آزادی نسواں یا بربادی نسواں – قاضی حارث

میرے ایک جاننے والے ہیں ان کی زندگی کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنیں لیکن مالی حالات موافق نہ ہونے کے باعث وہ ڈاکٹر نہ بن سکے البتہ ایک کامیاب استاد بنے اور اچھی زندگی گزارنے لگے. لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ بچپن کی حسرتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں. ان کی ڈاکٹر بننے کی حسرت ابھی تک اسی طرح جوان تھی. معاشی حالات تو بہتر ہوگئے تھے لیکن اب عمر کے اس حصے میں تھے کہ ہسپتال میں مریض بن کر جاتے ہوئے تو اچھے لگتے لیکن ڈاکٹر بننے کیلیئے میڈیکل کالج جاتے وہ ہرگز نہ جچتے. اپنے بچپن کی حسرت انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کو ڈاکٹر بنا کر پوری کی. اور مجھے یاد ہے کہ جب انکا بیٹا ڈاکٹر بنا تو ان کی خوشی ایسی دیدنی تھی جیسے وہ خود ڈاکٹر بن گئے ہوں.

اسی طرح ہمارے کچھ دیسی لبرلز ہیں جو عورتوں کی آزادی کی بات کرتے ہیں. ان میں سے اکثر سے بھی زیادہ لوگ وہ ہیں جن کو جوانی میں کسی نے منہ نہیں لگایا ہوتا اور مخلوط محفلوں کی حسرتیں لیئے یہ لوگ ڈھلتی عمر میں قدم رکھ دیتے ہیں. ان حسرتوں کو وہ اپنی بیوی اور بیٹیوں کو آزادی دے کر اور انکی مخلوط محافل کی داستانیں سن کر پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں.

شاید یہ مسئلہ کچھ لو اور کچھ دو کا ہوتا ہے.
جب آپ دوسرے کی عورتوں کو دیکھتے ہیں تو اپنی عورتیں بھی دکھانی پڑتی ہیں.

یہ بات سمجھ لیجیئے کہ اسلام نے عورت کو ہی پابند نہیں کیا بلکہ مرد پر بھی پابندی لگائی ہے. دونوں کو نظروں کے جھکانے کا حکم ہے. دونوں کو شرمگاہوں کی  حفاظت کی تلقین کی گئی ہے. یہ صرف عورت کو ہی کیوں آزاد کرانا چاہتے ہیں؟

میں کراچی کی ایک نجی یونیورسٹی میں ایم فل فنانس کا طالبعلم ہوں. یہاں عورت کو وہ آزادی حاصل ہے جو لبرلز چاہتے ہیں. لیکن اس آزادی کا نتیجہ کچھ یوں نکلا کہ اب لڑکوں کیلیئے لفٹ الگ اور لڑکیوں کیلیئے الگ ہے جبکہ کچھ عرصہ پہلے تک دونوں ایک لفٹ استعمال کرسکتے تھے اور ہاں پارکنگ ایریا میں بھی کیمرے نصب کرنے پڑ گئے ہیں. باقی آپ سمجھدار ہیں.

بات تو سچ یہی ہے کہ عورت کی آزادی کے عملبردار دراصل عورت کی آزادی نہیں چاہتے بلکہ اس تک رسائی چاہتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ اگر آپ کسی کے گھر میں گھسینگے تو اپنا گھر اکیلا چھوڑ کر ہی جائیں گے.

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam