سقوط ڈھاکہ کے کچھ پس پردہ حقائق - عارف گل

سید ابوالحسن علی ندویؒ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا ”انسانوں کی زندگیوں سے متعلق دو چیزیں ایسی ہیں جن کے لیے وقت کا درست تعین بہت مشکل ہے، ایک چیز کا تعلق انسان کی انفرادی زندگی سے ہے اور دوسری کا اجتماعی سے۔ انسان کی انفرادی زندگی میں نیند ایسا عمل ہے جس کے متعلق یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ یہ حقیقت میں کس گھنٹے اور منٹ آتی۔ اسی طرح اجتماعی زندگی میں قوموں کا زوال ہے جس کا کوئی متعین وقت نہیں بتایا جا سکتا۔“ تو جب قوموں کے زوال کا وقت پتہ لگانا مشکل ٹھہرا تو اس کی وجوہات معلوم کرنا اور بھی مشکل ہے۔ سقوطِ بغداد ہو یا سقوطِ غرناطہ یا پھر سقوطِ مشرقی پاکستان، ہم نے بحیثیت مسلم قوم کے ان سانحوں کی غیر جانبدارانہ تحقیق کبھی کی ہی نہیں۔ ویسے بھی شکست خوردہ قوم اس قابل ہوتی ہی نہیں کہ اپنی ناکامیوں اور خامیوں کا تجزیہ کرسکے۔ پھر ہر کوئی اپنے مخصوص مقاصد کے تحت پروپیگنڈے کے زور پر اپنی من پسند تعبیر ٹھونسنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

سقوطِ ڈھاکہ بھی انہی المیوں میں سے ایک ہے جو ابھی تک بےلاگ تجزیے اور حقیقی وجوہات کے تعین سے عاری چلا آرہا ہے۔ شکست دینے والی بیرونی طاقتوں نے پروپیگنڈے کے زور پر پاکستانی قوم کو جس راہ پر چلانا چاہا، وہ اس میں اب تک کامیاب نظر آتے ہیں۔

ہر ﺳﺎل ﺟﺐ بھی 16 دﺳﻤﺒﺮ کی تاریخ ﺁتی ہے ﺗﻮ ﺗﻮپوں کا ﺭخ دو ﮐرداروں ﮐﯽ ﻃﺮف ہوتا ہے. ﻓﻮج اور بھٹو ۔ فوج سے ﻧﻔﺮت رکھنے والے اسے فوج پر تنقید کے لیے استعمال کرتے ہیں اور دوسری طرف پیپلزپارٹی کی مخالف پارٹیاں بھٹو پر طبع آزمائی کرتی ہیں، اگرچہ فوج کے کردار سے مجھے بھی اختلاف نہیں مگر جتنا بڑھا چڑھاکر اسے بیان کیا جاتا ہے، اسے غیرجانبداری بہرحال نہیں کہا جا سکتا، اور جس میں زیب داستاں کے طور پر بہت کچھ شامل کر لیا جاتا ہے. رہی فوج تو وہ ویسے بھی آسان ہدف ہے.

جو بات تجزیوں میں کم آتی ہے، وہ غیرملکی طاقت اور خاص کر عالمی طاقتوں کا کردار ہے. جب ایک بیرونی قوت حملہ آور ہو اور عالمی طاقتیں اس کی پشت پناہ ہوں تو پاکستان جیسا دو الگ الگ حصوں پر مشتمل ملک تو رہا ایک طرف، کسی بھی ملک کو دولخت کرنا کوئی ناممکن عمل نہیں. مگر ہم اس پر کم ہی لکھتے اور بات کرتے ہیں. اگرچہ اس ھوالے سے اسی حملہ آور فوج اور اس کی حکمران جنتا کے اپنے درجنوں اعترافات کتابی صورت میں چھپ کر عام ہو چکے، مگر چونکہ ہم فیصلہ کر چکے ہیں کہ ہمارا ہدف کون ہے، لہذا یہ حوالے ہمارے لیے بس ایک بچگانہ مذاق ہیں، جس کا تجربہ مجھے گزشتہ دسمبر میں مختلف مضامین اور تجزیے پڑھ کر ہوا.

ہمارے ایک محترم صاحب علم نے اپنے ایک تجزیے میں سن 71ء کے ہندوستان کے کسی پاکستانی قیدی سی ملاقات اور اس سے پوچھے گئے سوال کہ ہندوستانی فوج نے آپ پر بڑا ظلم کیا ہوگا، اور اس کے اس جواب سے کہ بنگالیوں پر ہمارے مظالم اس سے بڑھ کر تھے، سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس سانحے کی اصل اور واحد ذمہ دار فوج تھی. جب ایک صاحب نے انھیں جنرل مانک شا کی سوانح عمری کے حوالے سے ہندوستانی فوج کے کردار کی طرف توجہ دلانا چاہی تو انھیں بچگانہ بات لگی. بجا کہ پاکستان فوج پوتر اور دودھ دھلی نہیں، مگر ہندوستان کے کردار کو بھی بچگانہ بات کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا. اس کی تفصیل میں یہاں بیان کر دیتا ہوں.

یہ بات تو طے شدہ ہے کہ 1947ء میں ہندوستان کی تقسیم کانگریس اور ہندو نے اس امید پر قبول کی تھی کہ انھیں یقین تھا کہ یہ تقسیم عارضی ہے، اور بقول سردار پٹیل، صرف چھ ماہ بعد مسلمان ہاتھ جوڑ کر ہندوستان سے دوبارہ الحاق کی بھیک مانگنے پر مجبور ہوں گے. اس عمل کو مؤثر بنانے کےلیے انھوں نے ہر وہ حربہ استعمال کیا جو اس نوزائیدہ مملکت پاکستان کو ناکام بنانے کےلیے ممکن تھا، مگر یہ امیدیں پوری نہ ہو سکیں، جبکہ ان کی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ برابر جاری رہا. ۔

باقی باتیں ایک طرف رکھتے ہوئے میں صرف بنگال سے متعلق ہندو کے کردار کے حوالوں پر اکتفا کروں گا. تقسیم کے بعد کانگریس نے سندھ میں موجود ہندو قوم کو منظم کوششوں سے مجبور اور آمادہ کیا کہ وہ نقل مکانی کرکے پاکستان سے ہندوستان آ جائیں، مگر مشرقی پاکستان خاص کر بنگال سے ہندؤوں کی نقل مکانی کو باقاعدہ طور پر منظم نہ کیا گیا. وہاں پر چونکہ ہندو بااثر تھا لہذا اسے وہیں رہنے دیا گیا، اور وہی بنگالی نوجوانوں میں نفرت کے بیج بونے کا ذمہ بنا، خاص کر تعلیمی اداروں میں.

”مشن را“ کا ﻣﺼﻨﻒ آر کے یادیو اپنی کتاب میں شیخ مجیب الرحمن سے ہندوستانی فوجی آفیسرز کے رابطوں، مکتی باہنی کے قیام اور ان کے ٹریننگ سینٹرز کی تفصیلات مہیا کر چکا. ”اوپن سیکرٹس“ کا مصنف جو ریٹائرڈ افسر ہے، بتا چکا کہ 71ء کے الیکشن سے پہلے ہندوستان مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب کی کامیابی کےلیے کس طرح متحرک رہا. شیخ مجیب کے ہندوستان سے رابطے کوئی سیکرٹ نہیں رہے، حتٰی کہ Language Movement in the East Bengal کا سوشلسٹ مصنف بدرالدین عمر لکھ چکا کہ 48ء میں ڈھاکہ میں کمیونسٹ پارٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں کہا گیا کہ ہماری مرضی کے خلاف تقسیم تو ہو گئی مگر اب اسے واپس لانا ہے اور اس اجلاس میں شیخ مجیب بھی موجود تھا، جس کا ثبوت قیام پاکستان پر اس کے اس بیان سے مہیا ہوتا ہے جس میں اس نے کہا کہ آج میری 24 سال پرانی خواہش اور آرزو پایہ تکمیل کو پہنچ گئی ہے. پھر حسنی واجد کا وہ انٹرویو جس میں اس نے بتایا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ را اور ہندوستانی فوج کے افسروں سے مسلسل ملاقاتوں میں موجود ہوتی تھی.

ﺟﺐ ﺟﻨﺮﻝ مانک شا ﮐﯽ ﺳﻮﺍﻧﺢ ﻋﻤﺮی لکھنے والا بریگیڈئیر دپندر سنگھ Soldiering With Dignity میں یہ تفصیل مہیا کرتا ہے کہ کس طرح ہم نے مکتی باہنی کے 90 ہزار لوگوں کو تربیت دی، انھیں اسلحہ دیا، انھیں رات کے اندھیرے میں مشرقی پاکستان میں داخل کیا جاتا اور ان کے ساتھ ہندوستانی فوجی بھی داخل کیے جاتے۔ کس طرھ 8 ہزار افراد کو پاکستانی فوج کی وردی پہنا کر بنگالی عورتوں کی عزت لوٹنے کا ٹارگٹ دیا گیا، تاکہ پاک فوج بدنام ہو، تو وہ کوئی بچگانہ مذاق نہیں کر رہا تھا. پھر مکتی باہنی کی تربیت کی تفصیل ایک اور ریٹائرڈ افسر اپنی کتاب Kaoboys of Raw میں بھی دے چکا ہے۔

گنگا طیارے کا اغوا اور پھر اس کا لاہور لینڈ کرنا، خود را افسر بتا چکے ہیں کہ اغوا کار را کا ایجنٹ تھا، اور مقصد پاکستانی طیاروں کو ہندوستانی فضائی حدود استعمال کرنے سے روکتا تھا. یہ اس وقت ہو رہا تھا جب ابھی نہ تو الیکشن ہوئے تھے اور نہ فوج نے مشرقی پاکستان میں کارروائی کی تھی. پھر اپریل 71ء میں جب اندرا گاندھی نے جنرل مانک شا کو مشرقی پاکستان پر حملے کا کہا اور اس نے چھ ماہ مانگے تو بھی ابھی مشرقی پاکستان میں وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی نہیں ہو رہی تھی.

