فیصلے اور آخری فیصلہ - نورین تبسم

زندگی فیصلوں کا نام ہے۔ بڑے بڑے فیصلے، چھوٹے چھوٹے فیصلے۔

ہمارے لیے کیے گئے فیصلے ہمارے نہیں ہوتے۔ کبھی کوئی بڑا بن کر چھوٹے فیصلے کر دیتا ہے اور کبھی ہمیں چھوٹا جان کر دوسرے بڑے فیصلے کر دیتے ہیں، اور ہم ساری زندگی بڑے اور چھوٹے فیصلوں کے بیج لُڑھکتے رہ جاتے ہیں۔ خود کو اذیت دیتے، سمجھوتے کرتے اپنے آپ سے ناخوش، خوش ہونے کی اداکاری کرتے، بےآواز چیخوں کے شور میں ”می رقصم“ - اتنی مصروفیت مہلت ہی نہیں دیتی کہ ایک پل کو رُک کر ان فیصلوں کو من و عن قبول کر لیں۔ذرا دیر کو نابینا بھکاری ہی بن جائیں جو کاسے میں پڑنے والے کھرے کھوٹے کے فرق سے انجان ہوتا ہے، پھر بھی صدا لگاتا ہے ”جو دے اُس کا بھلا جو نہ دے اُس کا بھی بھلا“۔ ہم تو بہت عقل مند ہوتے ہیں، آنکھوں والے - ہم بھی کہتے ہیں ”جس نے دیا اُس کا بھلا، اور جس کے وسیلے سے ملا اُس کا بھی بھلا، اور جو ملا وہ بھی قبول ہے“۔

بس ایک فرق ہم میں اور اُس بھکاری میں یہ ہے کہ وہ کہتا ہے جو نہ دے اس کا بھی بھلا اور ہم کہتے ہیں جو نہیں ملا وہ سب سے بھلا تھا اور ہمارا بھلا اُسی میں تھا. ہماری بات منطقی طور پر بالکل درست لگتی ہے کہ ہم تو پڑھے لکھے کامیاب انسان ہیں اور وہ گلی گلی پھرنے والا ناکام گداگر۔ غور کیا جائے تو ہم ایک بات بھول جاتے ہیں کہ زندگی کے اسباق ہمیں کہیں بھی کسی سے بھی مل جاتے ہیں، اُن کے لیے بڑے اداروں میں داخلہ لینے یا جیب میں پیسہ ہونا ضروری نہیں-

کائنات کا ہر ذرہ ہمیں زندگی کا کوئی نہ کوئی راز بتاتا ہے. فرق یہ ہے کہ دنیا کے تعلیمی اداروں میں باقاعدہ ببانگ ِدہل تصدیق کے بعد علوم پڑھائے جاتے ہیں۔ ہماری آنکھیں کھلی ہوں یا نہیں، ہمارے کان میں معلومات اُنڈیل دی جاتی ہیں جبکہ زندگی کے سبق چپکے سے کہہ دیے جاتے ہیں۔ کان حاضر ہوں یا نہیں مگر آنکھیں کھلی ہوں۔

تعلیمی اداروں میں اسباق دماغ میں محفوظ ہو کر پرچہ حل کرنےمیں مدد دیتے ہیں اور اسباق ِزندگی روح کو چھو کرکسی نہ کسی گوشے میں چھپ جاتے ہیں۔ جب آنکھ کھلتی ہے تو روشنی کے جھماکے کی طرح وہ سبق سامنے آجاتا ہے جس کی اُس وقت ضرورت ہو۔

ہمارے بارے میں کیےگئے فیصلے بھی زندگی کے ایسے ہی اسباق ہیں جو وجود میں کہیں کنڈلی مار کربیٹھ گئے ہیں لیکن ہم اُن کو تعلیمی اداروں کے اسباق کی طرح پڑھ کر اُسی وقت حل کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے پریشان رہتے ہیں کہ کیا لکھیں۔ جانتے تو ہیں نہیں۔ زندگی میں ایک ایسا وقت ضرور آتا ہے، جب ہمیں اِن فیصلوں کی اصل سے آگاہی ہو جاتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ اُس وقت ہماری آنکھوں سے خود ساختہ مظلومیت کی دُھند چھٹ چکی ہو۔ ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ اکثر جیسے روتے آتے ہیں اسی طرح روتے اور ناآسودہ دنیا سےچلے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اے وطن کے سجیلے جوانو - سعدیہ نعمان

اللہ تعالی ہمیں اپنے اندر کی آنکھ کھولنے کی توفیق عطا فرمائے، اور جتنی جلد فیصلوں کی اصلیت معلوم ہو جائے، اُتنا اچھا ہے کہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ حل ہو جائے، تو پھر ہی ہم اس قابل ہو سکتے ہیں کہ کسی کے لیے بڑے بڑے فیصلے کر سکیں۔

جہاں تک ممکن ہو، ہمیں دوسروں کے لیے بڑے فیصلے کرنے سے بچنا چاہیے، کیونکہ ہم نہیں جانتےکہ ہم کس قابل ہیں۔ اور جہاں تک ہو اپنے لیے کیے گئے تقدیر کے فیصلوں کو سمجھنا چاہیے کہ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ فیصلے جو بہت بڑے دکھتے ہیں، حقیقت میں بہت چھوٹے فیصلے تھے جنہوں نے ہمیں زندگی میں بڑا ہونے ہی نہیں دیا ۔

آخری فیصلہ
ہماری زندگی میں کیا جانے والا کوئی بھی فیصلہ بڑا اور حتمی نہیں ہوتا، سب فیصلے ہمارے اختیار میں ہوتے ہیں. ہمارے بارے میں کیےگئے فیصلے اور وہ بھی جو ہم خود کرتے ہیں اوربعد میں اُن کے نتائج بُھگتّے رہتے ہیں، آخری سانس سے پہلے سب کو بدلا جاسکتا ہے.

سب سے پہلے زندگی ملنے کے فیصلے سے نالاں ہوتے ہیں، وہ ہمیں قدم قدم پر دھوکا دیتی ہے، نامہربان ہوتی ہے۔ ٹھوکریں کھاتے ہیں، کسی مقام پر خوشی ملتی ہے نہ کامیابی کا کوئی سرا ہاتھ آتا ہے۔ بیماری لگ جائے تو روگ بن جاتی ہے.

اس کے بعد ایک اور غم کہ ہم اپنی پسند کا ہم خیال شریک ِسفر نہ ملنے پر کُڑھتے ہیں، سسکتے ہیں، قربانی دیتے ہیں، بچے ہو جائیں تو اُن کا سوچ کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ کبھی روزگار کے وسیلے سے دل برداشتہ کہ گلے کا ڈھول ہے، بس بجائے چلے جا رہے ہیں۔ اپنی مرضی سے کوئی کام بھی نہیں کر سکتے۔ ہم نے تو دُنیا میں بڑے بڑے کام کرنا تھے، ہماری صلاحیت ان معمولی کاموں میں ضائع ہو رہی ہے، دُنیا نے ہمارے جیسے ہیرے کی قدر نہیں کی وغیرہ وغیرہ ۔
ان میں سے ہر بات سو فیصد درست ہے۔ ہم ہر وقت اس کا پرچار کرتے ہیں، دل میں یا زبان پر اپنے ہم خیال لوگوں سے مل کر، ہم کہتے رہتے ہیں مگر سوچتے نہیں. اگر سوچ لیں تو ایک بات جان جائیں گے کہ ہم ”بزدل“ ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   انسان کی بے بسی - بشارت حمید

ہر فیصلہ بدلاجا سکتا ہے. زندگی سے تنگ ہیں تو مرجائیں، ایک سیکنڈ بھی نہیں لگتا۔ کسی اونچی عمارت سے چھلانگ لگا دیں، ہمسفر سے راضی نہیں تو صرف تین لفظ درکار ہیں۔ نوکری سے سمجھوتہ نہیں تو ایک دستخط چاہیے یا گھر میں رہیں بنا کسی سے کہے ُسنے، لوگ دُشمن ہیں تو اُن کو مار ڈالیں، سب ہمارے اختیار میں ہے۔

لیکن ہم نہیں مانتے کیونکہ ہم بزدل ہیں، ہمارے سامنے اگر مگر ہیں، کہیں ہمیں اللہ سے ڈر لگتا ہے، کہیں بندوں سے، کہیں بچے، کہیں ماں باپ، پاؤں کی زنجیر بن جاتے ہیں، کہیں معاشرہ اور اُس کے قوانین راستہ روک لیتے ہیں اور ہم جان چھڑانے کی خاطر اپنے آپ کو بہادر مان لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم بُزدل ہیں اور بُزدل کوئی فیصلہ کرنے کا اہل نہیں ہوتا. فیصلے صرف بہادر کرتے ہیں، سود و زیاں سے آزاد ہو کر، ایک بار بہادر بن جائیں، رب کے سامنے سر جھکا دیں، پھر احساس ہوگا کہ یہ تو بہت چھوٹے فیصلے تھے جنہوں نے ہمیں بڑا ہی نہیں ہونے دیا.

یاد رکھو! بندوں سے شکوہ نہیں کرنا لیکن اللہ سے کہنا ہے، اُس سے لڑنا ہے، لیکن! پہلے اُس کے فیصلوں کو بلا چوں چرا ماننا بھی ہے، پھر وہ تمہیں ان فیصلوں کی اصلیت بتا دے گا۔ اگر بندوں سے خفا ہوتے رہے اور اللہ سے ڈر کر اُس کے فیصلے کو مرتا کیا نہ مرتا، کے مصداق مان لیا تو اُس کی اصل سے کبھی آگاہ نہ ہو سکو گے۔ اور اگر خود کو اوّلیت دے کر فیصلے کیے تو سب سے پہلے ایمان کی دولت سے محروم ہو جاؤ گے، پھر اپنے فیصلوں کے نتائج کو بھی قبول کرنا ہوگا.

ایک رب کا فیصلہ ہے اور ایک انسان کا اِن کو باہم سمجھنا ہی کامیابی ہے۔ غور و فکر کے بغیر رب کے فیصلے کو ماننے سے خود ساختہ قناعت اور صبر و شُکر کا لبادہ تو اُوڑھا جا سکتا ہے لیکن اطمینان کی چادر سے سر نہیں ڈھانپا جا سکتا۔ ستر پوشی کے بعد سر ڈھانپنا بلا تخصیص مرد و عورت لازم ہے، خواہ اپنے آپ کو جتنا ہو سکے لباس سے آراستہ کر لیں۔

آخری بات!
اپنی زندگی کے سب فیصلوں کا اختیار وقت کو دے دو کہ یہ سب چھوٹے فیصلے ہیں اور سب سے بڑا فیصلہ تو رب کا ہے.

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں