کیا کوئی رجل رشید باقی نہ رہا - انعام مسعودی

اس طرح کے فیصلے پر لب کشائی کے نتیجے میں اگر کسی کو قابل گردن زدنی گردانا جاتا ہے یا پھانسی کا سزاوار، تو بخدا یہ بخوشی قبول ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ایک حاضر سروس جج کی اہلیہ کے تشدد سے ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی طور پر مضروب ہونے والی دس سالہ طیبہ کے والدین کو ایک دوسری عدالت کے جج کے حضور راضی نامہ کرنا پڑا۔ اس پر لب کشائی نہ کی جائے تو کیا کیا جائے؟

پھول سی بچی کو تشدد کا نشانہ بنانے والی خاتون کی ایک ہی سماعت میں ضمانت اور جسٹس راجہ آصف محمود کی عدالت میں راضی نامہ بھی ہوگیا۔ اس کم عمر بچی پر اس قدر بہیمانہ تشدد کرنے والے والی مالکن کے لیے ’ڈائن صفت مالکن‘ کے علاوہ اگر کو ئی موزوں لفظ ملے تو خاکسار کو ضرور اطلاع دی جائے۔ تشدد کرنے والی کے بارے میں بہ اصرار یہ اطلاعات ہیں کہ وہ ایک حاضر سروس جج کی اہلیہ ہیں۔ ملازموں کی اوقات کیا ہوتی ہے، یہ ہم نے کئی بار میڈیا پر بھی دیکھا اور اپنے اردگرد بھی دیکھتے رہتے ہیں۔ میں نے کئی بار اپنے محلے میں ملازمین کے ساتھ مالکوں کا ناروا سلوک دیکھا اور اگر کبھی کسی کو توجہ دلائی تو یہ جواب بھی ملا کہ جناب یہ ’ہڈ حرام‘ ہیں، یہ الزام لگانے والوں کی اگر تحقیقات کی جائیں تو بہت سوں کے نہ صرف اپنے ہڈ حرام ہوں گے بلکہ ’بال، چمڑی اور ناخن حتیٰ کہ سانسیں‘ تک حرام پر منحصر ملیں گے۔ اور بعض کہتے ہیں ’او جی، ہم ان کی ضروریات کا بھی خیال رکھتے ہیں‘ اگر ذرا اس پر تحقیق کی جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ پچھلے سال عید کے موقع پر بیٹی کے جہیز اور عیدی کے طور پر اکٹھا کر کے ایک سوٹ دیا تھا۔ یا پھر کسی کے ہاں فوتگی پر چھٹی دی تھی اور پورے ایک ہفتے کا راشن بھی دیا تھا وغیرہ وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹیکس دیجیے لیکن ٹھہریے، پہلے رشوت دیجیے - آصف محمود

اگراس کیس کو دیکھا جائے تو تفصیلات کے مطابق دس سالہ طیبہ ایک جج کےگھر پر ملازمہ تھی لیکن عملاً ایک زر خرید باندی، کیونکہ اس بیچاری سے جب بھی کوئی غلطی ہوتی تو ڈائن مالکن اس کو سزا دیتی تھیں۔ ا یسی ہی غلطی طیبہ سے ایک بار پھر ہوئی تو ڈائن مالکن نے اس کے ہاتھ جلائے اور پھر ایک ڈوئی اس کے منہ پر دے ماری جس سے اس بچی کی آنکھ زخمی ہوگئی۔ یوں تو یہ کوئی بڑی خبر نہ تھی مگر برا ہو سوشل میڈیا کا کہ خبر وائرل ہو گئی۔ مجبورا ً قانون کو حرکت میں آنا پڑا مگر جب معاملہ ایک جج کی اہلیہ کا ہو تو تھانیدار اور قانون دونوں مل کر بھی کیا کرسکتے تھے۔ بچی کا باپ بےچارہ ایک غریب ابن غریب۔ اس کی مجال کہ پرچہ کٹواتا، تھانیدار صاحب اس کے ہاتھ نہ کٹوا دیتے۔ چنانچہ جب منگل کی صبح جسٹس آصف محمود نے عدالت سجائی تو طیبہ کا باپ اپنی بیوی اور بہن کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ راضی نامہ پہلے سے تیار تھا جس میں کہا گیا تھا کہ بچی پر تشدد کا واقعہ بےبنیاد ہے اور ہم تینوں نے ’ڈائن باجی‘ کو اللہ کی رضا کی خاطر معاف کر دیا ہے۔ اگر معاملہ واقعی بے بنیاد تھا تو اللہ کی رضا کی خاطر معافی، چہ معنی دارد۔

ایک جج کی بیوی کے خلاف پیش کردہ اس مقدمے میں ایک دوسرے جج کے سامنے تینوں نے ’برضا و رغبت‘ انگوٹھے لگائے اور جج صاحب نے فوری طور اپنے پیٹی بند بھائی کی اہلیہ کی ضمانت منظور کر لی۔ یہ پورا واقعہ اپنی تفصیلات کے ساتھ اخبارات میں شائع ہوچکا ہے.

جرائم اور معاشرتی خرابیا ں ہر ملک میں پائی جاتی ہیں، بلکہ بہت سارے جرائم میں مغربی ممالک ہم سے بہت آگے بھی ہیں، لیکن رونے پر مجبور کرنے والا پہلو ہمارے عدالتی نظام کا ہے۔ پچھلے دنوں عدالت عالیہ لاہور کےچیف جسٹس نے مختلف سطحوں پر فیصلوں کے انتظارمیں زیرکار اور عملاً التوا کا شکار مقدمات کے کچھ اعداد و شمار اور عدالتی نظام میں بہتری کی موجودگنجائش کے بارے میں بات کی اور اس کی خبریں سننے کو ملیں تو کچھ اطمینان ہوا کہ ابھی ہمارے ہاں وہ ’رجال الرشید‘ موجود ہیں کہ جن سے اچھے کی توقع رکھی جا سکتی ہے یا کم از کم یہ کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی اپنی سی کوشش ضرور کر رہے ہیں۔ لیکن اس طرح کے ظلم عظیم پر نہ تو سپریم کورٹ نے کوئی ازخود نوٹس لیا نہ سیاستدانوں کے ماتھے پر کوئی شکن آئی، محراب و منبر کا اس طرح کے واقعات سے کیا لینا دینا۔ مولویوں اور مذہبی طبقے پر تنقید کی گنجائش نہ ہونے کی بنا پر موم بتی مافیا نے بھی اسی میں عافیت جانی کہ اسے نہ چھیڑا جائے۔ میڈیا کے ہاں بھی اس معاملے پر اب مزید کیا ریٹنگ ملنی تھی سو وہ بھی رفتہ رفتہ بھول اور بھلا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹیکس دیجیے لیکن ٹھہریے، پہلے رشوت دیجیے - آصف محمود

سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک کی ماؤں نے حق و انصاف کی بات کرنے والے مرد جننا بند کردیے؟ اس ملک کی بار کونسلز جو اپنی حرکتوں کی وجہ سے اردو زبان کی لغت میں کم از کم ایک مزید لفظ یعنی ’وکلا گردی‘ کا اضافہ کر چکی ہیں، کیا ان کے ہاں کوئی مرد جلیل اور مرد حق باقی نہیں رہا؟ کیا اس ملک کی پنپتی اور پھلتی پھولتی میڈیا انڈسٹری اتنی بے وقعت ہے کہ اس نوعیت کے معاملات میں کوئی کردار ادا نہ کرسکے؟

Comments

انعام مسعودی

انعام مسعودی

انعام الحق مسعودی ماس کمیونیکیشن میں گریجوایشن کے ساتھ برطانیہ سے مینجمنٹ اسٹڈیز میں پوسٹ گریجوایٹ ہیں۔ سوشل سیکٹر، میڈیا اور ایڈورٹائزنگ انڈسٹری سے منسلک ہیں۔ برطانیہ میں 5سالہ قیام کے دوران علاقائی اور کمیونٹی ٹی وی چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز سے منسلک رہے ہیں۔ چیرٹی ورکر، ٹرینر اور موٹی ویشنل اسپیکر ہونے کے ساتھ قلمکار بھی ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.