پاکستانی میڈیا اور نظریاتی چیلنج - فضل ہادی حسن

سوشل میڈیا کے آنے سے ذرائع ابلاغ کی دنیا میں ایک ایسا انقلاب برپا ہوا ہے جس نے ایک طرف مین سٹریم میڈیا کے غرور اور گھمنڈ کو ’’ٹھکانے‘‘ لگایا ہے تو دوسری طرف ہر کوئی تاریخ، مذہب، سیاسیات، جغرافیہ، سماجیات، نفسیات، الغرض ہر فن کا ماہر بن کر اتھارٹی کے منصب پر از خود براجمان ہوگیا ہے۔ انقلاب فرانس میں جس طرح ’’کتبہ و چارٹ‘‘ نے نہایت اہم کردار ادا کیا تھا، اس وقت دنیا میں وہی کردار ’’سوشل میڈیا‘‘ ادا کر رہا ہے، بلکہ شعور اور رائے عامہ پر زیادہ بڑے پیمانے پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

آپ گزشتہ چند سالوں سے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کا تقابلی جائزہ لیں تو لابنگ، پروپیگنڈا اور ذہن سازی میں سوشل میڈیا نہ صرف آگے نظر آئے گا، بلکہ مین سٹریم یعنی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی اثر انداز ہوتا دکھائی دے گا۔ کئی اہم مواقع پر پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے ’سوشل میڈیا‘ کا سہارا لیا اور اس کے سامنے ہتھیار ڈال کر اپنی بریکنگ نیوز سے لے کر تجزیے و تبصرے تک اسے معلومات کا ’ذریعہ‘ بنایا ہے۔ بڑے بڑے اینکرز اور کالم نگار سوشل میڈیا پر موجود لاکھوں لوگوں کی موجودگی اور فیڈ بیک کو اپنے پروگرامات اور تجزیوں کی تیاری کے لیے بطور ’معاون‘ ٹول استعمال کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر موجود کروڑوں لوگوں میں مختلف الخیال و مزاج لوگ آپ کو ملیں گے، ہر اکاؤنٹ ہولڈر کی فرینڈز لسٹ میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں، کسی بھی موضوع پر آپ رائے دیں گے تو وہاں حامی و مخالفین ضرور ’حاضری‘ دیں گے۔ یہاں یہ سوال نہیں کہ کسی کی رائے کی مخالفت نہ کی جائے یا کسی کا تجزیہ اور مختصر نوٹ ہر کوئی پسند کرکے ’حمایتی‘ بن جائے، اصل سوال یہ ہے کہ
کیا ہر ایک کی علمی سطح (Knowledge level and skill) اور مقام برابر ہے؟ کیا طنز و مزاح سے تاریخ اور تاریخی حقائق کو ’ثابت‘ یا ’جھٹلایا‘ جاسکتا ہے؟ کیا غیر سنجیدگی اور اپنی ہی رائے کو درست سمجھ کر دوسروں سے ’سنجیدگی‘ کی امید رکھنا یا اس کی تلقین کرنا ’دانشوری‘ کہلائی جا سکتی ہے؟ جب کسی کی اپنی رائے و تجزیہ میں عدم تحمل و برداشت کے ساتھ بڑائی کا دعوی، تشدد کی آمیزش اور مسخرہ پن موجود ہو تو وہ کیسے دوسروں پر تشدد اور انتہاپسندی کا الزام لگا سکتا ہے یا انھیں تحمل کا درس دینے کا ’حق‘ رکھ سکتا ہے؟

سوشل میڈیا کے فعال ہونے کے جہاں کافی فوائد ہیں، وہاں ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ہر فرد یہاں مصنف، ایڈیٹر، فوٹوگرافر، اور پبلشر بن گیا ہے، جو کسی کے من میں آتا ہے اس کا برملا اظہار کرتا ہے، اسی تناظر میں یہ فورم شخصی پسند اور خواہش کا شکار ہو کر سیاسی و علمی طور پر غیر معیاری، بلاتحقیق اور غیر سنجیدہ خبروں، گفتگو اور تبادلہ خیال کے لیے بھی استعمال ہونے لگا ہے۔ گزشتہ سات آٹھ سال سے سوشل میڈیا پر فعال رہنے سے مجھے ذاتی طور پر اس کا تجربہ ہوا ہے، طرح طرح کے لوگ ملے ہیں جن میں سے بعض تو ہر وقت اپنے خیالات کو ’حرف آخر‘ سمجھ کر اپنی رائے اور سوچ و فکر باقاعدہ ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیفٹ رائٹ یا سیکولر و مذہبی طبقہ سے تعلق رکھنے والے بھی یہاں کافی سرگرم ہیں، اور ان میں بھی یہ خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے، بلکہ اب تو بلاگز، پیجز اور ویب سائٹس کے ذریعہ سوشل میڈیا میں موجود لوگوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مذہبی طبقہ کے مقابلے میں سیکولر و لبرل طبقہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ’میدان‘ میں اتر چکا ہے ۔ پرنٹ و الیکڑانک میڈیا سے وابستگی سے ہٹ کر وہ سوشل میڈیا پر اپنے نظریات اور سوچ کے پرچار کے ساتھ یہاں موجود ذہنوں کو مذہب و ریاست، سماج و روایات ، قوم و ملت کے حوالے سے ’تشکیک‘ اور ’غلط فہمی‘ کا شکار کرنے کی دانستہ کوشش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ مذہب کو براہ راست مذاق اور تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے مذہبی طبقہ اور بالخصوص علمائے کرام اور دینی شخصیات کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، نیز قرآن و حدیث کی تعلیمات اور جدید سائنسی ایجادات کے درمیان فرق بتا کر بالواسطہ ’نظریاتی وار‘ کیا جاتا ہے۔

میڈیا میں نظریاتی چیلینجز کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت پاکستان میں دو ’انتہائیں‘ نظر آتی ہیں، دونوں طرف تشدد اور انتہا پسندی کا دور دورہ ہے، لیکن ایک طرف کی انتہا پسندی کا ذکر تو زور و شور سے ہوتا ہے بلکہ انتہا پسند کے علاوہ تکفیری اور خارجی تک کے القابات سے نواز دیا جاتا ہے لیکن دوسری طرف اس تعصب و تشدد کے باوجود خود کو اعتدال اور برداشت کا علمبردار کہلواتی ہے. اہل مذہب کے بارے میں ایک ’خاص‘ رائے بنائے رکھنا، مسلسل نفرت و بےزاری کا اظہار کرنا، اور اسے اپنی سوچ سے متصادم سمجھ کر اپنی سوچ و فکر کو پورے معاشرہ پر ٹھونسا کیا ’انتہا پسندی‘ نہیں ہے؟ یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی سیکولر فرد مذہب یا اہل مذہب کے بارے میں سخت گیر مؤقف کے ساتھ اس کی نفی میں تعصب کا مظاہر کرتا ہو، تشدد پر اکساتا ہو یا اس کا مرتکب ہوتا ہو تو اس کا سیکولرازم یا لبرلزم سے کوئی تعلق نہیں رہتا، تو یہی بات اگر مذہبی طبقہ ’دہشت گردوں‘ کے بارے میں کہے تو فریق اول کیونکر اسے قبول کرنے سے احتراز برتتا ہے؟ یہ ’سیکولر تعصب‘ اتنا گہرا ہے کہ اگر کوئی لیڈر یا معاشرے کا کوئی بااثر فرد اپنی تقریر کا آغاز ’بسم اللہ‘ سے کرے تو اسے ’دقیانوس‘ ثابت کرنے پر زور صرف ہونے لگتا ہے. مقابلہ میں اہل مذہب ’بسم اللہ‘ کو دین پسندی اور نجات کا سرٹیفکیٹ ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں. طرفین کا یہ مزاج اس وقت پرنٹ و الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   برائی کی تشہیر، مقاصد اور عزائم کیا؟ - راجہ احسان

اس ’نظریاتی‘ چیلنج میں ایک مسئلہ صحافت کے عمومی مزاج کا بھی ہے۔ صحافی کسی نظریے کا بالواسطہ یا بلاواسطہ کارکن نہ سہی ’ہمدرد‘ ضرور ہوتا ہے۔ نتیجتا اس کی گفتگو، تجزیہ اور تحریر میں اس طرف میلان اور رجحان جھلکنے دیتا ہے، نظریات کا ’ٹکراؤ‘ صاف دکھائی دیتا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ کسی کی رائے سے مکمل اتفاق کیا جائے، اور بالعموم اسی کا دعوی کیا جاتا ہے، اور بڑے بڑوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، مگر ایسے کسی اینکر، کالم نگار، بلاگر یا سوشل میڈیا کے ’شہسوار‘ کی تحریر و تجزیے پر ذرا سی تنقید ہو جائے تو ’تحمل و برداشت‘ کے بارے میں صفحات لکھنے اور گھنٹوں کے حساب سے ٹاک شوز کرنے والوں کا اپنا ’تحمل و برداشت‘ ناقابل بیان اور مایوس کن حد تک جواب دے جاتا ہے۔ مذہبی طبقہ کے غیر منظم اور غیر تریبت یافتہ جذباتی لوگ بھی بسا اوقات اپنے بےقابو جذبات کی وجہ سے’تعمیر‘ کے بجائے ’تخریب‘ کا سبب بن جاتے ہیں اور لوگوں کو بدظن کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

میڈیا کے ساتھ راقم کا تعلق تقریباً دو عشروں پر محیط ہے. 1996ء میں تنظیمی طور پر پہلی دفعہ ’پریس‘ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی. بعد میں لکھنے اور پبلک ریلیشن میں صحافت اور اہل صحافت کے مزاج، طریق کار اور دائرہ کار سے بخوبی واقفیت ہوئی. میڈیا میں ایک استاد اورگرو، اکثر کہا کرتے تھے کہ صحافیوں سے تعلق بنانے میں کئی سال لگتے ہیں، جبکہ تعلق ٹوٹنے یا اس میں دراڑ پڑنے میں ایک سیکنڈ ہی لگتا ہے. وہ کہا کرتے تھے کہ صحافیوں کے ساتھ تعلق اور رشتہ ’صنف نازک‘ کے ساتھ مرد کے رشتے کی طرح نازک ہوتا ہے۔ دیگر شعبوں کی طرح میڈیا میں بھی مذہبی طبقے یا دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد کو سخت چیلینجزکا سامنا ہے، مین سٹریم میڈیا پر ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے. اس ابلاغیاتی دور میں دائیں بازوں کے لوگ تقریبا ’روایت پسندی‘ کا شکار نظر آتے ہیں. ایک طرف اگر وہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی بات کا ابلاغ اس زبان میں کرنے سے قاصر ہیں جو ہمارے معاشرے میں عام ہے تو دوسری طرف اس میدان کے ’شہسواروں‘ میں بھی ان کی نمائندگی کم ہے۔

مین سٹریم میڈیا کو انگلش، اردو اور علاقائی زبانوں میں تقسیم کیا جائے تو ہمیں نظریاتی کشمکش اور چیلنجز سجھنے میں آسانی ہوگی۔ یہ امر باعث تشویش ہے کہ اس وقت انگلش میڈیا، یعنی انگریزی زبان میں لکھنے اور بولنے والوں کی فہرست میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے نہ ہونے کے برابر ہیں، ایک آدھ کی موجودگی کو’نمائندگی‘ نہیں کہا جا سکتا۔ اگر یوں کہا جائے کہ اس میڈیم پر سیکولرز اور لبرلز کا قبضہ ہے (جبکہ وہ دوسروں کو قابض سمجھتے ہیں)، تو بے جا نہ ہوگا۔

پاکستان کا بااثر اور پڑھا لکھا طبقہ (پارلیمنٹ، ملٹری، عدلیہ، بیوروکریسی، صنعت و تجارت) انگریزی اخبارات کا مطالعہ ضرور کرتا ہے۔ بعض کالم نویسوں کی تحریر کا تو باقاعدہ انتظار کیا جاتا ہے۔ انگریزی پریس کے تجزیے ارباب اختیار اور معاشرہ پر اثر انداز ہونے والے افراد کی ذہن سازی کرتے ہیں، جو آگے جا کر اہم قومی پالیسیوں میں تبدیلی کا سبب بنتا ہے۔ 2007ء میں لال مسجد آپریشن کے بعد اپنے علاقے کے مقامی کچہری میں کچھ کاغذات بنوانےجانا پڑا تو اس وقت اے سی او کے آفس میں تین انگلش اور دو اردو (جس میں ایک مقامی اخبار بھی شامل تھا) اخبارات نے حیران کر دیا. حقیقت کئی سال بعد معلوم ہوئی کہ کس طرح ہماری پالیسیوں اور عمومی مزاج پر اخبارات اور تجزیے اثرانداز ہوتے ہیں۔ دائیں بازو کے لوگوں کا جہاں اس طرف رجحان نہیں ہے، وہاں اس میڈیم پر سیکولر لابی کے قبضے کی وجہ سے ان کے لیے روزگار سمیت لکھنے کے مواقع بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہاں تک کہ انگلش میڈیا میں بیٹ رپورٹر کی سطح میں بھی بہت کم دائیں بازو کے لوگ ملیں گے۔ سیکولر و لبرل دوست اور بزرگ بھی حلقہ احباب میں موجود ہیں، کئی دفعہ ان سے مختلف موضوعات پر ڈسکشن کے وقت جب ان کے خیالات سننے کا موقع ملا تو نظر تو ان کی زبان پر مرکوز ہوتی ہے لیکن دھیان انگلش میڈیا کے بڑے بڑے ’شہسواروں‘ کے تجزیوں اور رپورٹس کی طرف چلا جاتا ہے۔ انگلش میڈیا میں مقام پیدا کرنے اور معاشرہ کے اس اہم ٹول کے ذریعہ مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے کوشش کرنا دائیں بازو کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں، جس کے لیے اب تک ان کی تیاری یا ابھرنے کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔

علاقائی زبانوں میں موجود میڈیا بھی تقریبا یکطرفہ طور پر سیکولر خیالات کے حاملین کے ہاتھوں میں ہے۔ علائی زبانوں میں اخبارات اور چینلز میں ’قوم پرستی‘ کا عنصر نمایاں ہے، قوم پرست عناصر پہلے سرخ سویرے کے منتظر تھے اور لٹریچر میں بھی اس کی جھلک ملتی تھی، مگر اب وہاں بھی قبلہ بدل لیا گیا ہے۔ کسی بھی علاقائی زبان میں ٹی وی نشریات اور لکھنے والوں کی فہرست بنائیں تو اندازہ ہوجائے گا کہ مذہب بیزاری کے ساتھ قوم پرست اور تعصب والے ہیں یا نہیں؟ سیکولرازم کے مقابلے میں ’مذہب بیزاری‘ کا لفظ اس لیے استعمال کرنا پڑا کہ قوم پرستوں میں کافی تعداد ’ملحد‘ یا مذہب پر یقین نہ رکھنے والوں کی ہے، جو اب چولا بدل رہے ہیں۔ یہاں اگر دائیں بازو یا دینی مزاج رکھنے والوں کو دیکھا جائے تو آٹے میں نمک سے بھی کم ہیں۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ انٹرنیشنل میڈیا (بشمول بی بی سی، ڈیوہ ریڈیو، وائس آف امریکہ، وائس آف جرمنی وغیرہ) کی علاقائی زبانوں میں فراہم کردہ نشریات اور پروگرامات کو معاشرے کی نظریاتی ساخت کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ نیز ان اداروں سے منسلک افراد بھی ’نظریاتی‘ جنگ یا معرکے کے ’سپاہی‘ ضرور نظر آئیں گے۔ اگر ان کے نظریات اور افکار کے بارے میں مزید جاننا ہے تو سوشل میڈیا پر ان کے پیچز اور ویب سائٹس وغیرہ کا جائزہ و مطالعہ مفید رہے گا۔ ایک عرصہ سے انگلش، عربی، اردو، پشتو سمیت دیگر زبانوں کو ’فالو‘ کیا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ چند دیگر وجوہات کے ساتھ حد سے زیادہ علاقائیت اور قوم پرستانہ سوچ کی ترویج اور غلط فہمیوں کا سبب بننے کی وجہ سے بی بی سی پشتو سمیت دیگر میڈیا ہاؤسز کے علاقائی زبانوں میں موجود سوشل میڈیا پیجز کو مجبورا ان فالو کرنا پڑا۔ اس پر مستزاد ان اداروں میں کام کرنے والوں کی اکثریت بھی اسی نظریہ کے ’پیروکاروں‘ اور علمبردار وں کی ملے گی جو علاقائیت، زبان، عصبیت کے نام پر لوگوں کے جذبات سے کھیلتے نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستانی تاریخ کا سنہری دن - محمد عامر خاکوانی

