پاکستان میں سیاسی کامیابی کے لیے 11نکات - ڈاکٹر غیث المعرفہ

اگرچہ عام طور سمجھا جاتا ہے کہ سیکولر ریاستیں، شخصی آزادی کی ضمانت دیتی ہیں لیکن یہ اصول خود سیکولر ریاستیں اپنے ہاتھوں دفن کر رہی ہیں- اجتماعی آزادی کی گنجائش سیکولر ریاستوں میں پہلے ہی موجود نہیں تھی، یہی وجہ تھی کہ سیکولرازم کے دل مطلب امریکہ میں سیاسی سرگرمیاں صرف دو پارٹیوں تک محدود ہو گئیں- دوسری طرف یہ ریاستیں اپنی پسندیدہ شخصی آزادیاں تو بڑے کھلے دل کے ساتھ دیتی ہیں لیکن ناپسندیدہ شخصی آزادیوں پر ڈاکے ڈالنے کے لیے غیر قانونی ذرائع کا استعمال اور اپنے ہی اصولوں کا قتل جائز سمجھتی ہیں-

ایسے میں اسلامی ریاستوں اپنے ضعف کے باوجود نہ صرف شخصی بلکہ اجتماعی آزادی مہیا کرتی ہیں- اگرچہ اسے بے مہار رکھنے کے بجائے الہامی ہدایات کی انسانی تفہیم کے ذریعے حدیں لگاتی ہیں اس کے باوجود ایک سیکولر ریاست میں مذہبی ایجنڈے کے ساتھ سیاست میں قدم رکھنا جرم ہے اور ایک اسلامی ریاست میں سیکولر نظریات رکھنے والی جماعتوں پر کوئی روک ٹوک نہیں- یہ مختلف آراء رکھنے اور ان پر عمل و ترویج کی آزادی ہی ہے کہ خود مذہبی آراء میں کئی اسکول آف تھاٹ وجود میں آ چکے ہیں کئی تو اس آزادی کو استعمال کرتے ہوئے اسلام کے نام پر اسلام کی ہی حدوں کو پھلانگتے نظر آتے ہیں- پاکستان بھی ایک اسلامی ریاست ہونے کی دعویدار ہے اور ان آزادیوں کی وجہ سے یہاں سیاست سے مذہب تک گہری تقسیم پائی جاتی ہے-

اس لیے ایک سیاسی اور مذہبی ایجنڈے پر اکثریت کو اکٹھا کرنا خاصا مشکل کام ہے- افکار کی اس تقسیم کے ساتھ ساتھ سماجی اور علاقائی تفریق بھی سیاسی سرگرمیوں کا حصہ بنتی ہے- اس لیے یہ مشکل ہوتا ہے کہ آپ کسی ایک سیاسی ایجنڈے پر بڑی اکثریت کو متاثر کر لیں- اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ جنہیں ہم پاکستان کی پاپولر سیاسی جماعتیں سمجھتے ہیں وہ کسی ایجنڈے کے بجائے مختلف علاقوں میں اس تقسیم کے سہارے اپنے الیکٹیبل پارلیمان تک لے آتی ہیں- کہیں دو جاگیرداروں کے درمیان مقابلہ تو کہیں سندھ کارڈ تو کہیں پیر صاحب اور مخدوم صاحب جیت کو اپنے نام کرتے ہیں لہذا پہلی تجویز میں ہم اسی معاملے کو سنبھالتے ہیں

اجتماعی تشخص:

پاکستانی سماج میں دو بڑے تشخص ہیں، ایک پاکستانیت اور دوسرا مسلمانیت- باقی ساری تقسیم اس کے اندر ہی آباد ہے- ایک پاپولر سیاسی جماعت کسی ایک فرقے کی نمائندہ نہیں ہو گی، کسی ایک صوبے کو پروجیکٹ نہیں کرے گی، اپنے نمائندوں کا انتخاب برادری اور کسی چھوٹی اکائی کی بنیاد پر نہیں کرے گی- وہ تمام مذہبی طبقات کو مسلمان سمجھے گی اور تمام شہریوں کو پاکستانیت کی نظر سے دیکھے گی- لیکن اس کی کامیابی کے لیے اتنا سمجھ لینا اور اس کے مطابق ایجنڈا تیار کر لینا کافی نہیں ہو گا بلکہ وہ اپنی سرگرمیوں اور منصوبوں کے ذریعے اس تشخص کو ان کی فکری اور عملی زندگی میں نمایاں کرنے کی اس حد تک کوشش کرے گی کہ باقی تمام تر تقسیم انسانی زندگی میں غیر اہم ہو جائے-

سماجی مطالعہ:

سماج کے احساسات، جذبات اور خواہشات کو جانے بغیر کوئی بھی سیاسی جماعت سماج سے نہ تو کچھ حاصل کر سکتی ہے اور نہ کچھ دے سکتی ہے- ایک عقلمند سیاسی جماعت، منصوبہ بندی سے قبل سماج کا گہرا مطالعہ کرے گی- ان کو مذہبی، سیاسی، معاشی اور سماجی پہلووں سے جاننے اور سمجھنے کی مکمل کوشش کرے گی- اور اس مطالعہ کو منصوبہ بندی کے وقت مدنظر رکھے گی-

Comments

ڈاکٹر محمد غیث المعرفہ

ڈاکٹر محمد غیث المعرفہ

ڈی وی ایم، ایم فل جینیات۔ 2012ء سے بلاگنگ سے وابستہ ہیں۔ اسلام، سائنس، جدید رحجانات اور عالمی اسلامی تحریکیں پسندیدہ موضوع ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.