انسان خودکشی کیوں کرتا ہے، نجات کا راستہ کیا ہے؟ فارینہ الماس

زندگی کے بارے کبھی کوئی ایک مکمل نظریہ پیش کیا جانا ممکن ہی نہیں۔ ازل سے یہی ہوتا آیا ہے کہ جس کی سمجھ میں جو آیا، اس نے زندگی کو وہی معنی دے دیے. کچھ لوگ اس کے بھاؤ بھید کو کریدنے میں ہی عمر بیتا دیتے ہیں اور کچھ اسے محض جی لینے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ لیکن جو بظاہر بنا کسی استفسار کے اسے خاموشی سے جی رہے ہیں، یہ کہنا محال ہے کہ ان کے اندر زندگی سے متعلق سوالات کے انبار بسیرا نہ کیے ہوں گے۔

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ زندگی ایک بہت ہی الجھا ہوا سوال ہے۔ اس کا ازل اور ابد ناقابل فہم ہے۔ یہ محض ایک بھٹی ہے جس کی کٹھنائیوں کی آتش میں انسان لحظہ بہ لحظہ جھلستا چلا جاتا ہے۔ وقت لمحہ لمحہ اس کی سبھی رعنائیاں نگل لیتا ہے۔ یہ محض ایک سفر مسلسل ہے جس کا کوئی حاصل نہیں۔ ایسا جزیرہ ہے جس کے ایک کنارے پہ روتی، سسکتی، کسمساتی، بین کرتی حیات اور دوسرے کنارے کیا ہے، کوئی نہیں جانتا۔ جبکہ ایک دوسرے نظریے کے حامل افراد کا ماننا ہے کہ زندگی ایک دلکش راز ہے جسے مسخر کرنے میں لطف ہے۔ یہ ایک خوشگوار نغمہ ہے جس کی ہر تال میں دلکش راگ گندھے ہوئے ہیں۔ یہ ایک رنگ ہے، ایک ساز ہے، ایک سحر بےمثال ہے۔ کچھ بھی ہے، بہرحال زندگی ازل سے اپنے ہونے نہ ہونے کے درمیان ہی رہتی چلی آئی ہے۔ اگر اسے جینے والے نظریہ اول کے حامل ہیں تو اسے محلوں اور رونقوں میں بھی امان میسر نہیں، اور اگر اسے جینے والے نظریہ دوم کے حامل ہیں تو یہ جھونپڑوں میں بھی مطمئن اور شاد ہے۔

اس حقیقت سے مفر بھی ممکن نہیں کہ ہم انسانوں نے ہی اسے وقت کے ساتھ ساتھ بہت مشکل اور گھمبیر مسائل کے حوالے کر دیا ہے ۔یہ ہماری ہی ذرہ نوازیاں ہیں کہ اب زندگی اک کرب مسلسل بنتی چلی جا رہی ہے ۔یہ ہمیشہ جلتی بجھتی امید و یاس کے درمیاں بھٹکنے لگی ہے۔ ہماری خواہشات ناتمام نے اس سے اس کی اصل رعنائیاں اور دلکشیاں چھین لی ہیں۔ یہاں تک کے اس کی آواز کے دلکش نغمے اور قہقہے ٹوٹ کر بکھرنے لگے ہیں، اور ہمیں ہر پل اس کے پہلو سے ابھرتی دل سوز چیخیں اور آہیں سنائی دینے لگی ہیں۔ ہمارے برپا کیے فساد اور استحصال نے اسے خود اپنے ہاتھوں اپنا گلا گھونٹ لینے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔ اپنی مصنوعی اور نا پائیدار خوشی کی خواہش میں ہم اصل اور کھری حیات آگیں خوشیوں سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ انسان نے زندگی کو اس قدر مفلس اور اپاہج بنا لیا ہے کہ اب اس میں گردش حالات سے نپٹنے کا حوصلہ بھی مفقود ہو چلا ہے۔ اور کمال تذبذب کا باعث ہے یہ بات کہ زندگی خود اپنے ہی ہاتھوں سے نکلنے لگی ہے، اور جو بچی کھچی زندگی دنیا پر رہ گئی ہے، وہ بھی زندگی سے عاری دکھائی پڑتی ہے۔

