روسی صدر کا مجوزہ دورہ پاکستان - رضوان الرحمن رضی

روسی صدر ولادی میر پوتین جن کے نام میں ’’میر‘‘ کا لفظ ہونے کی وجہ سے بعض لوگ انہیں ہمارے انتہائی قابلِ احترام دوست سجاد میر صاحب کا دور پار کا کزن قرار دینے پر مُصر ہیں، انہوں نے مستقبل قریب میں پاکستان کے دورے پر آنے کی ’خواہش‘ کا اظہار کیا ہے۔ معتبر ذرائع راوی ہیں کہ یہ ’خواہش‘ ان کے محکمہ خارجہ نے ہمارے دفترِ خارجہ کو سفارتی زبان میں پہنچا دی ہے کہ کوئی نہ کوئی بہانہ ایسا تلاش کیا جائے کہ ان کے صدر پاکستان قدم رنجہ فرما سکیں۔ تجویزکیا گیا ہے کہ کسی بڑے یا چھوٹے ترقیاتی منصوبے کے افتتاح کے موقع پر روسی صدر کو پاکستان آنے کا موقع مل جائے تو زیادہ بہتر رہے گا۔

یہ بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ ملک میں ایل پی جی کے ساٹھ کے قریب فلنگ سٹیشن ان علاقوں میں لگانے کا معاہدہ ہوجائے گا جس سے پاکستان کے انتہائی ٹھنڈے علاقوں میں، جہاں ان دنوں میں ایل پی جی نامی ایندھن کی شدید کمی ہو جاتی ہے. ان علاقوں میں ایسے فلنگ سٹیشنوں کی تنصیب سے صارفین کو سارا سال ایل این جی ایک ہی نرخ پر ملتی رہے گی۔اس وقت روس کے پاس ایل پی جی کے بے شمار پیداوار ہے جسے وہ دنیا کو برآمد کرنے کے لیے مرا جا رہا ہے۔

پہلے سننے میں آیا تھا کہ روسی صدر کراچی سے لاہور تک بچھنے والی مجوزہ پائپ لائن کے افتتاح کے موقع پر آنے کاارادہ رکھتے ہیں، لیکن امریکہ اور برطانیہ میں تربیت یافتہ ہماری افسر شاہی نے اس منصوبے کی کاغذی کارروائی مکمل کرنے پر ہی اتنا وقت لگا دیا ہے کہ اب روسی صدر کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑا ہے۔ ہمارے محکمہ قانون نے تقریباً اڑھائی سال تک اس فائل کو دبا کر رکھنے کی تگ و دو کے بعد آخر کار یہ رائے دی ہے کہ ’’ہاں! پاکستان اس ریاستی معاہدے پر دستخط کر سکتا ہے‘‘۔اب اس کے بعد معاملہ تیل و گیس کی وزارت کے بابوؤں کے ہاتھ میں ہے، اب دیکھیں کہ وہ اس گیس پائپ لائن کا فیصلہ کرنے میں کتنے سال لگاتے ہیں۔ روس میں ابھی تک چونکہ کوئی نجی شعبہ نہیں ہے، اس لیے معاملہ ریاستی اداروں کے درمیان میں ہی طے ہوگا۔ اس وقت عالمی منڈی میں سب سے آسان شرائط پر یہی قرض دستیاب ہے اور چینی طریق کار کے ہم وزن، روسی یہ پائپ لائن اپنے سرمائے سے اپنی کمپنی کے ذریعے لگا کر دینے پر مُصر ہیں۔ نہ ٹیکنالوجی کا مسئلہ اور نہ ہی فنانشل کلوز کرنے کا جھنجھٹ کہ اس ملک کے بہت سے بڑے منصوبے فنانشل کلوز کے انتظار میں الماریوں میں ’کلوز‘ ہو چکے ہیں، جیسے کہ کالاباغ ڈیم۔

گذشتہ ستر سال سے چیوننگ (برطانوی ) اور فل برائیٹ (امریکی) سکالرشپ کو زیادہ تر پاکستان کی افسر شاہی تک محدود رکھنے کے لامحدود فضائل اب ہمارے ان دوست ممالک کی جھولیوں میں سمٹ رہے ہیں اور چین و روس کی طرف سے آنے والے ہر منصوبے کو ایسی بریکیں لگتی ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ اسی سے سیکھتے ہوئے چین نے بیجنگ میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں اقتصادی راہداری کے ساتھ ساتھ ’’علمی راہداری‘‘ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ ویسے یہ راہداری پہلے بھی کھلی ہے لیکن اب تک چین کی طرف سے آنے والی تمام پیش کشیں سینیٹر مشاہد حسین سید کی الماری میں بند ہو جاتی ہیں، اور چین کی طرف سے جتنے بھی تعلیمی وظائف پاکستان آتے ہیں، وہ ان کے ’’ہم خیال‘‘ پاکستانیوں تک ہی محدود رہتے ہیں، عوام الناس کو اس کی ہوا تک نہیں لگنے دی جاتی، اور پھر سینکڑوں طلبہ چپکے سے چین چلے بھی جاتے ہیں، مفت اعلیٰ تعلیم کے لیے۔ سوچنے کی بات ہے کہ جب باقی ملکوں سے آنے والے تعلیمی وظائف ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے دیے جاتے ہیں تو چین میں پیشہ ورانہ اعلیٰ تعلیم کے وظائف کی ملکی سطح پر تشہیر کیوں نہیں ہوتی؟

یادش بخیر امریکہ نے گذشتہ ستر سال کے دوران پاکستان میں کل ملا کر 48 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جس کے بدلے ہم نے افغانستان میں دو امریکی دو جنگیں بھی لڑی ہیں، اس میں تیس سال کے بعد قابلِ ادا ہونے والا دو فیصد شرحِ سود کا وہ قرض بھی شامل تھا جس کے عوض ہم امریکہ سویابین اور سویا میل (کھلی) بھی درآمد کیا کرتے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 1956ء میں شروع ہونے والے اس قرض پروگرام کی پہلے قسط کی واپسی جب 1986ء میں واجب الادا ہوئی تو ہمارے ملک کے مالیاتی نظم و ضبط کا بیڑہ غرق ہو چکا تھا اور ہم مالیاتی بدنظمی کا ایسا شکار ہو چکے تھے کہ اب تک اس جہاز کو سنبھالا ہی نہیں پایا جا رہا۔ شاید اس قرض کا مقصد ہی یہی ہو، اسی لیے تو دن رات اس قرض کی تشہیر کی جاتی ہے پاکستانی میڈیا پر۔ یہ کیسی کمال کی بات ہے کہ امریکہ کو ہماری قوم کو یہ بتانے کے لیے کہ اشتہار دینا پڑتے ہیں جبکہ چینی بھائیوں کو یہ تردد نہیں کرنا پڑتا۔ اسے کہتے ہیں ’حسن وہ جو سر چڑھ کر بولے‘۔

دفترِ خارجہ میں یہ سوچ پائی جا رہی ہے کہ بالائی سندھ کے قصبے کشمور کے پاس گدو کے مقام پر روس کی مدد سے 1969ء میں قائم کیے گئے بجلی سازی کے کارخانے کے ’نئے جنم‘ کی افتتاحی تقریب میں ہی پیوٹن صاحب کو بلا لیا جائے۔ کہتے ہیں کہ گیارہ سو میگاواٹ صلاحیت گدو پاور منصوبہ 2012ء میں محض دو سو میگاواٹ تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ وفاق میں برسراقتدار سندھ کی پارٹی اس امر پر لڑ رہی تھی کہ اس کی بحالی کا ٹھیکہ کس کو ملے گا؟ کیوں کہ قادر پور گیس فیلڈ کی بحالی کے منصوبے میں اُس وقت کی ایک انتہائی شخصیت کے بھائی نے جس طرح استعمال شدہ مشیری، نئی قرار دے کر بیچ کر لمبی دیہاڑی لگا کر اس کا بیڑہ غرق کیا تھا، اور جن کو آج تک کسی نے نہیں پوچھا ، تو گدومنصوبے پر ہاتھ صاف کرنا اب کسی اور کا ’حق‘ تھا ورنہ سندھ کے حقوق خطرے میں پڑ جاتے، اور پاکستان پھر نہ ’’کھپے‘‘ ہوجاتا۔ اس لیے کراچی کو پنجاب کے کوٹے میں چھ سے آٹھ سو میگاواٹ کی فراہمی جاری رہتی (جی وہی بجلی جس کا جامشورو کے بعد کوئی حساب نہیں ملتا) لیکن ابھی لڑائی جاری تھی کہ اتنے میں انتخابات ہوگئے۔

انتخابات کے بعد میاں نواز شریف نے پنجاب کی بجلی بچانے کے لیے اس کو تیل کے بجائے گیس پر بحال کرنے کا منصوبہ بنایا بلکہ اس میں ایک اور پلانٹ مزید لگانے کا حکم بھی دے دیا جن کے چلنے سے اب مرکزی پاکستان میں واقع اس بجلی گھر کی صلاحیت دوہزار میگاواٹ سے بڑھ جائے گی۔ اس منصوبے پر دستاویزی فلم بنانے والی ایک ٹیم کے ارکان کے ساتھ گذشتہ دنوں لاہور میں ایک ملاقات کا اتفاق ہوا، ان کا خیال تھا کہ کوئی دن جاتا ہے کہ میاں نواز شریف اس منصوبے کا افتتاحی ربن کاٹنے پہنچ جائیں اور دشمنوں کے سینوں پر مونگ دل کر واپس آئیں۔ اُدھر بلاول کے ننھے سے دل میں مُنی سے خواہش بس یہی ہے کہ اس منصوبے کے افتتاح میں ’’پاپا‘‘ بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہوں، ورنہ پھر ’پاکستان نہ کھپے‘۔ لیکن کیا کریں ’مُنی‘ تو کافی بدنام ہو چکی ہے۔

حال ہی میں افغانستان کے موضوع پر ہونے والی سہ فریقی کانفرنس جس میں پاکستان، روس اور چین کے نمائندے شریک ہوئے، اس میں افغان طالبان کی قیادت کو اقوامِ متحدہ کی دہشت گرد فہرست میں سے نکلوانے پر بات کی گئی۔ اس کے علاوہ اس کانفرنس میں افغان طالبان کو ایک جائز فریق ماننے کے بعد ان کی سہولت کاری کی بات کی گئی۔ یہ پہلی کانفرنس تھی جس میں کسی نے پاکستان کو جوتے نہیں مارے ورنہ اس طرح کی ہر کانفرنس میں ہمیں جوتے مار کر کہا جاتا ہے ’’چل لگ اگّے‘‘۔ اس امر میں واشنگٹن، کابل اور نئی دہلی پیش پیش ہوتے رہے ہیں، لیکن اس دفعہ اس کانفرنس کے نتیجے سے ان تینوں جگہوں سے بہت سی ایسی آہ و بکا بلند ہوئی ہے جیسی کوک سٹوڈیو میں بچے بچیاں کرتے پائے جاتے ہیں۔ یہ توقابلِ فہم تھا لیکن پاکستان کے اندر چڑیا والی سرکار کی اسی سر میں آہ و بکا کی سمجھ نہیں آئی۔

خیر ولادی میر پوتن صاحب آئیں، ہمارے دعائیں اپنے ملک و قوم کے ساتھ رہیں گی کیونکہ اس سے پہلے جب بھی انہوں نے آنے کا ارادہ ظاہر کیا، ہمارے ہاں سیاسی اور عدالتی معاملات کچھ ایسے بگڑے کہ ہمیں ان سے معذرت کرنا پڑی۔ اللہ کرے ان کے دورے سے پہلے کسی کو دھرنا اور ’چور وزیر اعظم‘ کا احتساب اور ’شکریہ‘ ادا کرنا یاد نہ آ جائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */