دو پسندیدہ خصلتیں، بردباری اور اطمینان - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

فتحِ مکہ (8ھ) کے بعد قرآن مجید کی پیشین گوئی کے مطابق لوگ جوق در جوق اللہ کے دین میں داخل ہونے لگے. عرب کے مختلف اطراف سے پیہم وفود آنے لگے. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ان کا استقبال کرتے، انھیں مسجدِ نبوی میں ٹھہراتے اور انھیں اسلامی عقائد اور بنیادی تعلیمات سے آگاہ کرتے. اس طرح ان میں سے زیادہ تر افراد حلقہ بہ گوش اسلام ہوکر اپنے علاقوں میں واپس جاتے.

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے شرفِ ملاقات و بیعت حاصل کرنے کے لیے آنے والے ان وفود میں سے ایک وفد عبد القیس بھی تھا. یہ بحرین سے آیا تھا_ اس میں تقریباً 20 افراد تھے.

وفد مدینہ پہنچا. لوگ سواریوں سے اترے. ہر شخص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات اور مصافحہ کرنے کے لیے بے تاب تھا اور کیوں نہ ہوتا. انھیں آپ کے بارے میں جو کچھ معلومات پہنچی تھیں، ان سے ان کا دل آپ کی محبت و عقیدت سے بھر گیا تھا. انھوں نے طویل مسافت اونٹنیوں کے ذریعے طے کی تھی، ورنہ ان کی وارفتگی کا عالم تو یہ تھا کہ اگر ان کے بس میں ہوتا تو پَر لگا کر اُڑ آتے.

مسجد نبوی کے پاس پہنچ کر وہ اپنی سواریوں سے اترے، جیسے تیسے سامان رکھا اور بھاگ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پہنچے اور آپ ص کے ہاتھوں اور پیروں کا بوسہ لینے لگے.

اس موقع پر وفد کے ایک فرد کا عمل دیگر افراد سے مختلف تھا. وہ سواری سے اترا، اسے ایک مناسب جگہ باندھا، اپنا سامان لےجا کر سلیقے سے ایک جگہ رکھا، اس میں سے صاف کپڑے نکالے، دورانِ سفر کے مَیلے کپڑے اتار کر انھیں پہنا، پھر پوری طرح تیار ہو کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا _ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دیکھ کر فرمایا :
’’تمھارے اندر دو خصلتیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں : بردباری اور اطمینان.‘‘

ان صاحب کا نام منذر بن عائذ تھا. کسی زمانے میں گدھے نے انھیں لات مار دی تھی، جس سے ان کا چہرہ زخمی اور بد ہیئت ہوگیا تھا، اسی بنا وہ ’اشجّ‘ کے لقب سے مشہور ہوگئے تھے . اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے ملاقات کا اشتیاق حضرت اشج کو بھی تھا، لیکن دوسرے ارکانِ وفد کی طرح انھوں نے بےتابی نہیں دکھائی. ممکن ہے، جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرنے اور سستی دکھانے پر ان کے ساتھیوں نے انھیں ملامت کی ہو، لیکن انھوں نے کسی کا برا نہیں مانا اور اپنے کام سے کام رکھا. وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں دیر سے پہنچے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف کی اور ان کی دو خوبیوں کی تحسین فرمائی: حلم اور أناۃ

’حِلْم‘ کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کی کوئی بات یا عمل یا رویّہ ناگوار گزرے، لیکن آدمی اس کو نظرانداز کرے اور ’أناۃ‘ کا استعمال جلد بازی کے برعکس مفہوم میں ہوتا ہے.

یہ دو خصلتیں انسان کی شخصیت کو بناتی سنوارتی ہیں، چنانچہ کتب حدیث و سیرت میں مذکور ہے کہ یہ وفد مدینے میں دس روز رکا. دیگر ارکانِ وفد نے جیسے تیسے وقت گزارا، لیکن اشج رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارتے، آپ سے قرآن سیکھتے اور دین کے مسائل دریافت کرتے. حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو بھی خاصا قرآن یاد تھا، اشج ان کے پاس بھی جاتے اور ان سے قرآن پڑھتے.

یہ وفد جب واپس ہوا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارکانِ وفد کو تحائف دیے. آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دوسروں کے مقابلے میں حضرت اشج کو زیادہ دیا.

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مطلوب یہ ہے کہ آدمی جو کام بھی کرے، بہت سلیقے اور خوب صورتی سے کرے، اور اگر اس کے کام میں لوگ نقص نکالیں تو ان سے نہ الجھے. جلد بازی کے ساتھ کسی کام کو غیر معیاری طور پر انجام دے لینا کوئی خوبی نہیں ہے. خوبی یہ ہے کہ کام معیاری ہو، چاہے اس میں زیادہ وقت لگے.

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.