قاضی حسین احمد کا ادھورا خواب - فضل ہادی حسن

11 12 نومبر 2012ء کو مرحوم قاضی حسین احمد نے ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے عالمی اتحاد امت کانفرنس منعقد کی تھی۔ اس کے امور کی نگرانی و انتظامات اور رابطہ کی ذمہ داری مجھے تفویض کی تھی. اسلامی تحریکوں کے قائدین، دینی اور مذہبی اداروں کی سرکردہ شخصیات، تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علماء و مشائخ اور ملک کی بڑی درس گاہوں کے سجادہ نشین اور متعلقین نے اس میں شرکت کی تھی۔ کانفرنس کے اختتام پر ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس پر ملی یکجہتی کونسل میں شامل 26 چھوٹی بڑی پارٹیوں کے رہنماؤں کا اتفاق ہوا تھا۔ اعلامیہ کے نکات اتنے مخلصانہ اور بہترین تھے کہ اگر اس پر تمام مسالک کے رہنماء عمل کریں تو نفرت وکدورت ختم اور مثالی مذہبی ہم آہنگی پیدا ہو سکتی ہے۔ شرکاء نے کافی غور و خوض کے بعد کانفرنس کی اصل روح اور مقصد ’اتحاد امت‘ پر اتفاق کیا تھا، واضح کیا گیا تھا کہ امت مسلمہ کی اصل شناخت اسلام اور صرف اسلام ہے، اور یہی ہماری وحدت کی بنیاد اور دنیا اور آخرت میں ہماری کامیابی کی ضامن ہے۔

کانفرنس میں عالمی طور پر مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور درپیش خطرات کے علاوہ امت کی زبوں حالی، اسباب اور حل پرگفتگو ہوئی، نیزاسلام کی تعلیمات کو مسخ کرنے اور شعائر اللہ کا مذاق اڑانے، نبی برحق محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رکیک حملوں کے ایک نہ ختم ہونے والا سلسلے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
مسلمانوں میں باہمی کشمکش اور آپس میں لڑانے اور دست و گریبان کرنے کی سازشوں میں غیروں کے ساتھ خود اپنوں کے کردار کو بھی ان مصائب کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، جو حالات کے بگاڑ اور فساد کے فروغ کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔

کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ کے چند اہم نکات اس امید پر پیش کیے جا رہے ہیں کہ ہماری مذہبی اور بالخصوص مسلکی قیادت اس پر سوچے کہ آج سے چار سال قبل امت کا درد رکھنے والے قاضی حسین احمد رحمہ اللہ نے جس مقصد کے لیے اتنا بڑا قدم اٹھا کر مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کو ایک جگہ پر جمع کیا، اس مشترکہ اعلامیہ اور کانفرنس کی روح پر کیسے عمل کیا جا سکتا ہے، اور اب تک کتنا عملدرآمد ہو سکا ہے۔ اعلامیہ کے چند نکات پڑھ کر خود اندازہ ہوجائے گا کہ چار سال کے بعد آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   بوڑھے نوجوان - فضل ہادی حسن

’’یہ کنونشن دنیا بھر کے مسلمانوں اور اُن کی ہر سطح کی قیادت کو دعوت دیتا ہے کہ ہم فروعی اور ذیلی اختلافات سے بالا ہو کر اپنے مشترک مشن کے حصول اور دشمنوں کی ریشہ دوانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد اور منظم ہو جائیں۔ یہ وقت کا اہم ترین تقاضا ہے، اس کے لیے ہم مندرجہ ذیل اصولوں اور اہداف پر مکمل اتفاق اور ان کے مطابق کام کرنے کے عزائم کا اظہار کرتا ہے ۔
1۔ اختلافات اور بگاڑ کو دور کرنے کے لیے ایک اہم ضرورت یہ ہے کہ تمام مکاتب فکر نظم مملکت اور نفاذ شریعت کے لیے ایک بنیاد پر متفق ہوں، چنانچہ اس مقصد کے لیے ہم 31 سر کردہ علماء کے 22 نکات کو بنیاد بنانے پر متفق ہیں۔ اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی بنیاد پر زندگی کے ہر شعبہ کی اصلاح کے داعی ہیں۔
2۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و حرمت ہمارے ایمان کی بنیاد ہے اور آ پ ﷺ کی کسی طرح کی توہین کے مرتکب فرد کے شرعاً قانوناً موت کی سزا کا مستحق ہونے پر ہم متفق ہیں۔ اس لیے توہین رسالت ﷺ کے ملکی قانون میں ہم ہر ترمیم کو مسترد کریں گے اور متفق اور متحد ہو کر اس کی مخالفت کریں گے۔ عظمت اہل بیت اطہار، عظمت ازواج مطہرات اور عظمت صحابہ کرام و خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین ایمان کا جز ہے۔ ان کی تکفیر کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے، اور ان کی توہین و تنقیص حرام اور قابل مذمت و تعزیر جرم ہے۔ ایسی ہر تقریر و تحریر سے گریز و اجتناب کیا جائے گا جو کسی بھی مکتب فکر کی دل آزاری اور اشتعال کا باعث بن سکتی ہے۔ شرانگیز اور دل آزار کتابوں، پمفلٹوں اور تحریروں کی اشاعت، تقسیم و ترسیل نہیں کی جائے گی۔ تمام مسالک کے اکابرین کا احترام کیا جائے گا۔
3۔ ہم ملک میں مذہب کے نام پر دہشت گردی اور قتل و غارت گری کو اسلام کے خلاف سمجھنے، اس کی پر زور مذمت کرنے اور اس سے اظہار برأت کرنے پر متفق ہیں۔
4۔ باہمی تنازعات کو افہام و تفہیم اور تحمل و رواداری کی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔ عالم اسلام میں جہاں باہمی انتشار جنگ و جدال اور کشمکش ہے، اُسے مذاکرات اور ثالثی کے ذریعہ حل کیا جائے، اور قوت کے استعمال کو یکسر ختم کرنے کے لیے مؤثر کاروائی کی جائے۔ تمام مسلمان ممالک اور ان کی سیاسی اور دینی قیادتیں اس سلسلہ میں ایک مؤثر کردار ادا کریں۔ نیز مسلمانوں کی اجتماعی تنظیم اور آرگنائزیشن آف اسلامک کواپریشن( Organization of Islamic Corporation- OIC) اس سلسلہ میں متحرک اور مؤثر ہو۔
ہم عہد کرتے ہیں ان اصولوں اور اہداف کو اپنی ساری جدوجہد کا محور بنائیں گے اور مسلم ممالک کی قیادت،مسلم عوام اوردینی و سیاسی جماعتوں کواس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنے کی دعوت دیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   بوڑھے نوجوان - فضل ہادی حسن

اتنے اہم اعلامیہ اور اعلانات کے بعد اگر پھر بھی ہم باہم دست و گریبان ہوں، عظیم ہستیوں کی تنقیص اور توہین کی جائے، اور مسلک کی آڑ میں دوسروں کے مارنے کو روا اور جائز سمجھا جائے تو اس پر سوائے افسوس کے اور کیا کیا جا سکتا ہے.

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!