بہت سے لوگ اس الجھے ہوئے سوال کا جب کوئی جواب ڈھونڈ سکنے میں ناکام ہو جاتے ہیں، جب وہ اس دگرگوں معاشرت اور اقدار کے بوجھ تلے بلبلانے لگتے ہیں، جب مسئلوں کے خود پر لادے ہوئے بوجھ کو سہارتے رہنے سے عاری ہونے لگتے ہیں تو وہ اپنی زندگی کو بےمعنی اور لاحاصل جان کر خود اپنے ہاتھوں ختم کر لیتے ہیں۔ اس طرح زندگی کے غم و الم سے نجات کا راستہ خودکشی میں تلاش کیا جاتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر چالیس سیکنڈ میں ایک انسان اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتا ہے۔ ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً دس لاکھ لوگ اس انتہائی اقدام کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ ایسے واقعات میں پچھلے چالیس برسوں میں تقریباً ساٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایک طرف تو یہ رحجان 15 سے 29 سال تک کے نوجوانوں میں بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف 70 سال کی عمر تک کے لوگوں میں بھی یہ رحجان پایا جاتا ہے۔ خودکشی کے بڑھتے رحجان کا سامنا نہ صرف معاشی طور پر بدحال ممالک کو ہے بلکہ ترقی یافتہ ممالک سویڈن، سوئٹزر لینڈ، ناروے، جرمنی، کوریا اور جاپان کو بھی ہے ۔

خودکشی کی تاریخ بڑی عجیب ہے۔ ماضی میں لوگ زیادہ تر اپنی عزت و ناموس برقرار رکھنے کے لیے خودکشی کیا کرتے تھے۔ قدیم یونان اور روم میں فوجی جنرل اس وقت خود کشی کے مرتکب ہوتے تھے جب وہ دشمن کی فوج کو خود پر غالب دیکھتے تھے۔ یونان میں ایک نامور سیاستدان ڈیمس تھیس نے میسو ڈومیہ کی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہونے پر زہر کھانے کو ترجیح دی۔ اسی طرح جب روم میں سیزر کے قاتلوں کو شکست ہوئی تو بروٹس اور اس کے ساتھیوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خودکشی کر لی۔ سقراط نے سچ کو بچانے کے لیے زہر پی کر اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اس کے اس اقدام نے محض خودکشی کو ناموری نہیں دی بلکہ اسے سچ کی فتح کے لیے دی جانے والی عظیم قربانی کے طور پر تاریخ کے پنوں میں امر کر دیا۔ جاپان میں عزت کے نام پر خود کشی کی رسم ایک بہت قدیم رسم ہے جو ”سمورائی“ کلچر کا حصہ تھی۔ یہ رسم”ہارا کاری“ کے نام سے موسوم تھی۔ لوگ اپنی عزت کو بچانے کی خاطر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے، اور اس طرح کی موت کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا، اور حیرت انگیز طور پر آج بھی خودکشی کو جاپان میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ تاریخ میں بہت سی نامور شخصیات نے بھی اپنی جان کا خود اپنے ہاتھوں خاتمہ کیا جیسے ھیمنگ وے اور مارلن منرواور ہٹلر وغیرہ۔

خودکشی کو عموماً معاشرے میں بڑھنے والی بد دلی، ناکامی اور مایوسی کے نتیجے میں فرد کے اندر جنم لینے والی کم ہمتی اور بددلی کے ایک انتہائی منفی اور سفاک ردعمل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا فعل سمجھا جاتا ہے جس سے کسی فرد کو اس کے مرنے کے بعد محض حقارت سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسے ایک فرد کی شخصیت میں بیک وقت ابھرنے والی حساسیت اور بےحسی دونوں ہی کے مفہوم میں پرکھا جاتا ہے کیونکہ ایسے افراد انتہا درجے کی حساس طبیعت کے حامل ہوتے ہوئے یہ انتہائی قدم اٹھاتے ہیں اور دوم اسی لمحے وہ اتنے بےحس ہو جاتے ہیں کہ اپنے بعد اپنے خاندان والوں کے تکالیف اور مشکلات میں مبتلا ہو جانے کے خیال کو بھی نظرانداز کر دیتے ہیں ۔

