کوا حلال ہے یا حرام والوں کے جانشین - اسری غوری

کہا جاتا ہے کہ جب منگولوں‌ نے بغداد کو تاراج کیا تو اس وقت لوگ اس پر بحث فرما رہے تھے کہ کوّا حلال ہے یا حرام!

ہمیشہ سے یہ سوال سر اٹھاتا رہا کہ اس وقت جبکہ مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی اور ایک عظیم الشان سلطنت کی باقیات کو گھوڑوں کے کھروں تلے بےدردی سے روندا جا رہا تھا، تو وہ کون اور کیسے لوگ تھے جو ایسے نازک وقت میں اس گتھی کو سلجھانے اور اس بحث کو نمٹانے کی فکر میں لگے ہوئے تھے؟

مگر آج جب اک جانب ہر روز سکرین پر لہو میں ڈوبی لاشیں دکھائی دیتی ہیں، اپنے ہی گھروں میں بلکتے معصوم بچے منوں کنکریٹ تلے دبے نظر آتے ہیں، نسلوں کی نسلیں مٹ رہی ہیں، عین اسی وقت امت کے دانشور روزانہ کی بنیاد پر ’’کوا حلال یا حرام‘‘ کے فیصلے کر رہے ہیں، اور وافر مقدار میں میسر تماش بینوں کو محظوظ ہونے کا سامان مہیا کر رہے ہیں، دانشوری کے سجے اس بازار میں صدیوں پہلے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے۔

ایک بحث اب ’عورت‘ اور ’چلغوزے‘ کی چل نکلی ہے. ’عورت‘ جس کے معنیٰ ہی ’چھپی ہوئی‘ کے ہیں، ایک جانب جس کا ذکر رب کائنات بھی کرتا ہے، تو ایسے کہ ’’اے نبی ﷺ اپنی بیویوں بیٹیوں اورمسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کا پلو لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اورانہیں ستایا نہ جائے۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
یعنی اس رب کو بھی اس کے ستائے جانے کی فکر ہے، اور اسی فکر میں وہ اسے ہدایت کر رہا ہے کہ تم باہر نکلو تو ایسے اور ایسے نکلنا۔ دوسری جانب ہادی امت ﷺ اونٹ چلانے والے کو ہدایت کرتے ہیں ’’انجشہ سنبھل کے، آبگینے ہیں یہ‘‘ یعنی شیشے جیسی نازک ہستیاں ان اونٹوں پر بیٹھی ہیں۔

سوچتی ہوں کہ عورت آج اس ’مرد‘ نامی اس مخلوق کے ہاتھوں کیسے کیسے حیلوں بہانوں سے ستائی جا رہی ہے، اور کیسی بےدردی سے ان آبگینوں کو توڑا جا رہا ہے. مرد کا اپنا وجود ایک عورت ہی کے مرہون منت ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ جس دن اسے اپنی مردانگی کا ادراک ہوتا ہے، اسی دن سے وہ اس مردانگی کے ڈنک سے کبھی کسی سڑک اور کبھی کسی کنارے اور گلی محلے بازار میں کھڑے ہوکر راہ سے گزرتی اور دکھائی دیتی اسی بنت حوا کو زخمی کرتا ہے، دسیوں عورتیں کبھی اس کی زبان سے، کبھی آنکھوں اور کبھی اس کی غلیظ سوچوں سے زخمی ہوتی رہتی ہے، اور اس کا اختتام تب ہوتا ہے جب وہ قبر میں جا پہنچتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عبایا اور حجاب، چند گزارشات - آصف محمود

محلوں گلیوں کالج کے گیٹ اور بازاروں سے ہوتا ہوا یہی مرد اب سوشل میڈیا جیسا ’برہنہ‘ میدان مل جانے پر تو ایسا باغ باغ نظر آتا ہے (محاورہ یاد آیا ہے ’جامے سے باہر ہونا‘ جو لگتا ہے کہ ایسے ہی کسی موقع کے لیے کہا گیا) کہ نہ ہی پوچھیے. کسی کی بھی عزت کو لمحوں میں تار تار کرکے رکھ دیجیے کہ یہ یہاں جنگل کا قانون ہے، اور ہر ایک کا اپنا جنگل ہے، اور وہ خود ہی اس جنگل کا تنہا بادشاہ، سو اس سوشل میڈیا کے تو کیا ہی کہنے۔

عورت کے ساتھ ’مال مفت دل بے رحم والا سلوک‘ ہر طبقہ کی جانب سے کیا گیا. اس کی ناقدری میں ہر طبقے نے الا ماشاءاللہ بھر پور حصہ لیا اور ’سب سے پہلے میں‘ کی دوڑ میں بھاگتا نظر آیا۔ اگر آزادی نسواں کے علمبرداروں نے شیونگ کریم کے اشتہار سے لے کر موٹر بائیک کی ٹنکی تک پرعورت کو بٹھانا ہی اسی کی آزادی بنا دیا تو دوسری جانب علاماؤں کی دیواروں پر ’ہم کسی سے کم نہیں‘ کا بڑا سا بل بورڈ نظر آتا ہے. عورت کا نام آتے ہی ایسے ایسے ایمان والوں کی ایمانیاں ان کے جبوں اور دستاروں سے ابل ابل کر ان کی دیواروں پر لٹک پڑی ہیں کہ اللہ کی پناہ۔

کبھی کسی نے سوچا کہ عورت پر کسے جانے والے جملے و لطیفے جن کو اپنی دیواروں پر چند لائکس کے لیے ٹانک دیا جاتا ہے، اور کمنٹس سمیٹنے کے لیے اچھال دیا جاتا ہے، یہ کہاں سے آتے ہیں؟ ان کا موجد بھی یہی ’مرد‘ ہی ہے جو عورت کے بطن سے جنم لیتا اور اسی عورت پر جملے کستا ہے، اسی عورت کے وجود میں اپنے وجود کی آگ کو ٹھنڈا کرتا اور چوارہے پر اپنے جیسوں کے سامنے اسی عورت پر بھبتیاں کستا، اسکا ٹھٹھا اڑاتا ہے، اور اس جیسے بیسیوں ایسی پوسٹوں پر مکھیوں کی طرح بھنبھناتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ بس فرق ہے تو صرف اتنا کہ ایک نے عورت کو دین کے نام پر زرخرید غلام بنالیا تو دوسرے نے آزادی کے نام پر اس کی عزت کے پرخچے اڑا ڈالے۔ عورت کو گوشت پوست کا احساسات اور جذبات رکھنے والا انسان دونوں نے نہیں سمجھا.

یہ بھی پڑھیں:   تعلیمی اداروں میں حجاب پر سیکولر طبقے کی چیخ و پکار - محمد عاصم حفیظ

جب یہ کہتے ہیں کہ ’عورت‘ آج قبر میں بھی محفوظ نہیں تو ساتھ یہ بھی بتا دیا کیجیے کہ یہ اسی ’مرد‘ کی وجہ سے محفوظ نہیں، ایک چلغوزہ بنا دیتا ہے تو دوسرا کہتا ہے کہ اسے چھلے ہوئے چلغوزے ہی پسند ہیں، کیا تشبیہ اور کیا استعارہ ہے.

خدا ان کو ہدایت دے کہ یہ اپنی اپنی ماؤں کی کوکھ کی ہی لاج رکھ لیں تو عورت کے لیے کوئی جملہ کوئی لفظ نکالتے ہوئے سو سو بار سوچیں۔ ایک احسان کر دیجیے اس ’عورت‘ کے لیے استعارہ آقا کریم دے گئے تھے ’آبگینے‘ جو سمجھ سکیں تو اس استعارے کو سمجھ لیجیے اور اس پر عمل بھی کیجیے۔

اور کرنے کا کام اس وقت یہ نہیں کہ آپ قوم کو عورت، چلغوزہ یا مونگ پھلی کی بحث میں الجھائیں. اس وقت امت کی بیٹیوں کی عصمتوں کو بچانے کے لیے ابن قاسم تیار کیجیے، اپنی صفوں میں کوئی ایوبی پیدا کیجیے، ایسا نہ ہو کہ آپ کا نام بھی ابن قاسم کی جگہ انھی کوے کے حلال و حرام والوں کے جانشینوں میں لکھا جائے.

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.