عورت کے مجرم تم ہو - ابوبکر قدوسی

جب پاکستان بنا تو حکومت میں سب لبرل تھے.
کابینہ مکمل غیر مذہبی بلکہ کسی حد تک مذہب بیزار تھی.
سکندر مرزا نشے میں دھت رہتا اور اس کی بیوی ایک آزاد خیال اور لبرل عورت تھی.
ایوب خان کا مذہب سے دور کا علاقہ بھی نہ تھا.
یحیی خان نشے کا عادی اور طوائفوں کی باہوں میں رات دن کرتا.
بھٹو منہ سے کہتا تھا کہ تھوڑی سی پیتا ہوں.
جنرل ضیا اسلام کا نام ضرور لیتا ، نمازیں پڑھتا .. اور بس
بے نظیر اسی بھٹو کی بیٹی تھی .. اور مکمل لبرل کمیونٹی کی نمائندہ.
نواز شریف کسی روز بھی مذہب کے نمائندہ نہ رہے .. ان کی کابینہ ہمیشہ لبرل اور سیکولر افراد پر مشتمل رہی.
رہے مشرف...وہ تو آپ کے مائی باپ ہیں، ان کا کیا ذکر کیا جائے.
زرداری صاحب تو ہیں ہی ڈالر کیونوں کے سرپرست .... لبرل کیا شرافت سے بھی دور.

بیوروکریسی ہمیشہ سے لبرل اور سیکولر حضرات کے قبضے میں رہی. اور پالیسیاں انہوں نے ہی تشکیل دیں کہ جو عورت کو ننگا نچانے پر ہی مصر ہیں.
فوج کا کلچر بھی مذہبی نہیں کہا جا سکتا. معاملہ نازک ہے لب آزاد نہیں.
عدلیہ ... مکمل لبرل اور کسی حد تک مذہب بیزار ... قوانین انگریز کے تاحال جاری
وکلاء ... سب تمہارے اور مذہب بیزار .. الا ماشاء اللہ
صحافت اور میڈیا میں تو قبضہ ہی لبرل حضرات کا ہے. مولوی کا تو وہاں داخلہ ہی ممنوع ہے. ہاں اگر کوئی ڈرامہ رچانا ہو تو.
اخبارات کے صفحات گواہ ہیں جتنا عورت کو انہوں نے ننگا کیا، اتنا تو بازار حسن کے دلالوں نے بھی نہ کیا .. دوپہر کے اخبارات ملاحظہ کیجیے.
ٹی وی چینل ... سب لبرلز کے ہیں ... جو چاہتے ہیں دکھاتے پراپیگنڈہ کرتے ہیں.

ان سب اداروں میں اگر کبھی بھولے سے مولوی آ بھی گیا تو اس کی حالت وہی ہوتی تھی اور ہے جو ڈیفنس کے رہائشی کسی امیر ترین خاندان کی شادی میں کسی غریب رشتے دار کی آمد .. .بے حیثیت، غیر اہم مگر سب سے نمایاں.
اپنی عیاشی کے لیے ان کے دانشور، انسانی حقوق کے نام لیوا، عورت کی آزادی کے نام پر روشن خیال بن جاتے ہیں.. دوسروں کی بیٹیاں ان کو ننگی دیکھنا پسند ہوتی ہے. ان کی تصاویر کو یہ آزادی کی برکات جانتے ہیں، لیکن جب گھر کی باری آتی ہے تو اندر سے یہ بھی وہی تنگ نظر پاکستانی نکلتے ہیں،
پنجابی کا محاورہ ہے جو ان کی منافقت کی صحیح تصویر کشی کرتا ہے،
’’بچہ اپنا، اور بیوی دوسرے کی خوبصورت لگتی ہے.‘‘

یہ بھی پڑھیں:   نجات دہندہ - زرین آصف

....اب ان سے سوال ہے... ظالمو!
قوانین تم بناؤ ... حکومت تم کرو ... اسمبلیاں تمھاری ... اختیار تمہارا ... اقتدار تمہارا ... میڈیا تمھارے قبضے میں ... اخبارات پر تمھارا قبضہ ... ملکی انتظامیہ پر تم براجمان ... فوج ہمیشہ سے لبرل ... عدلیہ مکمل تمھاری ... مولوی دور دور تک نہیں پھٹکتا...
تو کیوں نہ بنائے قوانین ؟... کس نے روکا؟

بناؤ قانون کہ جو عورت کے چہرے پر تیزاب پھینکے، اس کے چہرے پر بھی ویسے ہی تیزاب پھینکا جائے... تب تمھیں مجرم کے انسانی حقوق یاد آجاتے ہیں.
بناؤ قانون کہ جو عورت کو غیرت کے نام پر قتل کرے، اسے قتل کیا جائے. زنا بالجبر اور گروہ بنا کر عزت لوٹنا فساد میں آتا ہے، بناؤ قانون کہ جو عورت کے ساتھ ایسا کرے، اسے قتل کیا جائے گا.
تم منافق ہو، تب کہتے ہو کہ یہ سزائیں وحشیانہ ہیں.
...تو بتاؤ ...عورت کے مجرم کون ہیں؟
ہاں ہاں...عورت کے مجرم تم ہو...

تم نے اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹا ڈرامہ رچا رکھا ہے ... تم کو اپنی عیاشی کے لیے ... اپنی بدمعاشی کے لیے ... اپنے بستر کی گرمی کے لیے دوسروں کی بیٹیوں کی ضرورت ہوتی ہے ... ان کی دستیابی کے لیے تم نے عورت کی آزادی کا ڈرامہ رچایا...

اگر تم عورت کے حقوق کے علمبردار ہوتے تو سب سے پہلے ’’ہیرا منڈی‘‘ بند کرواتے کہ اختیار تمہارا تھا ... کہ عورت کی بدترین تذلیل وہاں ہوتی ہے..
تم ہی غیرت کے قتلوں کے اصل مجرم ہو ... تم پہلے لوگوں کی بہو، بیٹیوں کے سکینڈل آن ائر کرتے ہو ... ڈرامے بازی کرتے ہو ... ان کی کہانیاں سنسنی خیز انداز میں پیش کرتے ہو .. تم خود جھوٹی غیرت پیدا کرتے ہو ... اشتعال دلاتے ہو ... پھر جب کوئی قندیل بجھ جاتی ہے تو مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہو ... اور موم بتیاں لے کر نکل آتے ہو ... ہاں تم مجرم ہو عورت کی عزت کے، اس کے وجود کے قاتل تم ہو ... اس کی عزت کے دام بھی کھرے کرتے ہو ... کہ یہ تمہارا بزنس ہے.. اور اس رونا روتے ہو .. کہ یہ تمھاری دکان کھلی رکھنے کا ذریعہ ہے.