صنعتی و تمدنی ترقی کے باوجود خودکشی کے رحجان میں کمی آنے کے بجائے اس میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں 2008ء میں 32 ہزار اور 2009ء میں 33 ہزار لوگوں نے خودکشی کی، یعنی ایک لاکھ لوگوں میں سے 24 افراد اور روزانہ کی بنیاد پر 90 لوگ خودکشی کرتے ہیں۔ مرد اس تعداد کا کل 72 فیصد حصہ ہیں، جن میں 38 فیصد افراد تقریباً 50 سال کی عمر کے ہوتے ہیں۔ خود کشی کے اس رحجان کی بڑی وجہ بڑھاپے کی طرف بڑھتے لوگوں کی تنہائی اور بیروزگاری ہے۔ خودکشی کی سب سے زیادہ اہم وجہ غربت اور معاشی استحصال ہے. بھارت میں کسانوں میں یہ رحجان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ فصلوں کی تباہی بنتی ہے، اس طرح کسان جو عموماً قرض اٹھا کر اپنی بیٹیوں کی شادی کرتے، یا زرعی آلات اور بیج خریدتے ہیں، وہ فصل کی تباہی کے بعد شدید قسم کے ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور آخرکار ساہوکار کے ہاتھوں ذلت اٹھانے کے بجائے اپنی زندگی کے خاتمے میں ہی اپنی عافیت جانتے ہیں۔ 2014ء میں بھارت میں تقریباً 5650 کسانوں نے خودکشیاں کیں جن میں 2015ء میں مزید اضافہ ہوگیا۔

خود کشی کے بڑھتے رحجان کی ایک دوسری وجہ جنگیں بھی ہیں۔ طویل جنگ شہریوں کے ساتھ ساتھ فوجیوں کو بھی شدید نفسیاتی تناؤ اور بد دلی میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ یہ اضطراب فوجیوں میں دماغی طور پر عدم توازن کا باعث بھی بنتا ہے۔ حاضر سروس افراد کے علاوہ ریٹائرڈ فوجی بھی اپنے ضمیر کی خلش کے باعث ایسے اقدام پر مجبور ہو جاتے ہیں۔گزشتہ کچھ سالوں سے امریکی فوجیوں میں اس کا رحجان بڑھتا نظر آیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر 22 سابق فوجی خودکشی کر لیتے ہیں. 2012ء میں 349 حاضر سروس امریکی فوجیوں نے خود کشیاں کیں۔ ان پر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ شدید قسم کے ذہنی اضطراب اور دباؤ نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ ان میں ایسے فوجی بھی شامل تھے جنھیں جنگی صورتحال سے ابھی واسطہ بھی نہ پڑا تھا۔

بھارت میں سالانہ ایک لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں۔ 2014ء میں مرتب کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق پانچ سالوں میں تقریباً 597 بھارتی فوجیوں نے خودکشیاں کیں۔ کشمیر میں لڑی جانے والی ظالمانہ اور اعصاب شکن جنگ نے انہیں نفسیاتی طور پر ایسے تناؤ کا شکار بنا رکھا ہے کہ بھارتی فوجیوں میں اپنے ہی رفقائےکار پر حملوں کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔گزشتہ واقعات میں ایک اہم واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک بھارتی فوجی نے اپنے چھ ساتھیوں کو گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بھارتی سکیورٹی فورسز میں خواتین کی تعداد دو فیصد ہے لیکن ان خواتین میں خودکشی کی شرح چالیس فیصد ہے. ہندوستان کی نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2014ء میں ہندوستانی مسلح افواج کے 175 جوانوں نے خودکشی کی جن میں سے 73 خواتین تھیں۔ بھارت میں اداکاراؤں اور بیوروکریٹس و دیگر افسران میں بھی خودکشی کے واقعات وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہتے ہیں، جس کی وجہ کرپشن کے الزامات اور ان کے نتیجے میں ملنے والی ذلت اور رسوائی ہے، اور شوبز کے لوگوں میں کام ملنے میں ناکامی یا خوبصورت اداکاراؤں کی عزتوں کا پامال ہونا بھی شامل ہے، اس کے علاوہ ایک وجہ محبت میں ناکامی کی بھی ہے۔ اس اقدام کا ایک انتہائی فکر انگیز اور دل خراش پہلو یہ بھی ہے کہ نوجوان طبقے کو نہ صرف بیروزگاری نے مایوسی اور بددلی دی ہے بلکہ امتحانات کے فرسودہ نظام نے بھی انہیں نمبروں کے پیچیدہ کھیل میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بھارت نوجوانوں میں خودکشی کے رحجان میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ یہاں ہر روز تقریباً بیس نوجوان موت کو اپنے گلے لگا لیتے ہیں۔ امتحانات کے دباؤ کے باعث تقریباً5,857 نوجوان خودکشی کر چکے ہیں۔ 2007 ءسے 2014ءکے دوران امریکہ میں مڈل سکول کے طالب علموں میں خودکشی کی شرح 0.9 سے بڑھ ایک لاکھ میں سے 2 فیصد ہو گئی ہے۔گو کہ وہاں کا تعلیمی یا امتحانی نظام اس بڑھتی شرح کا ذمہ دار نہیں بلکہ ان نوجوانوں میں بڑھتی فرسٹریشن اس کا باعث ہے۔ خود کشی کی دیگر وجوہات میں بیماری اور ذہنی عارضے بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں سالانہ چھ سے آٹھ ہزار لوگ خودکشی کرتے ہیں۔گلگت کے علاقے غزر، جس کی آبادی تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہے، انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق یہاں اوسطاً 20 خواتین سالانہ کی بنیاد پر خودکشی کر گزرتی ہیں۔ ان علاقوں میں انہیں تعلیم کا حق تو اب کسی قدر دیا جانے لگا ہے لیکن اپنی زندگی کے اہم فیصلوں کا حق آج بھی نہیں دیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ پڑھی لکھی لڑکیوں کو اکثر جاہل اور ان پڑھ لڑکوں یا عمر میں ان سے کئی گنا بڑے مردوں سے بیاہ دیا جاتا ہے۔ ایسی لڑکیوں کو ذہنی ہم آہنگی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض حالات میں شدید قسم کا گھریلو تشدد انہیں اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر لینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ ایسے واقعات میں سے اکثر واقعات غیرت کے نام پر قتل کے ہوتے ہیں جنہیں عموماً خودکشی کا رنگ دے کر دبا دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں فرسودہ سماجی نظام بھی خود کشیوں کے بڑھتے رحجان کا باعث ہے اور انصاف کی عدم فراہمی بھی۔ یہاں جاگیردارانہ نظام جس میں غریب کی عزت تک محفوظ نہیں، وہ غریب ہاریوں کو اس اقدام پر مجبور کرتا ہے۔ اکثر نوجوان لڑکیاں اپنی عزت کی پامالی کا زخم برداشت نہ کر پاتے ہوئے بھی خود کشی کر لیتی ہیں۔ اکثر واقعات میں میاں بیوی کی گھریلو ناچاکیاں بھی مرد یا عورت کو خودکشی پر مجبور کر دیتی ہیں۔ کچھ ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جن میں طالب علموں نے فیل ہونے کے بعد خودکشی کا انتہائی قدم اٹھایا۔ کیونکہ ہمارا امتحانی نظام طالب علموں کو نمبروں کی بےمقصد دوڑ میں مبتلا کر کے ذہنی اضطراب تو دیتا ہے لیکن ناکامی میں صبر اور استقامت کا دامن تھامنا اور اپنی ناکامی سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی خامیاں دور کرنا نہیں سکھاتا. پاکستان میں خودکشی کے واقعات بہت کم رپورٹ کیے جاتے ہیں، اکثر معاشرتی سطح پر تضحیک سے بچنے کے لیے انہیں چھپایا جاتا ہے اور اچانک کی موت کو کسی حادثے یا بیماری سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خودکشیوں کے اعدادوشمار مرتب نہیں کیے جاتے ۔

اقوام متحدہ کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او نے دنیا میں خودکشیوں کے اس بڑھتے رحجان کی بیخ کنی کے لیے 2020ء تک اس میں دس فیصد کمی لانے کا عزم کیا لیکن بقول اس ادارے کے صرف 28 ممالک میں اس کی روک تھام کی حکمت عملی موجود ہے۔ اس سے یہ تو ثابت ہو جاتا ہے کہ خودکشی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 75 فیصد خودکشیاں کم آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں، جن کی عمومی وجوہات معاشی ناہمواریاں، بے روزگاری اور عدم تحفط کی فضا ہے۔ ایسے ممالک میں حتیٰ کہ ترقی یافتہ ملک جاپان میں بھی کلینیکل سائیکالوجی کا رحجان بہت ہی کم ہے اور جو نفسیاتی ماہرین موجود ہیں، وہ کونسلنگ کے ناقص طریق کار اپنائے ہوئے ہیں۔پسماندہ ممالک بشمول پاکستان کے، شعور اور تعلیم کی کمی کے علاوہ نفسیات دانوں کی بھاری فیسوں کے باعث لوگ ان ماہرین کی خدمات سے محروم رہتے ہیں۔ ان ممالک میں افراد کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع بھی بہت کم ہیں، اور جو مواقع موجود ہیں ان کے لیے اس قدر زیادہ تگ و دو کی ضرورت پڑتی ہے کہ اکثر افراد اس کے متحمل نہیں ہو پاتے، جس کی وجہ سے وہ ذہنی عوارضوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔

یہاں بچوں کی تربیت بھی کچھ اس طور کی جاتی ہے کہ جس میں نہ تو مسائل کا ادراک دیا جاتا ہے اور نہ ہی ان سے نپٹنے کی ترغیب۔ انہیں اس قدر سخت گیر ماحول میں فراہم کیا جاتا ہے کہ جس میں عموماً دوست بنانے اور دوستوں سے میل ملاپ رکھنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے کئی ایسے مسائل جو والدین سے شیئر نہیں کیے جاسکتے، انہیں شیئر کرنے کے لیے ان کے پاس کسی دوست کا بھی سہارا موجود نہیں ہوتا۔ ایسے ماحول میں وہ اپنی دلچسپیاں محض موبائل اور کمپیوٹر میں ڈھونڈنے لگتے ہیں جو زیادہ تر انہیں گمراہ کرتے ہیں یا مزید تنہائی کا احساس دلانے لگتے ہیں۔ ہمارے نظام تعلیم میں تخلیقیت کی کمی بھی انہیں قنوطیت کا شکار بنا دیتی ہے۔ ثقافتی طور پر لوگوں کو جب اپنے اظہار کے مواقع میسر نہ ہوں تو بھی زندگی کے رنگ کھو جاتے ہیں اور بے رنگ زندگی کا ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہو جاتا ہے۔ اخلاقی اقدار اور مذہب سے مکمل دوری بھی معاشروں کو اس روحانیت سے خالی کر دیتی ہے جو اسے آج کے مادی دور میں سکون ڈھونڈنے کا اک رستہ فراہم کرتی ہے، اور زندگی بےمعنویت کی طرف گامزن ہو جاتی ہے۔ بوڑھے لوگوں میں تنہائی کا احساس انہیں بے بس اور بے کس بنا دیتا ہے۔ انہیں زندگی کے اس انتہائی دور میں اپنا دکھ درد بانٹنے کے لیے کسی نفس کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں میسر نہیں آتا۔ آج کے بڑے مسائل میں شامل ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں موجود خاندانی نظام ناقص ہے، جس میں معاشی طور پر فرد واحد پر پورا خاندان انحصار کرتا ہے۔ اس انتہائی بوجھ کو سہارتے سہارتے جب فرد تھکنے لگتا ہے تو اس کے اعصاب اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

اسلام میں زندگی کو اللہ کی امانت سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی نعمت ہے جو محض ایک بار میسر آتی ہے۔ قرآن میں ہے ”اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور صاحب احسان بنو بے شک اللٰہ احسان والوں سے محبت کرتا ہے۔“ اسلام نے دین کے راستے پر چلنے کی تلقین تو کی ہے لیکن اس سے الجھنے سے روکا ہے، کیونکہ یہ الجھاؤ خود انسان کے باطن کو سوائے انتشار کے کچھ نہیں دیتا۔ وہ انتشار جو دل اور دماغ کو منکر بھی بنا سکتا ہے اور انتہا پسند بھی۔ اور ایسے واقعات بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جن میں اس طرح کے بے چین لوگوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر کے اس انتشار سے چھٹکارا پایا۔ زندگی گھمبیر گردش حالات کا شکار سہی، پھر بھی قیمتی ہے۔ اسے خود اپنے ہاتھوں گنوا دینا حماقت ہے۔ اگر اس کے دامن میں کئی محرومیاں، دکھ اور تشنگیاں ہیں تو اس کی نعمتوں اور محبتوں کا بھی شمار نہیں، اگر ہم اسے بلند خیالی کے گوہر اور اپنی ذات کے ہنر سے سجا لیں تو یہ گردش زمان و مکاں سے نکل کر اپنے جہاں خود تخلیق کر سکتی ہے۔ اگر ہم محض اپنی خواہشات کو ہی مختصر کرلیں، تو ہمارے اندر کئی طرح کے بگاڑ اور فساد ابھرنا ختم ہو جائیں گے۔ ہم اپنے حال میں مطمئن اور خوش رہنا سیکھ لیں تو شاید ہم جینا بھی سیکھ لیں گے۔ اس کے علاوہ ریاست پر بھی یہ ذمہ داری لاگو ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں عدم استحکام اور عدم مساوات کا خاتمہ کرے ۔اور وہ سبھی اقدامات کرے جن سے لوگوں کی زندگی کو سہل بنایا جاسکے۔

Comments

فارینہ الماس

فارینہ الماس

فارینہ الماس کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی روح میں گھلا ہوا ہے۔ ساتویں جماعت میں خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف افسانہ لکھا جو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم۔اے کیا، دوران تعلیم افسانوں کا مجموعہ اور ایک ناول کتابی شکل میں منظر عام پر آئے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */