ترجیح کیا ہو؟ سیاست یا معیشت؟ صفدر چیمہ

معلوم انسانی تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان کی تمام تر جدوجہد کا محور ایک ہی نکتہ رہا ہے یعنی معیشت. انسان نے آج تک جس بھی شعبہ زندگی میں جتنی بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں، وہ اجتماعی جدوجہد کے طفیل حاصل کی ہیں. بقول اقبال
موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ بھی نہیں ـ

موجودہ دور میں جو ہماری معاشی حالت ہے، وہ کسی بھی اہل علم و اہل نظر سے مخفی نہیں ہے، ہماری اکثریت بھوک و افلاس کا شکار ہے اور اس سے بڑا عذاب تعلیم و شعور کی خطرناک حد تک کمی ہے، بھوک تو اکیلی بھی سماجی امن کے لیے خطرناک ہوتی ہے اور یہ بھوک اس وقت مزید خطرناک شکل اختیار کر لیتی ہے، جب اس کو جہالت کا سہارا بھی میسر ہو.

مضبوط معیشت کی پہلی شرط امن ہے اور امن کے قیام میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اور امن کے قیام کو یقینی بنانا سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے.
کیا ہمیں اس وقت کوئی ایسی مدبر اور جرات مندانہ فیصلے کرنے والی سیاسی قیادت میسر ہے جو ہمیں احساس زیاں کا احساس دلا کر سینکڑوں ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے منتشر انسانی ہجوم کو وحدت کی لڑی میں پرو کر، ایک مضبوط و متحد قوم کے قالب میں ڈھال کر. ہماری قیادت کرتے ہوئے ہمیں کسی روشن منزل تک لے جا سکے؟

میرے نزدیک مضبوط معیشت کے نعرے سے پہلے ہمارا نعرہ یہ ہونا چاہیے کہ ’’ہمیں روٹی نہیں رہنما چاہیے‘‘ کیونکہ بغیر رہنما کے نظر آنے والی منزل بھی ہاتھوں سے چھوٹ جاتی ہے، اور منزل کا ہر نشان دھندلا جاتا ہے.

---------- مضبوط معیشت بغیر مضبوط قیادت کے محض دیوانے کا خواب ہے، بلکہ مضبوط وطن پرست سیاسی قیادت مضبوط معیشت کی بنیاد ہے.

Comments

صفدر چیمہ

صفدر چیمہ

صفدر چیمہ جدہ میں پروجیکٹ مینیجر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ سیاست اور کوچنگ سے دلچسپی ہے، تربیتی لیکچرز دیتے ہیں۔ میدان عمل سے دوری لکھنے لکھانے کی وجہ ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.