگانا ناروا اور بے سود ہے..

یہ بھی پڑھیں:   نہیں ہے تنگ یہ دنیا، محنت کشوں کے لیے - عبدالرزاق صالح

ہم کہتے ہیں کہ جناب عالی! کل بھی شریعت نے فرد کو ہی ایڈریس کیا تھا اور اسی نفس کی بناء پر کیا تھا، جو اس کے ساتھ تب بھی لگا تھا اور اب بھی لگا ہے. اور شریعت آج بھی اسی فرد کو ہی ایڈریس کر رہی ہے.
خدا کے بندے! کل بھی صاحبِ شریعت کا معاملہ اس فرد سے مالک اور بندے کا تھا، آج بھی صاحب شریعت کا اس فرد سے معاملہ مالک اور بندے کا ہے.
کل بھی یہ مالک اسے کچھ کرنے کا کہہ رہا تھا، آج بھی یہ مالک اسے وہی کرنے کا کہہ رہا ہے،
کل بھی یہ مالک اسے کچھ چیزوں سے روک رہا تھا، آج بھی یہ مالک اسے انہی چیزوں سے روک رہاہے!
کلام بھی وہی، الفاظ بھی وہی، معنیٰ بھی وہی. سو جو بات کل تھی، وہی آج بھی ہے، جو حکم کل تھا، وہی آج بھی ہے، جو مطالبہ کل تھا، وہی آج بھی ہے، کچھ بھی تو نہیں بدلا!
گناہ گار کل بھی تھے، گناہ گار آج بھی ہیں. نیکو کار اور فرمانبردار کل بھی تھے، نیکوکار اور فرمانبردار آج بھی ہیں. بدلا کچھ بھی نہیں. ہاں بدلنا آپ چاہتے ہیں. آپ چاہتے ہیں کہ کل گناہ گار گناہ کرتا تھا، تو وہ بھی اسےگناہ مانتا تھا، اسے دیکھنے والے بھی اسے گناہ جانتے تھے، وہ گناہ چھوڑنے کی دعا بھی کرتا تھا، اس بات پر اللہ کے سامنے روتا بھی تھا.. اپنے نکمےپن پر افسوس بھی ہوتا تھا، حزین بھی ہوتا تھا، اسی سے عاجزی اور مسکنت کے آثار بھی وجود پاتے تھے. اب آپ چاہتے ہیں کہ گناہ گار گناہ بھی کرے اور گلِٹی بھی feel نہ کرے،گناہ کے گناہ ہونے کا احساس ہی ختم ہوجائے.

یعنی گناہ ـــــــــــ گناہ ہی نہ رہے، معصیت معصیت ہی نہ رہے. یعنی اب بیچ سے نفس بھی نکلے، شیطان بھی نکلے، وہ جو روزِ ازل سے ایک ہنگامہ برپا تھا شر اور خیر میں، شیطانی اور رحمانی قوتوں کے بیچ میں، آپ چاہتے ہیں کہ آج میدان سے رحمانی قوتیں پیچھے ہی نہ ہٹیں، اپنی فکری سطح سے بھی نیچے چلے جائیں، جس کو پہلے برائی قرار دیا تھا، اس کو برائی نہ کہیں، جس کو پہلے معصیت قرار دیا تھا، اب اسے معصیت نہ کہیں.. ہتھیار ڈال دیں اور ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجائیں، اگر آپ یہی چاہتے ہیں اور واقعتاً یہی چاہتے ہیں، تو خاطر جمع رکھیے، ان شاءاللہ! یہ خواب خواب ہی رہے گا... ابھی امت کے اندر الوہی ہدایات اور محمدی انوارات کی چمک دمک موجود ہے، ابھی امت خیر اور شر کا سرچشمہ قرآن کو ہی سمجھتی ہے.. ابھی امت نے یورپ کی کالی تہذیب کو مقتدی اور خدا نہیں مانا، لہذا ہم برائی کو برائی ضرور کہیں گے، گند کو گند ضرور قرار دیں گے.. ہم یورپ کی حیوانی تہذیب کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے نہیں، بلکہ ڈٹ جانے والوں میں سے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   گناہ بے لذت - محمد عامر خاکوانی

یہ شیطانی فکریں اور نفسانی خواہشات کل بھی گناہ تھیں، یہ آج بھی گناہ ہی رہیں گی. تاہم یہ مسئلہ حل ہوگیا کہ آپ کو دراصل چبھن کس چیز کی ہے؟ آپ کو گناہ کے گناہ سمجھنے سے چبھن ہے. سو اللہ کرے کہ یہ چبھن بڑھتی ہی جائے.!

Comments

علی عمران

علی عمران

علی عمران مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز کے فاضل ہیں۔ تخصص فی الافتاء کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسلامک کمرشل لاء میں ایم فل کے طالب علم ہیں. دارالافتاء والاحسان اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں افتاء کے علاوہ عصری علوم پڑھنے والے طلبہ اور پروفیشنل حضرات کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.