کیرئیر کونسلنگ میں والدین کا کردار - یوسف الماس

ہمارے زمانے کو معلومات اور علم کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ اس کی ہر آن غیر متوقع اور مسلسل تبدیلیاں حیرانی کا باعث تو ہیں ہی، پریشانی کا باعث بھی بن رہی ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ، سروسز کے شعبوں اور ملازمت کے مواقع میں بھی پیچیدگی آگئی ہے۔ مقابلے کی رفتار تیز ہو گئی ہے۔ والدین اور نوجوان دونوں پریشان ہیں۔ ایک ماہر نفسیات نے اسے ’’پریشانی اور بے یقینی‘‘ کا دور قرار دیا تو دوسرے نے کہا کہ یہ ’’بنائی گئی بے یقینی‘‘ ہے۔

اس لیے کہ میڈیا یعنی اخبارات اور چینلز نے جو منہ میں آیا کہا، اتنا بھی غور نہیں کیا کہ کیا ان الفاظ کا استعمال مناسب ہے جو ہم بول رہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر جو کسی کا دل چاہا اس نے اپ لوڈ کر دیا۔ ان حالات کے اثرات تعلیم پر بھی آئے، معیشت، معاشرت اور ثقافت پر بھی آئے۔ ان حالات کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ آج کے نوجوان کے لیے چند روایتی کیرئیرز کے علاوہ نئے نئے کیرئیر سامنے آئے ہیں۔ سخت مقابلے کی فضا بنی ہے۔ لمحوں کی سستی اور بھول بہت دور لے جاتی ہے۔

ان حالات میں والدین اور اساتذہ کا کردار بڑھ جاتا ہے۔ ان کی مکمل توجہ ہی بنیادی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ بچے 60%سے زیادہ کام یعنی زندگی کے تمام بنیادی کام مشاہدے سے ہی سیکھتے ہیں۔ معاملات اور رویوں میں بھی والدین کی پیروی کرتے ہیں۔ لہٰذا والد اور والدہ دونوں کے باہمی تعلقات، رویے، گفتگو کا انداز اور الفاظ کا انتخاب، خاندانی مسائل، زندگی کے بارے میں ان کا نقطہ نظر، ان کا اپنا کیرئیر، کام کرنے کا طریقہ، اپنے آفس کے بارے میں تاثرات اور اس سب کچھ کے نتیجے میں بننے والا لائف سٹائل بچوں کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ مناسب ہوگا کہ ہم والدین کے رویوں کے بارے میں سمجھ لیں تو بچوں کے بہتر کیرئیر کے انتخاب کا مرحلہ آسان ہو جائے گا۔ اس لیے کہ ان کے رویے ہی بچوں کی زندگی کو بنا یا بگاڑ رہے ہوتے ہیں. مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ بچوں کے معاملے میں گھر کے حالات سب سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔

بعض والدین کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کو اسکول بھیج دیا ہے، کم یا زیادہ فیس دے رہے ہیں، اب یہ اسکول والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو ہر لحاظ سے ایک کامیاب انسان بنا دیں۔ ان کے ہاں کامیابی کا پیمانہ ٹیکنیکل اور روایتی سدابہار کیرئیر میں جانا ہے۔

بعض والدین جو قدرے تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ دنیا کو جانتے اور اس پر نظر رکھنے والے ہیں، ان کے نزدیک بچوں کی صلاحیتیں اور مہارتیں Abilities ، Skills سامنے آنی چاہییں۔ محض تعلیم ہی سب کچھ نہیں ہے، اس کے ساتھ ساتھ کھیل، تقریر، مباحثہ ، شاعری اور دیگر غیر نصابی سرگرمیاں بھی اہم ہیں۔ ان کا اصرار اور دباؤ اس جانب ہوتا ہے۔

والدین کا تیسرا گروہ وہ ہے جن کا اپنا خاندانی پس منظر تو کمزور تھا مگر انہیں موقع ملا اور آگے نکلے۔ ڈاکٹر بنے یا وکیل یا جج بنے یا کچھ اور۔ اپنے شعبے میں دن رات محنت کی اور اس میں نام بنایا۔ اب ان کی خواہش ہے کہ ان کے بچے ہر حال میں ان کے شعبے کو اپنائیں، اس کام کو مزید ترقی دیں۔ اس مرحلہ پر انہیں درمیانی راستہ نظر نہیں آتا۔

والدین میں کچھ وہ بھی ہیں جو بچوں کو بالکل ہی کھلا چھوڑ دیتے ہیں، جو چاہیں وہ کریں، ان کا خیال یہ ہے کہ زندگی بچوں نے گزارنی ہے، لہٰذا انہیں اپنے قدموں پر کھڑا ہونے دیں۔ عمومی طور پر یہ رویہ ان والدین کا ہوتا ہے جنہیں مالی آسودگی حاصل ہوتی ہے اور انہیں کسی ناکامی کی فکر نہیں ہوتی۔ یہ لوگ بہت زیادہ خطرات مول لیتے ہیں۔ کبھی کامیاب اور کبھی ناکام رہتے ہیں۔

والدین کا ایک طبقہ وہ ہے جو خاندانی حالات کا شکار ہوتا ہے۔ ان کی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ بچے جلد از جلد اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں اور حالات کا مقابلہ کریں۔ خاندان کا خیال رکھیں اور ذمہ داریاں سنبھالیں۔ مشاہدہ یہ ہے کہ یہ بچے پریشان اور الجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بہت کم تعداد ایسی ہوتی ہے جو کامیاب رہتی ہے۔ زیادہ تر آخری وقت میں جو ملا اس میں چھلانگ لگا دیتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں والدین کی سوچ کے مختلف انداز اور زاویے، ان کی مجبوریاں اور ضروریات اور ان کی محرومیاں اور خواہشات بھی ہمارے سامنے ہیں۔ ان میں ہم سب شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کرنا کیا چاہیے، ان بچوں ہی کے لیے انسان دن رات محنت کرتا ہے، انہیں کامیاب دیکھنا چاہتا ہے۔ حل کیا ہے اور آگے بڑھنے کا راستہ کیا ہے ؟

والدین کے کرنے کے کام اس دنیا کا کوئی ذی شعور فرد ایسا نہیں ہوگا جو اپنے بچوں کو تختہ مشق بنانا پسند کرے گا، لہذا یہ سب سے پہلے یہ فیصلہ کر لیجیے کہ ہمیں اپنے بچوں کو پورا اعتماد دے کر ساتھ لے کر چلنا ہے خواہ اس کے لیے ہمیں کتنا ہی مشکل میں کیوں نہ جانا پڑے۔ اس اہم ترین فیصلہ کو بہترین بنانے کے لیے ہر والد اور والدہ کے سامنے چند نکات رکھ رہا ہوں، اس یقین کے ساتھ کہ ہم سے ہر ایک کھلے دل اور سچائی کے ساتھ اپنے آپ کو ان کا جواب دے گا اور خود ہی فیصلہ کرے کہ کیا میں واقعی اپنے بچوں کی صحیح رہنمائی کر رہا ہوں۔ کیا آپ روشن کل کے حامل تمام کیرئیرز سے واقف ہیں؟ کیا آپ اپنے بچوں کی تربیت اور بہتری کے لیے اپنی معلومات کو تازہ کرتے ہیں؟

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ماضی میں جو کیرئیرز مالی اور مادی اعتبار سے غیر اہم تھے، آج کس قدر مالی فوائد کے حامل ہیں؟ کیا آپ بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے دستیاب تمام بڑے بڑے شعبوں کو جاننے کے لیے ان شعبوں کے ماہرین سے کبھی ملے اور معلومات حاصل کیں؟ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ جو کام آپ نہیں کر سکے یا جو آپ نہیں بن سکے خواہ کسی وجہ سے، آج وہ سب کام آپ کا بیٹا یا بیٹی کرے یا بنے؟ کیا آپ کی خواہش ہے کہ آپ کا بیٹا یا بیٹی آپ ہی کے نقش قدم پر چلے، خواہ اللہ نے اسے مختلف بنایا ہو؟ کیا آپ کبھی بچوں کے مستقبل کے لیے کوئی میگزین یا کتاب خرید کر گھرلائے؟ کیا آپ اپنے بیٹے یا بیٹی کی خوبیوں اور کمزوریوں سے واقف ہیں؟ کیا آپ کے خیال میں آپ اس کی خوبیوں اور کمزوریوں کے مطابق بہترین کیرئیر کا انتخاب کرسکتے ہیں؟ جب آپ ان سوالوں کے جوابات اپنے ضمیر کو دے چکے ہوں اور اپنے آپ سے جو بھی کہہ رہے ہوں، ذرا اپنے آپ کو متوازن رکھیں کہ یہ اپنی اولاد کا معاملہ ہے۔ ہر بچے کے لیے وقت نکالیے یا کم از کم گھر میں ایک ساتھ بیٹھ کر ذیل کے نکات پر آزادی اور ترغیب دے کر بات کریں۔ وہ جو بات کریں، جس پسند یا ناپسند کا اظہار کریں، جس خواہش کو سامنے لائیں، کسی موقع پر ان کی بات کاٹیں نہیں، انہیں ڈانٹیں نہیں، مذاق نہیں اڑائیں، ان کے علم اور معلومات کی کمی کا ذکر نہ کریں۔

آپ کو کس کیرئیر کا شوق ہے اور کیوں؟ کیا محض اس کے گلیمر کی وجہ سے؟ کیا آپ کو دستیاب تمام کیرئیرز کی معلومات ہیں، اگر ہیں تو میڈیکل، انجینئرنگ، سائنس، آرٹس وغیرہ کے کم از کم پانچ پانچ بتائیں۔ کیا بہترین کیرئیر کا مطلب میڈیکل، انجینئرنگ اور سی اے ہی ہے یا کچھ اور بھی ہے؟ اگر انٹری ٹیسٹ میں کامیابی نہ ملی تو کیا ہوگا؟ کیا آپ کی تعلیمی قابلیت اور مختلف مضامین میں دلچسپی آپ کے پسندیدہ کیرئیر سے مطابقت رکھتی ہے؟ کیا اچھے اور کامیاب کیرئیر کے لیے تعلیم اور ڈگری کے علاوہ کچھ اور چیزیں بھی اہم ہوتی ہیں؟ اس شعبے کی سالانہ فیس کتنی ہے؟ آپ کی تین نمایاں خوبیاں اور تین کمزوریاں کون سی ہیں؟ یاد رکھیں صرف دلچسپی کافی نہیں بلکہ کامیابی کے لیے اعلیٰ سطح پر ہونا ضرور ی ہے۔ کیا آپ اس شعبے میں چند لوگوں کو بڑے بڑے عہدوں پر دیکھ کر اس کیرئیر کا انتخاب کر رہے ہیں؟ کیا آپ نے غور کیا ہے کہ آج سے دس سال بعد کیا ہوگا؟ کیا انسان فطرت سے لڑ سکتا ہے؟ اور کتنی دیر؟ اللہ تعالیٰ نے ہر فرد کو ایک متعین کام کے لیے پیدا کیا ہے ۔

اس کام کو تلاش کرنا انسان کی ذمہ داری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس مشق کو مکمل کرنے تک آپ اور آپ کے بچے کیرئیر کے انتخاب کے حوالے سے بہت بہتر پوزیشن میں آچکے ہوں گے۔ لیکن خیال رکھیں کہ بچے مایوس نہ ہوجائیں، حوصلہ ہار نہ دیں، جذبے ٹھنڈے نہ پڑ جائیں، تعلیم اور زندگی کی رغبت کم نہ ہوجائے، ان تمام باتوں کا انحصار آپ کی دانائی پر ہوگا ، آپ کے رویے اور انداز پر ہوگا۔ بچوں میں پہلے سے زیادہ شوق پیدا ہونا چاہیے جو حقیقت پر مبنی ہو، معلومات اور علم ان کا سرمایہ بنیں، اخلاق اور کردار ان کے پسندیدہ ہتھیار ہوں، جرأت اور دلیری ان کی سواری بنے اور آخری چیز اللہ پر اعتماد اور رسول ﷺ سے محبت دل و دماغ میں رچی بسی ہو۔اور اگر یہ مشق مشکل ہوجائے تو پھر ان بچوں کو کسی ایسے کیرئیر کونسلر کے پاس لے کر جائیں جو کیرئیرز کی وسعت سے واقف ہو، تعلیم کی دنیا پر نظر ہو، بچوں کی نفسیات کو جانتا ہو، کونسلنگ کا وسیع تجربہ رکھتا ہو، مزاج اور طبیعت میں ٹھہراؤ ہو، معاشرتی اونچ نیچ اور اقدار کو سمجھتا ہو۔