اب آتے ہیں اردو میڈیا کی طرف، یہاں پہلے دو کی نسبت دائیں بازوں والوں کی موجودگی قدرے بہتر ہے۔ اگرچہ نامی گرامی لکھاریوں کی اکثریت یہاں بھی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں کی ہے لیکن شاید ’اردو ‘ زبان کی مٹھاس کی وجہ سے یہاں بائیں بازو والوں میں سے ’معتدل‘ لکھاری بھی ملیں گے۔ اردو میڈیم میں دینی طبقہ یا دائیں بازو کے جذبات کی ترجمانی کے لیے ایک تعداد ضرور ایسی ہے جس سے کم از کم احساس محرومی باقی نہیں رہتا۔ اگرچہ یہاں بھی الیکٹرانک میڈیا سے دائیں بازو کے لوگ کافی ناراض دکھائی دیتے ہیں، نیز یہاں اس سوچ کے حامل لوگوں کے لیے کام کرنا بھی چیلنج سے کم نہیں ہے، اور اور بدقسمتی سے ان کے لیے ’نظریاتی‘ وابستگی ظاہر کرنے سے یہاں بولنا، لکھنا مشکل بلکہ بسا اوقات ناممکن ہوتا ہے۔ یہاں دو رنگی اور میڈیا ہاؤسز کی چالاکیوں کا کیا کہنا کہ بائیں بازو والے نظریاتی وابستگی اور سرخیل ہونے کے باوجود آزادی سے لکھ سکتے ہیں لیکن دایاں بازو والے کو ماضی سے دستبردار ہونے کے پیشمانی کے اظہار اور تنقید کے بعد قبول کیا جائے گا۔ اگر ایک طرف کے نظریاتی لوگوں کے لیے اخبارات کے صفحات تقریبا ہر قسم کی رائے (ماسوائے اللہ، رسول ﷺ کی ذات اور قرآن کے خلاف) کے اظہار کے لیے حاضر ہیں تو دوسری طرف کے نظریاتی لوگوں کی تحریریں پالیسی کے نام پر کانٹ چھانٹ کے بعد قارئین کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔ ایک طرف کے نظریہ والے کھل کر اپنے ادارے میں اپنی فکر کا اظہار کرسکتے ہیں لیکن دوسری طرف والوں کے لیے اپنی شناخت کو ’چھپانا‘ ضروری ہے، ورنہ نوکری اور ’اظہار و آزادی رائے‘ کے پَر وہیں کٹ سکتے ہیں۔ یہ سوال بہرحال اہم ہے کہ اس نظریاتی کشمکش میں دائیں بازو والوں کے لیے قیود اور رکاوٹیں’زیادہ‘ کیوں ہیں؟ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی اچھے لکھاریوں کو پاکستان کے بڑے میڈیا گروپ سے صرف اس وجہ سے الگ ہونا پڑا کہ انہیں لکھنے کے لیے اصول و ضوابط اور ادارہ کی پالیسی کے نام پر ’قید‘ میں رکھا گیا تھا۔ خود مجھے میڈیا میں جانے کی سوچ سے اس وجہ سے دستبردار ہونا پڑا کہ ایک دفعہ ایک ٹی وی کے لیے انٹرویو میں جانے سے پہلے پاکستان کے نامی گرامی کالم نگار و اینکر نے کہا تھا کہ اپنا پورا خاندانی نام (سادات سے نسبت) لکھنے کے علاہ سیاسی وابستگیوں کی قربانی دینا ہوگی۔ اگر چہ اسے ’غیر جانبداری‘ کہا جاتا ہے لیکن میں ضرور اسے ’جانبداری‘ کا نام دوں گا۔

اس صورتحال میں جہاں ضروری ہے کہ دایاں بازو بالخصوص دینی طبقہ نظریاتی بنیادوں پر کام کرے، وہیں دوسری طرف ’فروعی‘ مسائل میں الجھنے اور محدود ’دائرے‘ سے نکلنا ہوگا، اور سوشل میڈیا پر بھی اس کیفیت سے باہر آنا، اور سیکولر لابی کے دام ہمہ رنگ سے باہر آنا ہوگا۔ سوشل میڈیا پر کئی دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ سیکولر یا مذہبی نما سیکولر طبقہ اختلافی مسائل کے ذریعہ ایک طرف مذہبی طبقہ پر تنقید کرتا ہے تو دوسری طرف مختلف آراء اور فقہی وسعتوں کے ذریعہ باہم الجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک تیر دو نشانے کی مانند یہ لوگ ’تیر‘ مارنے کے بعد ’تماشائی‘ بن جاتے ہیں۔ کئی موقعوں پر دیکھا گیا کہ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر مذہبی طبقات کو باہم لڑوایا جاتا ہے، اور پھر اپنی پوسٹ، تحریر پر آئے کمنٹس سے محظوظ ہوا جاتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ میڈیا میں موجود درپیش نظریاتی چیلینجز کا مقابلہ دایاں بازو کس طرح کرتا ہے اور کہاں تک اسے کامیابی ملتی ہے۔ کن کن بنیادوں اور خطوط پر کام کو استوار کرکے آگے بڑھا جاتا ہے۔ آگے بڑھنے کی ضرورت اس وجہ سے بھی محسوس ہو رہی ہے کہ ابھی تک دائیں بازو کے لوگ دفاع و جواب کے لیے سامنے آتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر وقت دفاع کرتے رہنے کے بجائے جارحانہ رویہ اختیار کیا جائے. مخالف ٹیم کو اس کے ’پول‘ میں لے جا کر کھلانا ایک ’فن اور صلاحیت‘ ہے، اس کا حامل ہونا تقاضا بھی ہے اور کڑا امتحان بھی۔