دینی مدارس اور این جی اوز کے باہمی روابط - محمد عمار خان ناصر

دینی مدارس اور غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کے باہمی روابط کا معاملہ ان دنوں اعلیٰ سطحی دیوبندی قیادت کے ہاں زیر بحث ہے اور ماہنامہ ”وفاق المدارس“ کے گذشتہ شمارے میں صدر وفاق مولانا سلیم اللہ خان نے جبکہ ماہنامہ ”البلاغ“ کے حالیہ اداریے میں مولانا عزیز الرحمن نے اس ضمن میں اپنے خدشات و تحفظات کی تفصیلی وضاحت کی ہے۔ بحث کا فوری تناظر دو واقعات ہیں۔ ایک یہ کہ ایک دینی جامعہ میں کسی غیر ملکی تنظیم کے اشتراک سے ورک شاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں مبینہ طور پر کچھ ایسی باتیں کہی گئیں جن سے دینی قیادت کے مسلمہ اعتقادی مؤقف پر زد پڑتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اسلام آباد کی ایک غیر حکومتی تنظیم، ادارہ برائے امن وتعلیم (PEF) کی جانب سے، جس کے ساتھ گذشتہ کئی سال سے اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان (ITMP) کی قیادت کا قریبی رابطہ ہے اور وہ مختلف سطحوں پر دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ کے لیے تربیتی ورک شاپس بھی منعقد کر رہی ہے، مرتب کردہ ایک رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس میں پاکستان کے تعلیمی اداروں میں رائج نصابی کتب کا اس حوالے سے تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے کہ ان میں مذہبی منافرت کو فروغ دینے والا مواد کس قدر اور کہاں کہاں پایا جاتا ہے۔ رپورٹ میں ایسے مواد کی نشان دہی کے ساتھ ساتھ نصاب کی اصلاح کے لیے کچھ سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں جن میں سے، مثال کے طور پر، ایک قابل اعتراض سفارش یہ ہے کہ نصابی کتابوں میں اسلام کو واحد سچے مذہب کی حیثیت سے پیش نہ کیا جائے۔

دینی مدارس کے تشخص اور کردار کی حفاظت کے حوالے سے دیوبندی قیادت کی حساسیت بدیہی طور پر قابل فہم ہے اور اگر کوئی ایسی پیش رفت ہو رہی ہے یا ہوئی ہے جس سے اس تشخص پر زد آنے کا خطرہ ہے تو اس پر قیادت کا فکر مند ہونا بالکل فطری ہے۔ بظاہر مذکورہ دونوں واقعات میں فریق ثانی کی طرف سے بھی اپنی پوزیشن کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔ چنانچہ یہ کہا گیا ہے کہ متعلقہ دینی ادارے میں منعقد ہونے والے اجلاس میں کوئی ایسی بات سرے سے کہی نہیں گئی جو موجب اعتراض ہو (اور بظاہر یہی لگتا ہے کہ قیادت کے تحفظات کسی خاص نکتے کے حوالے سے نہیں، بلکہ فی نفسہ مدرسے کی چار دیواری میں کسی این جی او کے اشتراک سے اجلاس منعقد کرنے پر ہیں)، جبکہ ادارہ برائے امن و تعلیم کی جانب سے ایک تفصیلی وضاحت سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ہے جس کے مطابق قابل اعتراضات سفارشات اس رپورٹ کا حصہ نہیں تھے جو ادارہ برائے امن وتعلیم نے مرتب کی تھی، اور یہ کہ اس میں ان نکات کا اضافہ بعد میں اس بین الاقوامی ادارے نے اپنی طرف سے کیا ہے جس کے لیے مذکورہ رپورٹ کا مواد جمع کیا گیا تھا۔ مذکورہ وضاحت کے مطابق، PEF کی طرف سے اس پر متعلقہ ادارے سے احتجاج بھی کیا گیا ہے جس کے بعد اس ادارے نے معذرت کرتے ہوئے اپنی ویب سائٹ سے یہ رپورٹ ہٹا دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ دونوں وضاحتیں ناظرین کے سامنے ہیں اور ان کو وزن دینے یا نہ دینے کا معاملہ بہرحال کسی بھی شخص کی اپنی رائے اور صواب دید پر منحصر ہے۔

اس فوری اور وقتی واقعاتی تناظر سے ہٹ کر، زیر نظر سطور میں ہمارے پیش نظر اس معاملے کے چند مستقل اور بنیادی پہلووں پر اپنی معروضات پیش کرنا ہے۔

صورت حال یہ ہے کہ نائن الیون کے واقعے نے پوری دنیا اور خاص طور پر مسلم معاشروں میں واقعاتی و فکری سطح پر جو شدید اضطراب پیدا کیا، اس نے دین کی تعبیر اور دور جدید میں اہل دین کے معاشرتی کردار کے حوالے سے درجنوں سوالات کھڑے کر دیے جن سے سنجیدہ اعتنا خود دینی قیادت کی ذمہ داری بنتی تھی، لیکن ہم نے دیکھا کہ حالات کے دباؤ کے تحت وقتاً فوقتاً سیاسی نوعیت کے بعض بیانات جاری کرنے کے علاوہ درپیش فکری سوالات پر سنجیدہ غور و فکر کی کوئی تحریک دینی قیادت نے اپنے ماحول میں پیدا نہیں کی۔ جمہوریت اور اسلام کا باہمی تعلق، جہاد اور دہشت گردی، خلافت کا تصور اور قومی ریاستیں، مذہبی و مسلکی فرقہ واریت، نجی سطح پر جہادی سرگرمیوں کی تنظیم، مسلم معاشرے میں اقلیتوں کے حقوق ومسائل، مسلم ریاستوں کے خلاف خروج، مسلمان طبقات کی گروہی و اجتماعی تکفیر، مذہبی رواداری، بین المذاہب مکالمہ، دینی مدارس کا نصاب و نظام، قیام امن اور سماجی ہم آہنگی، خواتین کے حقوق و مسائل، توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال، غیر ذمہ دارانہ فتوے بازی کا رجحان، مذہبی مزاج میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کا نفوذ، معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین مکالمہ اور میل جیل، عسکری تحریکوں کا پیش کردہ مذہبی بیانیہ -- یہ وہ سب موضوعات ہیں جو پچھلے پندرہ سال کے عرصے میں سماج میں ہر سطح پر زیر بحث ہیں، لیکن چند استثنائی مثالوں کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس پورے عرصے میں دینی قیادت نے خود اپنے فورمز پر اور اپنے ماحول میں ان موضوعات کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع بنانے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی۔

دینی قیادت کی فکری اور معاشرتی ترجیحات کے محدود اور یک رخا ہونے اور دینی ذمہ داری کے نہایت اہم دائروں کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے وہ خلا پیدا ہوتا ہے جس کو کچھ دوسرے فورم، ادارے اور تنظیمیں آگے بڑھ کر پر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ چنانچہ گزشتہ عرصے میں، مذکورہ موضوعات پر سوچ بچار اور غور و خوض کی جو بھی کاوشیں ہوئی ہیں، ان کا محرک اصلاً دینی قیادت نہیں، بلکہ معاشرے کے کچھ دوسرے ادارے ہیں جو اس حوالے سے فکرمندی ظاہر کرتے ہوئے طبقہ علماء کو متوجہ کرنے اور اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کوئی ایسا نمائندہ فورم موجود نہیں جہاں درپیش فکری و عملی سوالات پر سنجیدہ غور و خوض کیا جاتا ہو اور اس کا قیام دینی قیادت کی دلچسپی سے یا اس کی تحریک پر عمل میں آیا ہو۔ ملی مجلس شرعی اور اس جیسے بعض دوسرے فورمز کے کار پردازان، دینی قیادت کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ایسے سب فورمز دینی قیادت کے دائرے سے باہر کھڑے چند حضرات نے اس ضرورت کا احساس کر کے قائم کیے ہیں کہ بہت سے غور طلب مسائل موجود ہیں جن میں مذہبی و دینی موقف کا سامنے لایا جانا وقت کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں گزشتہ چند سال میں درپیش فکری سوالات اور دینی قیادت کی متوقع ذمہ داری اور کردار کے حوالے سے نمایاں علمی و فکری سرگرمیوں کا ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو یہ منظر سامنے آتا ہے:
- 2011ء میں اسلام آباد میں تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علمائے کرام کا ایک دو روزہ اجتماع ”پرامن معاشرے کے قیام میں علماء کا کردار“ کے عنوان سے منعقد ہوا۔ اس کے انعقاد کا اہتمام اسلام آباد کے ایک غیر حکومتی ادارے، پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز نے کیا اور ان مجالس کی انگریزی میں شائع ہونے والی روداد: (صفحاتThe Role of Ulema in Promotion of Peace and Harmony in Society (85 ہمارے سامنے ہے۔
- 2012ء میں تکفیر اور خروج جیسے حساس اور اہم موضوع پر مختلف دینی رجحانات کے نمائندہ ممتاز اہل فکر پر مشتمل متعدد مجالس مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا۔ ان مجالس کے انعقاد اور ”مسئلہ تکفیر و خروج“ (247 صفحات) کے عنوان سے ان کی تفصیلی روداد کی اشاعت کا اہتمام بھی مذکورہ ادارے (PIPS) نے کیا ہے۔
- 2014ء میں اسی ادارے نے ”اسلام، جمہوریت اور آئین پاکستان“ کے موضوع پر اہل دانش کی مجالس مذاکرہ کا اہتمام کیا اور ان کی روداد مذکورہ عنوان ہی کے تحت 144 صفحات پر مشتمل کتاب کی صورت میں شائع کی گئی ہے۔
- اکتوبر 2014ء میں ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد کے آڈیٹوریم میں ”اسلام اور مغرب کے مابین افہام وتفہیم“ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کا اہتمام اسلامی نظریاتی کونسل اور اقبال مرکز برائے تحقیق ومکالمہ (IRD) نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔
- 2015ء میں PIPS نے مختلف مکاتب فکر اور مذاہب کے نوجوان علماء کے لیے سماجی ہم آہنگی کے موضوع پر تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا اور ان کی روداد ”سماجی ہم آہنگی کیسے ہو؟“ (204 صفحات) کے زیر عنوان شائع کی گئی ہے۔
- 2015ء میں ”تعلیم امن اور اسلام“ (128 صفحات) کے عنوان سے تعلیمی اداروں، خاص طور پر دینی مدارس کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اعلیٰ ثانوی درجات کے لیے ایک درسی کتاب منظر عام پر آئی ہے جسے تمام مکاتب فکر کے اکابر علماءکی تائید اور نظر ثانی کے بعد شائع کیا گیا ہے۔ اس کی تیاری اور اشاعت کا بیڑہ ادارہ امن و تعلیم اسلام آباد (PEF) نے اٹھایا ہے۔
- مارچ 2016ء میں فیصل آباد میں ”قیام امن میں علماء، ائمہ اور خطباء کا کردار“ کے عنوان پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس کا انتظام جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ علوم اسلامیہ نے کیا تھا۔
