تقدیر اور تدبیر کا چکر - مفتی کفایت اللہ شاہ

اکثر لوگ تقدیر اور تدبیر کے چکر الجھے رہتے ہیں کہ کچھ سمجھ ہی نہیں آتا کہ یہ معاملہ کیا ہے۔ کوئی شخص دن رات محنت کر رہا ہے ۔ یہ اس کی تقدیر ہے یا تدبیر۔ اور ایک گھر بیٹھے عیش کی زندگی گزار رہا ہے، وہ کیا ہے ؟

اس معاملے کو اس طرح دیکھتے ہیں کہ جیسے مختلف سافٹ وئیرز ہوتے ہیں، اب جس کمپیوٹر میں جس طرح کا سافٹ وئیر ہوگا، اسی طرح کے پروگرام چلیں گے ۔

مثال کے طور پر ایک کمپیوٹر میں office انسٹال ہے اور دوسرے میں نہیں اور ہم چاہیں کہ دوسرا بھی ویسے ہی کام کرے جیسا کہ وہ سسٹم کر رہا ہے جس میں office انسٹال ہے تو یہ ممکن نہیں ہوگا ۔

ایسے ہی ہم انسان ہیں، ہر انسان کی اپنی پروگرامنگ اور اپنی ٹیوننگ ہے، اب کسی میں محنت کرنے کی پروگرامنگ، کسی میں ہڈ حرامی کی، کسی میں کم محنت سے زیادہ کمانے کی، اور کسی میں دوسروں کی محنت سے خود فائدہ اٹھانے کی، کسی کو بولنے کی اچھی صلاحیت دی ہوئی اور وہ اپنی چرب زبانی سے کماتا ہے، اور کوئی ذہین ہوتے ہوئے بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار نہیں کر پاتا۔

اگر ہم یہ سوچیں کہ یہ سب ایک ہی طرح کام کریں تو یہ ممکن نہیں جناب۔

بس پھر اس کو اپنی آسانی کے لیے کہتے ہیں کہ فلاں نے بہت محنت کی ہے تو وہ کامیاب ہوا، پھر ہر کوئی اپنی تدبیر کا ڈھول گلے میں لٹکا کے پیٹتا رہتا ہے مگر تدبیر بھی تقدیر ہی سے ہے۔

اب سوال یہ اٹھے گا کہ جب ہر عمل تقدیر سے ہے تو جنت اور جہنم کا سوال کیا؟ اس کے لیے کبھی میں نے ایک کہانی پڑھی تھی، مختصراً پیش کر رہا ہوں، امید ہے کہ بات واضح ہو جائے گی

یہ بھی پڑھیں:   مایوسی کیوں گناہ ہے - مسز جمشید خاکوانی

دو پیار کرنے والے ہوتے ہیں، ان کی منگنی ہو چکی ہوتی ہے، شادی قریب ہوتی ہے، دونوں شادی کی شاپنگ کے لیے بازار جاتے ہیں، وہیں ایک رئیس کی نظر لڑکی پر پڑتی ہے، وہ اسے اغوا کر لیتا ہے، اور اپنے فارم ہاؤس میں قید کر دیتا ہے، ایسے ہی آٹھ دس سال گذر جاتے ہیں اور بغیر نکاح کے لڑکی زندگی گزار رہی ہوتی ہے۔ مگر وہ اس زندگی سے راضی ہوتی ہے، نہ ہی گناہ کی وہ زندگی اسے پسند ہوتی ہے۔ اتنے برس گزرنے کے بعد وہ رئیس لڑکی پر تھوڑا بہت اعتبار کرنا شروع کرتا ہے کہ جب وہ ملک سے باہر ہو تو لڑکی اپنی شاپنگ کے لیے آ جا سکتی ہے، ایسے ہی ایک مرتبہ رئیس کی غیر موجودگی میں لڑکی شاپنگ کے لیے جاتی ہے، اسے اپنا پرانا منگیتر نظر آتا ہے، لڑکی اپنے منگیتر کو اپنے فارم ہاؤس پر بلاتی ہے، یہ سوچتے ہوئے کہ اتنے برس گناہ کی زندگی گزاری، آج اپنی مرضی سے ایک گناہ کر لیا تو کون سا فرق پڑ جائے گا، جب شام کو لڑکا فارم ہاؤس پر آتا ہے تو لڑکی کو دیکھتے ہی کہتا ہے کہ لگتا ہی نہیں کہ تم پر ماہ و سال کا کوئی اثر پڑا ہے، تم تو پہلے سے بھی چھوٹی اور معصوم لگتی ہو۔
اس رات کے بعد جب لڑکی اپنی شکل دیکھتی ہے تو اسے خود سے بھی کراہت ہوتی ہے، اس ایک رات کے گناہ نے اس کو پکا پن اور نحوست عطا کیا اور معصومیت رخصت ہو گئی۔

اس کہانی سنانے کا مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی گناہ آپ پر تھوپ دیا جائے، اور آپ اس گناہ والی زندگی سے نفرت کرتے رہیں تو آپ پھر بھی معصوم رہتے ہیں۔ اگر اس تھوپے ہوئے گناہ کو آپ نے تسلیم کر لیا، اور گناہ کو گناہ سمجھتے ہوئے مزے لیتے رہے، تو پھر جہنم آپ کا مقدر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مایوسی کیوں گناہ ہے - مسز جمشید خاکوانی

جیسا کہ حدیثِ پاک کا مفہوم ہے کہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔ کیوں کہ اللہ کو تو پتہ ہے کہ کوئی عمل مجبوری میں بھی ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے تحت۔ اور دوسری حدیثِ پاک کا مفہوم ہے کہ تم میں سے ایمان والا وہ ہے جو ظلم کو ہاتھ سے روکے، ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے، اور اگر زبان سے روکنے کی بھی ہمت نہ ہو تو کم سے کم دل میں برا جانے۔ اور ہماری تباہی تب ہی شروع ہوتی ہے جب ہم برائی کو دل میں بھی برا نہیں جانتے. اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنا کرم فرمائے اور معاملات کو صحیح سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین