ڈالر بھری بوریوں کا خواب اور حقیقی دنیا - انعام الحق

قریبی شہر کے ایک ترجمہ بیورو سے فون آیا کہ وہاں کی اینٹی نارکوٹک فورس نے ایک پاکستانی کو گرفتار کیا ہے، اس کی قانونی کارروائی کے لیے ترجمان کی ضرورت ہے. میرے لیے فیصلہ اس حوالے سے مشکل تھا کہ پہلے کبھی اس نوعیت کی ترجمانی نہیں کی تھی۔ ان کے اصرار پر جانے کی ہامی بھر لی، وہاں جا کر معلوم ہوا کہ مذکورہ پاکستانی نوجوان جس کی عمر زیادہ سے زیادہ 35 سال ہوگی، گذشتہ 8 ماہ سے ترکی میں غیر قانونی طور پر مقیم ہے، اور ایک روز پہلے منشیات بھرا سگریٹ لیتے ہوئے پکڑا گیا ہے، جبکہ اس کا کہنا تھا کہ وہ کچھ دنوں سےاس شخص کی گاڑی کا کام کر رہا تھا، 700 ترکش لیرا مزدوری بنتی تھی، اس نے 200 لیرا دیے، اور مزید پیسوں کے مطالبے پر ٹال مٹول سے کام لیا، اور اسے سگریٹ پینے کو دی، اتنے میں پولیس نے ان کو دھر لیا۔ پاکستانی ایمبیسی کو اطلاع دی جاچکی تھی، قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد میں تو واپس آگیا لیکن اس نوجوان کا کیا ہوا، مجھے علم نہیں۔

ہر سال کی طرح گذشتہ سال ہمارے شہر کے مرکز میں بین الاقوامی طلبہ کی تنظیم کے تعاون سے مختلف ممالک کے سٹال لگائےگئے، مجھے پاکستانی اسٹال پر ذمہ داری سونپی گئی، اس دن ایک نوجوان پاکستانی سٹال کو کچھ فاصلے سے دیکھ رہا تھا، چہرے کے نقوش بتا رہے تھے کہ وہ پاکستانی ہے، میں نے بلایا تو قریب آیا، عمر تیس سال کے آس پاس تھی، مختصر علیک سلیک کے بعد میں نے پوچھا کیا کرتے ہو؟ تو کہنے لگا کہ یہاں غیر قانونی طور پر رہتا ہوں، تین ماہ سے ایک پولٹری فارم پر کام کر رہا ہوں، لیکن اس نے ابھی تک مزدوری نہیں دی، کچھ مزید بات چیت کے بعد وہ چلا گیا، پھر اس سے ملاقات نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:   طیب اردگان کی کامیابیاں - ڈاکٹر ساجد خاکوانی

آج تین ویڈیوز دیکھیں جن میں ایک پٹھان اور چار پنجابی لڑکوں کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر ڈنڈوں سے پیٹا جا رہا ہے، اور وہ اپنے اہل خانہ سے اپنی رہائی کے لیے پیسے بھیجنے کی التجائیں کر رہے ہیں، پٹھان والی ویڈیو میں صاف طور پر پس منظر میں ترکش زبان سنائی دے رہی ہے، جبکہ ویڈیو کے ذیل میں یہ بات تحریر ہے کہ یہ نوجوان غیر قانونی طور یہاں آیا، اس کو کسی نے ان لوگوں کو بیچ دیا ہے، اور وہ پچاس ہزار ڈالر کر مطالبہ کر رہے ہیں۔ واللہ اعلم۔ اللہ ان سب کو رہائی نصیب فرمائے۔

یہ تین واقعات ذکر کرنے کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ یورپ میں جس جنت کا وعدہ کر کے غیرقانونی طور پر ترکی کے راستے سے نوجوانوں کو یورپ لے جانے کا ’’آسان ترین راستہ‘‘ دکھایا جاتا ہے وہ اتنا سہل نہیں جتنا سمجھا جاتا ہے۔ یہ انتہائی پرخطر اور جان لیوا راستہ ہے۔ اولا ایران سے گرنے کا مرحلہ بھی آسان نہیں، جہاں انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح گاڑیوں میں بھر کر کئی کئی دن تک ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے۔ بارڈر پر ایرانی فورس اور پھر ترکش فوج کی طرف سے مارے جانے کا خطرہ ہر لمحہ سروں پر منڈلاتا رہتا ہے۔ اگر ترکی پہنچ بھی جائیں تو ترکش پولیس کی طرف سے گرفتاری خارج از امکان نہیں۔گرفتار نہ بھی ہوئے تو کام ملنا انتہائی مشکل ہے، مل بھی جائے تو پولٹری فارم، ڈیری فارم، سبزی منڈی، یا تعمیرات کے شعبہ جات میں ملتا ہے، جس کے مشکل ہونے کی وضاحت بالکل ضروری نہیں۔ غیر قانونی ہونے کی وجہ سے مالک طے شدہ مزدوری کی ادائیگی میں تاخیر کرتے رہتے ہیں، اور بعض اوقات دیے بغیر کام سے نکال دیتے ہیں، اس کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ غیر قانونی ہونے کی وجہ سے یہ بندہ قانونی چارہ جوئی نہیں کر سکتا. بسا اوقات اوپر ذکر کردہ واقعہ کی طرح منشیات، یا ایسے ہی کسی کیس میں پھنسا کر اپنی جان چھڑا لیتے ہیں اور ڈالروں کی بوریوں کے خواب دیکھنے والے کو رات یا تو فٹ پاتوں پر گزارنی پڑتی ہے، اور کسی بوری کو اپنے اوپر ڈال کر سونا پڑتا ہے، یا پھر جیل ان کا مقدر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ ترکی جسے فرانس اور جرمنی مرد بیمار کہتا تھا آج اسکے ایک سیلوٹ سے خوفزدہ ہے -

ان سفاک ایجنٹوں کو لاکھوں روپے دے کر جان کا خطرہ ہی مول لینا ہے تو کیوں نہ ان روپوں سے کوئی چھوٹا سا کاروبارشروع کر لیں، اور قناعت کرتے ہوئے، اپنے دیس اور اپنےگھر میں سادی سی زندگی گزاریں۔

(انعام الحق ترکی میں مقیم ہیں اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں)

Comments

انعام الحق

انعام الحق

دل ودماغ کی تختیوں پر ابھرتے نقوش کو قلم کے اشکِ عقیدت سے دھو کر الفاظ کے لبادے میں تحریر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سکاریہ یونیورسٹی ترکی میں پی ایچ ڈی علوم اسلامیہ کا طالب علم ہوں، پاکستانی اور ترک معاشرے کی مشترکات اور تبدیلیاں اور اس سے منسلکہ سماجی اور اصلاحی موضوعات دلچسپی کا میدان ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.