سی پیک اورگوادر کے طلبہ کا سوال - ببرک کارمل جالی

سی پیک تو بلوچستان میں ہے مگر ترقی پنجاب میں ہو رہی ہے؟
یہ سوا ل گوادر کی ایک طالبہ نے خادم اعلیٰ پنجاب جناب شہباز شریف سے پو چھا. اس سوال کا جواب دینے سے تو خادم اعلیٰ قاصر رہے، اور میزبان نے ایک قہقہے کے بعد خاموشی اختیار کر لی۔
اس خبر کو میڈیا نے بہت چلایا، ہر طرح کے میڈیا نے اس خبر کو اچھالا اور ہیڈ لائن میں جگہ دی۔

اپریل 2015ء میں چینی صدر شی جن پِنگ کے دورہ پاکستان میں سی پیک سے منسلک منصوبوں کی تفصیلات سامنے آئیں، جن کی کل لاگت 46 ارب ڈالر تھی۔ اس میں سے تقریباً 34 ارب ڈالر توانائی سے متعلق منصوبوں پر جبکہ تقریباً دس ارب ڈالر سڑکوں اور آمد و رفت کے ذرائع کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ چینی صدر نے اس موقع پر ملک کی قومی اسمبلی سے بھی خطاب کیا اور سی پیک کو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کا محور قرار دیا۔

اس سال اکتوبر تک مزید آٹھ ارب ڈالر کے منصوبوں کی منظوری کے بعد سی پیک تقریباٌ 55 ارب ڈالر کی لاگت کا منصوبہ بن چکا ہے اور اس کو گیم چینجر یعنی ملک کی تقدیر بدلنے والے منصوبے کی حیثیت سے دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت اور منصوبے کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ سی پیک نہ صرف ملک کی تقدیر بدل دے گا بلکہ اس منصوبے سے پاکستان میں غربت اور دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا اور لگتا ایسا ہے کہ جیسے دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔ لیکن اس منصوبے کے آغاز کے تین برس گزرنے کے بعد بھی سی پیک کو وہ غیر مشروط عوامی پذیرائی نہیں مل رہی جیسی شاہراہِ قراقرم کو ملی تھی۔

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے 80 طلبہ اور طالبات گذشتہ دنوں صوبہ پنجاب کے چار روزہ دورے کے بعد سرکاری لیپ ٹاپس کے ساتھ واپس لوٹے ہیں۔
یہ طلبہ پنجاب کی مہمان نوازی سے کافی متاثر دکھائی دیتے ہیں، تاہم وزیراعلیٰ پنجاب کے ساتھ ایک ملاقات میں بلوچ طلبہ کے سوالات نے شہباز شریف کو مشکل میں بھی ڈال دیا۔ سوال تھا کہ سی پیک کے تحت اہم اور کلیدی کردار گوادر کا ہے لیکن ترقی پنجاب میں ہو رہی ہے، آخر کیوں؟ تقریب کے میزبان نے اس پر قہقہہ لگانے پر اکتفا کیا۔

گوادر واپسی پر بات کرتے ہوئے ان طلبہ نے کہا کہ وہ بھی اس ترقی اور خوشحالی کے خواہاں ہیں، جو انھوں نے پنجاب میں دیکھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات میں ان طلبہ نے مزید کہا کہ سی پیک کا سن سن کر تھک چکے ہیں، مگر ان کے پاس پینے کے لیے صاف پانی ہے نہ کپڑے استری کرنے کے لیے بجلی، لیکن جب سیاستدان گوادر کا دورہ کرتے ہیں تو لوڈ شیڈنگ ختم ہو جاتی ہے۔ ان طلبہ کی شکایت تھی کہ چینی زبان سیکھنے کے لیے طالب علموں کو بھی لاہور سے بھیجا جاتا ہے۔ ان طلبہ کو لاہور کے مختلف تعلیمی اداروں کے علاوہ مینار پاکستان، لاہور قلعہ اور شالامار باغ اور واہگہ سرحد جیسے تاریخی مقامات کی سیر بھی کروائی گئی. لاہور بہت ترقی یافتہ ہے، اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم ہیں، اور گوادر کے ان طلبہ کی خواہش ہے کہ گوادر بھی اتنا ہی ترقی یافتہ ہو جائے۔ بلوچستان کے طلبہ میں بھی بہت ٹیلنٹ ہے۔ انھیں بھی اگر ویسی سہولیات مل جائیں تو وہ بھی بہت اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔اس دورے سے ان طلبہ کو اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں جو انھیں مستقبل میں کام آئیں گی۔ وہ اس طرح کے مزید دوروں کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔ اس دورے میں اکثریت ایسے طلبہ کی تھی جو زندگی میں پہلی مرتبہ لاہور گئے تھے.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس منصوبے کے لیے سرکاری مشینری پوری طرح استعمال کی جا رہی ہو، عوام اور حکومت دونوں کی پوری توجہ اس منصوبے پر مرکوز ہو تو ایسے سوال کیوں اٹھ رہے ہیں، اور جب بھی کوئی سوال کرے تو برا کیوں لگتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس منصوبے میں جب تک شفافیت نہیں آئے گی، اس وقت تک سوال اٹھتے رہیں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس منصوبے کے بارے میں کسی کو بھی کوئی معلومات نہیں ہیں۔ یہ کسی صوبے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ منصوبہ پورے ملک کا ہے.

سی پیک ایک طویل مدتی منصوبہ ہے، اور اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن جس طرح سے اس کے بارے میں مبالغہ آرائی کی جا رہی ہے، وہ ہوائی قلعے تعمیر کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان کو اگر اپنی تقدیر بدلنی ہے، تو اس کے لیے پالیسی اصلاحات ضروری ہیں، اس کے بغیر کسی بھی قسم کا منصوبہ مکمل طور کامیاب نہیں ہو سکے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com