دوریاں سمیٹیں - راحیل جاڈا

6 سال پہلے کی بات ہے. میں لاہور کی شیخہ سالم مسجد میں اپنے ساتھی علماء کے ساتھ ٹھہرا ہوا تھا. عشاء کے وقت ہم اپنے تبلیغی اعمال سے فارغ ہوئے تو ایک 20 سالہ نوجوان اپنے کسی عزیز کے ساتھ میرے پاس آیا. اس کے چہرے پر تفکر کی لکیریں صاف دیکھی جا سکتی تھیں، یا شاید مجھے یوں کہنا چاہیے کہ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں. اس کے عزیز جن کی عمر 40 سال کے لگ بھگ تھی، ایک جہاندیدہ شخص معلوم ہوتے تھے، مجھ سے کہنے لگے کہ ایک مسئلہ پوچھنا ہے. میں نے عرض کر دیا کہ یہاں دار الافتاء ہے، لیکن مفتیان کرام صبح کو ہوتے ہیں، آپ صبح معلوم کرلیں. کہنے لگے نہیں، آسان سا مسئلہ ہے، آپ ہی بتا دیں. اس دوران وہ نوجوان لڑکا بالکل گم سم بیٹھا تھا. میں نے اپنے ایک مفتی ساتھی کی موجودگی میں کہا چلیں بتائیے مسئلہ. اب وہ نوجوان بولنا شروع ہوا، جیسے گہرے کنویں سے اس کی آواز آ رہی ہو کہ مجھے ایک لڑکی سے محبت ہوگئی، اسے بھی مجھ سے محبت تھی، میں نے ان کے ہاں رشتہ بھیج دیا لیکن اس کے گھر والوں نے انکار کر دیا. محبت کی آگ تو دونوں جانب برابر لگی ہوئی تھی سو ہم نے بھاگ کر شادی کرلی. ہم چھ ماہ ساتھ رہے، پھر اس کے گھر والوں نے ہمیں ڈھونڈ لیا اور زبردستی اسے اٹھا کر لے گئے، پھر مجھے ڈرا دھمکا کر طلاق دینے پر مجبور کر دیا اور طلاق کے کاغذات پر سائن لے لیے. میری تو بیٹھے بٹھائے دنیا اندھیر ہوگئی، وہاں اس لڑکی پر ظلم ہو رہا تھا. نتیجہ یہ کہ میں ایک بار پھر اسے وہاں سے اٹھا لایا، لیکن چونکہ میں طلاق دے چکا تھا، اس لیے اب اس کے ساتھ رہ نہیں سکتا تھا اور میں بہت پریشان تھا. میری پریشانی دیکھ کر میرے والد صاحب نے مجھے مسئلہ بتایا کہ بیٹا داتا دربار پر جاؤ اور اتنے اتنے فقیروں کو کھانا کھلاؤ، تمہارا کفارہ ہوجائے گا، پھر بیوی بنا کر رہو. میں نے ایسا ہی کیا اور اب مجھے اپنی بیوی کے ساتھ رہتے ہوئے دو سال ہوگئے ہیں اور میرا ایک بچہ بھی ہے. اب یہ ہمارے رشتے دار ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ یہ حلال نہیں ہے، اب آپ ہی بتائیں، میں کیا کروں.

یہ ساری کہانی سن کر اب ہماری ہوائیاں اڑنے لگیں، اور زبان کو ایک چپ سی لگ گئی کہ خدایا اس کو کیا جواب دیں. مجھے اس کی لڑکھڑاتی زبان آج بھی جھنجھوڑتی ہے، گویا مجھے نصیحت کرتی ہے کہ خدارا مجھ جیسے نوجوانوں کو خود سے دور مت کرو. مدرسے میں پڑھ کر اور کچھ وقت تبلیغ میں لگا کر خود کو ایک خول میں بند مت کرلو کہ ہم تو مولوی ہیں، ہم کیوں جائیں ان کے پاس، کیوں بڑھائیں ان سے روابط، ان کو ضرورت ہے تو وہ ہمارے پاس آئیں.

اگر اہل دین خود سے آگے نہ بڑھے، ان کو سینے سے نہ لگایا، ان کے دکھ درد کے ساتھی نہ بنے تو وہ آپ کے قریب نہیں آئیں گے، وہ زندگی بھر کے لیے حرام میں مبتلا ہوجائیں گے. اگر آپ اہل علم ہیں اور میری اس بات کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں تو اپنے ارد گرد نظر گھمائیں، وہ لوگ جو بظاہر دیندار نظر بھی آتے ہوں گے، اپنی لاعلمی کی وجہ سے ایسے تجارتی معاملات کر جاتے ہیں جو صریح حرام ہیں، اس لیے میری مکرر درخواست ہے کہ نوجوانوں کو خصوصاً خود سے قریب کیجیے، ان سے کسی قسم کے فوائد ہرگز حاصل نہ کیجیے کہ کہیں وہ ہمارے فوائد کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں. انہیں بس اپنی ذات سے فائدہ پہنچائیے، کل کو یہی ہر خیر کے کام میں آپ کے معاون ثابت ہوں گے.