اگر کسی سابق پاکستانی فوجی کا اعتراف اہم ہے تو پھر مکتی باہنی کے بنگالی تربیت یافتہ سابق ممبر کے اعترافات سے بھرپور کتاب Raw and Bangladesh کا مطالعہ بھی اہم ہے، جو کہتا ہے کہ ہمیں بےوقوف بنایا گیا تھا اور ہندوستانیوں کا مقصد بنگالیوں کے حقوق دلانا نہیں تھا بلکہ اپنا غلام بنانا تھا۔ پاکستان کی مکتی باہنی کے خلاف کاروائی اور اس کے نتیجے میں مظالم سے مجھے انکار نہیں مگر اسے جس طرح بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے، اس کا تجزیہ بنگالی مصنفوں کی کچھ کتابوں خاص کر Myth of 3 Millions اور Dead Reckoning میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ساتھ ہی مکتی باہنی نے غیر بنگالیوں اور بہاریوں پر جو مظالم ڈھائے، ان کا بھی تذکرہ کیا جانا چاہیے، جس کی تفصیل Chronology for Bihars, Death by Government , یا Encyclopedia of Violance , Peace and Conflicts اور Woman, War and Making of Bangladesh میں دیکھی جا سکتی ہے.

سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے بھٹو پر تنقید کرنے والے یاد رکھیں کہ جب بھٹو نے قومی اسمبلی کے ڈھاکہ اجلاس کے بائیکاٹ اور ٹانگیں توڑنے کی بات کی تھی تو وہ ملک دشمنی نہ تھی، بلکہ اس اجلاس میں جو ہونے جا رہا تھا اس کی پیش بندی تھی، کیونکہ اطلاعات کے مطابق اس اجلاس کی پہلی قرارداد پاکستان کو پانچ خود مختار ریاستوں میں منقسم کرنے کی تھی۔ اس طرح بنگال، پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان پانچ ریاستیں بن جاتیں۔ روس امریکہ، برطانیہ اور فرانس انہیں فورا تسلیم کر لیتے۔ پھر آپ کچھ بھی نہ کر سکتے۔ بھٹو نے اس ملک کو پانچ ٹکڑوں میں بٹنے سے بچایا نہ کہ ملک دشمنی کی۔

اور آخر میں تھوڑی سی بات سانحہ مشرقی پاکستان کے اس انتہائی سادہ اور کسی حد تک احمقانہ تجزیے پر ہو جائے جو ایک صاحب نے فرمایا کہ چونکہ مولانا ابو الکلام آزاد نے کہا تھا کہ ایسا ہوگا لہٰذا وہی ہوا۔ کیا خوب! مولانا نے کیا فرمایا تھا؟ اگر بات شورش والے انٹرویو کی ہے تو جب سے منیر احمد منیر صاحب نے اس کا جواب ”مولانا ابوالکلام آزاد اور پاکستان، ہر پیش گوئی حرف بحرف غلط“ کے نام سے لکھا ہے تو بہت سے ابو الکلامی اب مکرنے لگے ہیں اور اسے شورش کا من گھڑت انٹرویو کہنے لگے ہیں۔ یا بات India Wins Freedom کے کہے کی ہے تو اس پر تفصیلی تبصرہ پھر کبھی۔ ہاں 3 جون کے منصوبے کی منظوری کے حوالے سے کانگریس کے منعقدہ اجلاس میں جو مولانا نے فرمایا تھا، وہ نہ تو قیامِ بنگلہ دیش سے درست ثابت ہوا کیونکہ بنگال اور آسام ہندوستان میں ضم نہیں ہوئے اور نہ ہی پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کبھی ہندوستان میں ضم ہوں گے۔ باقی جولوگ رات کو اس امید پر سوتے، اس خواہش کے ساتھ صبح کو اٹھتے اور اس آرزو کے ساتھ جی رہے ہیں کہ خدانخواستہ ایسا ہو اور ہم بھنگڑے ڈالیں، اچھل کود کریں اور ڈھنڈورا پتٹتے پھریں کہ دیکھا مولانا کا کہا درست ثابت ہوا، تو ایسوں کی عقلوں پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے ۔