دیارِ غیر - آر ایم اقبال

چار سال پہلے کمپنی کے ساتھ نکاح نامہ کی صورت میں اتفاق ہوا اور بعد ازاں تجدید عہد ہوتا رہا، رہائش اپنی مرضی کے مطابق ہی رکھی لیکن جب کمپنی کی طرف سے باہر ذاتی رہائش پر رہتے ہوئے کسی حادثاتی صورت میں لاتعلق ہونے کا نوٹس ملا تو نہ چاہتے ہوئے بھی کمپنی کی طرف سے دیے گئے کیمپ میں رہائش اختیار کرنا پڑی۔ یوں میں سسرال میں آن پہنچا، کمپنی کی طرف سے جہیز میں مجھے ایک کارپٹ روم، نیا ووڈن بیڈ، میٹرس، بیڈ شیٹس، تکیہ، کمبل، ٹیبل، الماری، استری، کرسیاں، جوتے، مشترکہ ٹی وی، ڈش، فریج، برتن بھانڈے اور چولہا بھی ملا اور پڑھی لکھی نئی نویلی دلہن ہونے کی حیثیت سے خوب عزت بھی۔

زندگی گزر ہی رہی ہے کہ روز صبح نہا دھو کر، سُرخی پاؤڈر لگا کر تیار ہوا، اور ڈیوٹی پر جایا جاتا ہے، شام کو واپس آنے پر تنہائی اس طرح کاٹنے کو دوڑتی ہے جیسےکسی نئی دلہن کا شوہر ساری رات گھر سے باہر گزار آتا ہو، اور وہ بےسروسامانی کے عالم میں تنہائی کا زہر پی رہی ہو۔ کروٹ کروٹ پر ٹائم دیکھنا کہ کب یہ رات کٹے اور صبح کا نیا سورج دیکھنے کو ملے، یہ اندھیرے چھٹ جائیں اور اجالا تنہائی کے احساس سے باہر کھینچ لائے۔ پڑھتے رہنے کا شوق بھی کب تک تسلی دیتا کہ تھک ہار کر سونے کی روزانہ کی کوشش بھی ناکام ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ مہینہ دو مہینہ تو اسی طرح گزر گئے اور پھر ایک دن غیرمتوقع صورتحال کا سامنا ہوا. کچھ یوں ہوا کہ میرے کمرہ میں بغیردروازہ کھٹکھٹائے میرا ایک ہمسایہ اچانک آ دھمکا، جسے میں نے پہلے پہل تو بیٹھنے کے لیے کُرسی دی اور پھر پانی کا گلاس پیش کیا، اور اُس کے آنے کے مقصد کو سمجھنا چاہا، خیر بعد میں اُسے سمجھایا کہ کسی کے کمرہ میں آنے سے پہلے دروازہ کھٹکھٹا لینا چاہیے، اور سلام بھی کرنا چاہیے۔ اپنے ہی گھر میں داخل ہونے سے پہلے بھی دروازہ کھٹکھٹانےکا حکم ہے تاکہ اہلِ خانہ کی زندگی کے اسرار منکشف نہ ہو سکیں، سو انہیں سنبھلنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے، گھر میں داخل ہوتے ہی سلام بھی کرنا چاہیے، یہ سب گھر میں داخل ہونے کے آداب ہیں اور ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا لازمی خیال رکھا کریں۔

خیر اُس دن احساس ہوا کہ یہاں میرے ہمسائیوں کی صورت میں مجھے نند، دیورانی اور جٹھانیوں سے واسطہ پڑا ہے۔ یوں میرا یہ سسرال مکمل ہو گیا اور آہستہ آہستہ دیورانیوں، جٹھانیوں اور نند پر میں سکہ جمانے میں کامیاب رہا۔ ڈیوٹی پر پہنچیں تو سائٹ پر ڈیپارٹمنٹ مینیجر کی صورت میں ساس سے واسطہ پڑتا ہے اور پراجیکٹ مینیجر کی صورت میں ایک اچھے سُسر سے سامنا ہوتا ہے۔ اب تو یہ روز کا معمول ہے کہ جہاں چوں چاں اور چھوٹی موٹی ٹُھشم ٹھا ہوتی ہی رہتی ہے، وہیں ہمارے سُسر اور ساس ایک دوسرے کی طرف داری کر کے معاملہ بھی سلجھا دیتے ہیں، ہاں البتہ میں مزاج و کلام کی نرم جبکہ کردار اور قوت فیصلہ کی سخت بہو ثابت ہوئی ہوں، اس لیے اکثر اوقات غیر طرف دانہ فیصلہ بھی میرے ہی حق میں رہتا ہے اور مظلومانہ کیفیت کا سامنا کرنے کا تو آج تک سوال ہی پیدا نہیں ہوا، البتہ روزمرہ کے معاملات میں فہم و فراست سے معاملہ فہمی کی آنچ کو ضرور ملحوظِ خاطر رکھا ہے تاکہ وقت اچھے طریقے سے گزر سکے، خیر سے دو چار مرتبہ ساس کی بھی سُسر صاحب سے خوب کلاس لگوائی ہے تاکہ میری ساس کی بھی عقل ٹھکانے رہے۔

جہاں ہیڈ آفیس میں بیٹھے ہوئے بڈھے بلکل اُن مُردوں کی طرح ہیں جو کمپنی کے مالک کو اپنے تمام معاملات کا حساب کتاب دیتے رہتے ہیں، وہیں ہیڈ آفس میں ڈائریکٹر کی صورت میں چند فرشتے بھی ہیں جن کی ڈیوٹی کبھی کبھار زمین پر بھی لگ جاتی ہے اور وہ سائٹ وزٹ کرنے کی غرض سے آجاتے ہیں۔ الگ سے ایک ایچ آر ڈیپارٹمنٹ بھی ہے جو چُپ چُپیتے بیٹھے ہمارے اعمال نامے اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں، اُن کی کارکردگی کو میں ناقص اس لیے کہتا ہوں کہ انہیں اختیار نہیں کہ کرامن کاتبین کی طرح ہماری صحیح اور غلط کی پرکھ کریں بلکہ وہ ساس سسر یا چند زمین پر تشریف لانے والے فرشتوں یعنی ڈائریکٹروں کے غلام ہیں اور انہیں کا کہا سُنا ہمارے اعمال نامے میں لکھ دیا جاتا ہے۔ ہمارے نکاح نامے بھی یہی لوگ سنبھالے ہوئے ہیں، اکثریت کا پاسپورٹ پر بھی انھی کے قبضہ میں رہتا ہے کہ ہم پیکے بھی ان کی اجازت کے بغیر نہیں جا سکتے، اور میرا پیکا میرا پاکستان ہے. ویسے یہاں بہت سی بہوویں ہیں جو مختلف ممالک سے تعلق رکھتی ہیں۔ خیر میں نے اپنا ایک پیکا یہاں بھی تلاش کیا ہوا ہے اور ہر ہفتے میں وہاں چکر لگا ہی لیتا ہوں، مجھے سُسرال میں آج 31 دسمبر 2016ء کو چار سال اور ایک مہینہ مکمل ہو گیا ہے، جس میں پچھلے رمضان اور عید سمیت 35 دن میں اپنے اصل پیکے پاکستان بھی گزار آیا ہوں۔

ان پچھلے چار سالوں میں نند، دیورانی اور جٹھانیوں سے کی گئی کُشتی میں دن، مہینہ اور سال کیسے گزر گئے، پتہ ہی نہیں چلا۔ خیر روایتی بہو ہونے کی حیثیت سے میں نے آج تک کمپنی کی دہلیز سے باہر قدم نہیں رکھا اور مخلص رہ کر اپنی کمپنی کی عزت و توقیر کا خاص خیال رکھا ہے، لیکن مسلۂ اب تک یہی درپیش ہے کہ اس معاہدے کے تحت ہم شوہر سے محروم ہیں۔ مردوں کے تو شوہر نہیں ہوتے، لیکن ایسا اس لیے کہتا ہوں کہ غیر ملکوں میں رہنے والے شادی شدہ لوگوں کی بیویاں ہی اپنے گھر بار کی سرپرستی کرتی ہیں اور بچوں کے لیے ایک ماں اور باپ کی حیثیت سے گھر کی باگ ڈور سنبھالتی ہیں، جبکہ غیر شادی شدہ کے لیے ماں باپ کی شفقت بھری سختی بھی یہی حیثیت رکھتی ہے، جو بچوں کو زمانے کی تلخیوں سے سمجھ بُوجھ کے ساتھ چلنے کی تربیت اور زندگی کے ہر موڑ پر بچوں کی راہنمائی کرتی ہے، بس اسی لیے کبھی کبھار سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ کیوں نہ مُستقل ہی اپنے وطن کا رُخ کیا جاوے کہ آنے والے دنوں کی تلخیوں کے کڑوے گھونٹ بھرنے بہت مشکل ہیں۔ یہ معاملات صرف میرے ساتھ نہیں ہیں بلکہ ہر اُس شخص کےساتھ ہیں جو اپنوں کے یا اپنے بچوں کے اچھے مُستقبل کو تلاش کرتے پردیس کی خاک چھاننے پر مجبور ہیں، لیکن اب یہاں سے طلاق نامہ لے کر واپس جانا بھی بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک لڑکی بِن بیاہی بیوہ کی حیثیت سے بےسروسامانی کے عالم میں ماں باپ کے گھر جا کر بوجھ بن بیٹھے۔