- مارچ 2016ء میں ”درس نظامی، وفاق المدارس العربیہ کے نصاب کا تنقیدی جائزہ، پس منظر، تجزیہ اور سفارشات“ (96 صفحات) کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کی تیاری میں مولانا مفتی محمد زاہد، خورشید احمد ندیم اور راقم الحروف نے حصہ لیا۔ یہ رپورٹ بھی ایک اور غیر حکومتی ادارے پیس ایجوکیشن اینڈ ڈویلپمنٹ فاونڈیشن (PEAD) نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف کے تعاون سے شائع کی ہے، اور اپنی نوعیت کے پہلے باقاعدہ مطالعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
- جولائی 2016ء میں مری میں مذہبی فرقہ واریت اور اس کا سدباب کے عنوان پر مختلف مکاتب فکر کے علماء کے لیے ایک پانچ روزہ ورک شاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں ہونے والے تفصیلی بحث و مباحثہ کی روشنی میں فرقہ وارانہ بیانیے کے نمائندہ نکات مرتب کیے گئے۔ اس ورک شاپ کے انعقاد کا اہتمام اسلام آباد کے ادارہ برائے امن وتعلیم (PEF) نے اقبال مرکز برائے تحقیق ومکالمہ (IRD) کے اشتراک سے کیا۔
- ستمبر 2016ء میں گلگت میں ”رواداری اور سماجی ہم آہنگی“ کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد عمل میں آیا جس کا اہتمام قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی گلگت نے اقبال مرکز برائے تحقیق و مکالمہ، اسلام آباد کے اشتراک سے کیا۔
- حال ہی میں دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے ایک راہ نما کتاب ”تدریب المعلمین“ (308 صفحات) کے عنوان سے شائع ہوئی ہے جس کی تصنیف و تالیف مدارس کے اساتذہ اور دوسرے تعلیمی ماہرین نے مشترکہ طور پر کی ہے۔ اس اہم ضرورت کی طرف توجہ دینے کی سعادت بھی ایک غیر حکومتی ادارے، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کو حاصل ہوئی ہے۔

دینی مدارس کے فضلاء، اساتذہ اور ائمہ وخطباء کے لیے مختلف سطحوں اور دائروں میں ایسے تربیتی پروگراموں کا انعقاد جن کا مقصد ان کے فکری افق کو وسیع کرنا، ان کے اور دوسرے معاشرتی طبقات کے مابین فاصلوں کو کم کرنا اور فضلائے مدارس کو نئے تعلیمی مواقع اور امکانات سے متعارف کروانا نہ صرف معاشرے کی بلکہ خود دینی مدارس کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے بھی ہمیں بنیادی طور پر وہی ادارے سرگرم نظر آتے ہیں جن کا مدارس کے روایتی دائرے سے تعلق نہیں۔ اس ضمن میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ذیلی اداروں دعوہ اکیڈمی، شریعہ اکیڈمی، اقبال مرکز برائے تحقیق و مکالمہ کے علاوہ بعض قومی جامعات کے شعبہ ہائے علوم اسلامیہ اور کچھ غیر حکومتی تنظیموں مثلاً انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اسٹڈیز، ادارہ برائے امن وتعلیم اور پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔

اس کے بالمقابل اس سارے عرصے میں مختلف دینی اداروں کے نمائندہ مذہبی جرائد کی فائل اٹھا کر دیکھ لیجیے، آپ کو پوری دنیا میں اسلام کے خلاف ہونے والی ہر سازش اور مسلمانوں پر ہونے والے ہر ظلم کا ذکر ملے گا، لیکن جو سوالات مذہبی قیادت سے کسی جواب یا کردار کا تقاضا کرتے ہیں، ان کا بھولے سے بھی کوئی ذکر نہیں ملے گا۔ مذہبی قیادت کا ذہنی رویہ، یہ ہے کہ چند سال قبل جب انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی کے زیر اہتمام بین الاقوامی قانون انسانیت اور اسلامی قوانین کے موضوع پر ایک علمی مجلس میں، جس میں شرکاءکی غالب تعداد علماء اور اسلامی قانون کے اساتذہ کی تھی، راقم نے بعض روایتی فقہی تعبیرات پر کچھ سوالات غور و فکر کے لیے پیش کیے تو صدر مجلس جناب مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے اپنے صدارتی کلمات میں اس پر باقاعدہ ردعمل ظاہر فرمایا اور کہا کہ اس طرح کے سوالات صرف اکابر علماء کی کسی محدود مجلس میں زیر غور لائے جا سکتے ہیں، اس طرح کھلی مجالس میں (یعنی دینی اداروں کی مستند چار دیواری سے باہر) ان پر گفتگو کرنا درست نہیں۔ اسی طرح چند ماہ قبل جب یہ اطلاع کسی ذریعے سے سوشل میڈیا پر پہنچ گئی کہ جامعہ دارالعلوم کراچی کی تحریک پر یہ مسئلہ چند بڑے مراکز افتاء کے زیر غور ہے کہ کیا قربانی کے وجوب کے لیے فقہی نصاب کی تعیین میں چاندی کے بجائے سونے کو معیار قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں تو دارالعلوم کے ذمہ داران نے اس پر خفت محسوس کی اور ایک گونہ ناراضی کا اظہار کیا گیا کہ اہل افتاء کے کسی نتیجے تک پہنچ جانے سے پہلے اس بحث کی اطلاع عوام تک کیوں پہنچائی گئی۔ گویا یہ ایک علمی و فقہی مسئلہ نہیں بلکہ کوئی پر از خطر سیاسی قضیہ تھا جسے بیک ڈور ڈپلومیسی کے طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے پر جناب مولانا محمد تقی عثمانی صاحب نے اپنے درس حدیث میں ایک سوال کے جواب میں ایسی بات ارشاد فرمائی جس سے سلمان تاثیر کے قتل کا ناجائز ہونا ثابت ہوتا ہے تو اس کی اطلاع سوشل میڈیا پر آ جانے پر بھی دار العلوم کے متعلقین نے خفگی کا اظہار کیا اور یہ کہا گیا کہ یہ بات میڈیا پر تشہیر کے لیے نہیں، صرف درس گاہ کے ماحول کو مدنظر رکھ کر کہی گئی تھی۔

دینی طبقوں کا یہی ذہنی رویہ ہے جس کے زیر اثر وہ ماحول کے دباؤ کے تحت سیاسی ضرورتوں کی حد تک بالائی سطح پر تو بعض ایسے اقدامات کر لیتے ہیں جن سے مسلکی رواداری کا اظہار ہوتا ہو، لیکن اس چیز کو خود اپنی ترجیحات میں کوئی جگہ دینے یا اپنے داخلی ماحول میں ان موضوعات پر غور و فکر کو فروغ دینے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ مثلاً مختلف مکاتب فکر سے وابستہ تعلیمی وفاقوں کی قیادت بالائی سطح پر تو اتحاد و اشتراک اور مسلکی رواداری کا اظہار کرتی ہے، اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے عنوان سے پانچوں وفاقوں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم بھی قائم کیا گیا ہے، لیکن رواداری، باہمی میل ملاپ اور مکالمہ کا ماحول زیریں سطح پر پیدا کرنے میں دینی قائدین نے اب تک کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ دینی قائدین خود تو ایک دوسرے کے ساتھ شخصی اور دوستانہ روابط بھی رکھیں اور تحفظ و دفاع کے مشترکہ مقصد کے لیے مل جل کر جدوجہد کرنے کا طریقہ بھی اختیار کریں، لیکن خود ان دینی اداروں کی چار دیواری کے اندر بین المسالک مکالمہ اور تبادلہ خیال کی گنجائش روا نہ رکھی جائے؟ اگر قائدین مل بیٹھ کر اپنے اپنے مسلک پر قائم رہتے ہوئے تبادلہ خیال کر سکتے ہیں اور سوسائٹی کے سامنے مسلکی رواداری کا پیغام پیش کرنے کو درست سمجھتے ہیں تو نچلی سطح پر مدارس کے اساتذہ وفضلاء کے لیے اسی قسم کا ماحول شجر ممنوع کیوں ہے؟

ہمارے نزدیک اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دینی قیادت اپنے حلقوں کا ایک روادارانہ چہرہ معاشرے کے سامنے پیش کرنے کو ایک عملی مجبوری یا ضرورت سمجھتی ہے اور اس درجے میں ان کے Constituent حلقے بھی ان کے مل بیٹھنے اور دنیا کے سامنے ایک مثبت تصویر پیش کرنے کو گوارا کر لیتے ہیں، لیکن اپنی داخلی نفسیات کے لحاظ سے ان سب حلقوں میں مسلکی اور گروہی سوچ بے حد پختہ ہے اور دوسرے مسالک کے لوگوں کے ساتھ اختلاط یا کھلے ماحول میں گفتگو اور مکالمہ کو مسلکی پختگی کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

اسی ذہنی رویے کا اظہار ہم اس پہلو سے بھی دیکھتے ہیں کہ دینی قیادت مختلف سماجی موضوعات (مثلاً خواتین کے حقوق، اقلیتوں کو درپیش مسائل، مذہبی رواداری، مکالمہ بین المذاہب وغیرہ) پر دوسرے اداروں اور تنظیموں کی طرف سے منعقد کردہ پروگراموں میں تو شریک ہوتے ہیں اور اپنے زاویہ نظر سے ان مسائل پر اسلامی نقطہ نظر بھی پیش کرتے ہیں، تاہم ایسے موضوعات پر خود اپنے اداروں میں سوچ بچار کو فروغ دینے یا کسی مکالماتی مجلس کے انعقاد میں کوئی دلچسپی محسوس نہیں کرتے، بلکہ یہ مسائل چونکہ عموماً معاشرے کے لبرل حلقوں کی طرف سے اٹھائے جاتے ہیں، اس لیے مدارس کے ماحول میں ان عنوانات پر زیادہ گفتگو کو بھی شک و شبہے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ مسائل واقعتا غور طلب ہیں اور ان میں دینی طبقے کا ایک کردار بنتا ہے اور اس حوالے سے کسی دوسرے فورم کی طرف سے منعقدہ مجالس میں مختلف الخیال حضرات بلکہ دوسرے مذاہب کی نمائندگی کرنے والے قائدین کے ساتھ شرکت میں بھی کوئی مضائقہ نہیں تو ایسی کوئی مجلس کسی دینی مدرسے کے حدود میں کیوں منعقد نہیں ہو سکتی؟ مثلاً ناروے کی ایک تنظیم ورلڈ کونسل آف ریلیجنیز کے زیر اہتمام 2004ء میں اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں ایک بین المذاہب کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس میں مذہبی رواداری کے اظہار کے لیے ہال میں آویزاں بینرز پر قرآن مجید کے ساتھ ساتھ بائبل کی آیات بھی درج تھیں، اور جہاں تک یاد پڑتا ہے، نشست کے آغاز میں قرآن مجید کے علاوہ بائبل کی آیات کی بھی تلاوت کی گئی تھی۔ اس مجلس میں پورے ملک سے نہ صرف دینی مدراس کے علماء و طلبہ کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی، بلکہ مولانا سلیم اللہ خان اور مولانا محمد تقی عثمانی سمیت اعلیٰ ترین دیوبندی قیادت نے بھی شرکت کی۔ سوال یہ ہے کہ اگر مذہبی رواداری کے اظہار کا یہ انداز درست اور وقت کی ضرورت ہے، اور اس میں دینی قیادت کی شرکت ایک مثبت پیغام کا درجہ رکھتی ہے، تو یہی نیک کام انھی التزامات کے ساتھ کسی دینی ادارے کی چار دیواری کے اندر کیوں نہیں کیا جا سکتا؟

آپ تجزیہ کر لیجیے، فرق کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں نکلے گی کہ دینی قیادت اس طرح کے معاملات کو اپنی اصولی ذمہ داری یا سماجی ضرورت کے نقطہ نظر سے نہیں، بلکہ صرف سیاسی مصلحت کے نقطہ نظر سے دیکھتی ہے، جس کا تقاضا دوسری جگہوں پر جا کر میٹھی میٹھی باتیں کر دینا تو بنتا ہے، لیکن اپنے گھر میں دوسروں کو بلا کر ان کی کڑوی کڑوی باتیں سننا اور اپنے اساتذہ و طلبہ کے ذہنوں میں سوالات کی پیدائش کا خطرہ مول لینا ہرگز نہیں بنتا، کیونکہ انھیں ارادتاً ایک محدود فکری ماحول میں قید رکھنا دینی قیادت کی بنیادی ترجیح ہے۔

مدارس اور این جی اوز کے باہمی روابط کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا ایک معروضی جائزہ لینا بہت اہم ہے، اور اس ضمن میں غیر مستحسن فکری اثرات کے علاوہ اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ان روابط کے ساتھ وابستہ مادی مفادات دینی طبقوں اور خاص طور پر ان کی نمائندہ قیادت پر کس طرح کے اثرات مرتب کر رہے ہیں، لیکن ہمارے نزدیک اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس کے داخلی ماحول میں معاشرے کے زندہ فکری و عملی مسائل پر غور و خوض اور دوسرے معاشرتی طبقات کے ساتھ مکالمہ اور تعامل کی فضا قائم کی جائے اور اس خلا کو پر کیا جائے جسے اس وقت دوسرے علمی و فکری ادارے اور بعض غیر حکومتی تنظیمیں پر کر رہی ہیں۔ جب تک دینی قیادت خود اس ضرورت کا ادراک اور اس کی تکمیل کا اہتمام نہیں کرتی، اس وقت تک ہمارے زاویہ نظر سے یہ ادارے اور تنظیمیں، طریق کار اور ترجیحات کے بہت سے پہلوؤں سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود، ایک اہم معاشرتی ضرورت کو پورا کر رہی ہیں اور ان کی سرگرمیوں کا تنقیدی و اصلاحی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ان کے کام کے مفید اور مثبت پہلوؤں کا بھی پورا اعتراف کیا جانا چاہیے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • قتل انسانیت ۔۔۔
    قتل کی نوبت اخیر کیوں اتی ہے ۔کیا قتل ہی آخری حل ہوتا ہے ۔قتل کر دینے کے بعد کیا معمولات زندگی ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔
    انسانیت کا پہلا قتل قا بیل نے ہابیل کا کیا ۔اس کے بعد قتل کی یہ رسم چل نکلی ۔اس پہلے قتل کے بعد قیامت کے دن تک جتنے بھی قتل ہونگے انکا گناہ قابیل کے سر بھی ہے ۔آج دنیا میں ہر روز بے حساب لوگ قتل ہوتے ہیں ۔لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ انسان کو انسان کی جاں لینے کا حق کس نے دیا ۔
    قتل کی سب سے بڑی ایک وجہ برداشت کی کمی اور ایمان کی کمی ہے ۔قانون کو ہاتھ میں لینے والے افراد کا اللّه کی ذات پہ کامل ایمان نہیں ہوتا ۔وہ خود انسان کو مار کے حالات درست کرنے کی شی کوشش کرتے ہیں ۔لیکن اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ۔ایک انسان ہی نہیں قتل کیا جاتا ۔اسکے ماں باپ بہیں بھائی بیوی بچے والدین بھی ٹوٹ جاتے ہیں ۔ان سب کی تکلیف کا ذمدار وہ شخص ہوتا ہے جس نے قتل کیا ۔دنیا میں چاہے ہی وہ بچ جاے لیکن قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو گسیتتا ہوا اللّه کے سامنے لے کے اے گا اور التجا کرے گا کہ یا الہی اس شخص نے میری جاں لی تھی تو میرا انصاف کر ۔جاں لینے کا حق تجھے حاصل تھا ۔پھر اللّه تعالیٰ اس شخص کو دوزخ کے ایندھن میں پھینک دیں گے ۔اللّه کا انتقام انسانوں کے انتقام سے بہت زیادہ بڑھ کے ہوتا ہے ۔