فیس بک کا استعمال کیسے کم کریں؟ حنا نرجس

میں نے فیس بک کے استعمال کا دورانیہ کم کرنے کے لیے بہت سی ٹپس آزمائی ہیں مثلاً دن میں صرف کچھ گھنٹے مخصوص کرنا، رات کو ایک خاص وقت کے بعد انٹرنیٹ ڈیوائس آف کر دینا، دن کے پہلے نصف حصے میں یعنی ظہر تک لاگ ان نہ ہونے کا عہد کرنا، اور بہت سی دوسری بھی لیکن زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی. خود ساختہ اصولوں کو خود اپنے ہی ہاتھوں توڑنا کیا مشکل ہے بھلا؟ 🙂

ویسے میرے یا کسی بھی لکھنے والے اور فیس بک کو ایک میڈیم کے طور پر استعمال کرنے والے کے پاس تو اس بے اصولی کی ایک ٹھوس وجہ بھی موجود ہے یعنی تحریر شیئر کر کے فالو اپ کرنا اور یہ تجسس رہنا کہ قارئین کی کیا رائے ہے.

بہرحال ایک ٹپ بالآخر کامیاب ہو ہی گئی اور اس پر عمل کرنے سے نہ صرف فیس بک کا استعمال پہلے سے زیادہ مثبت اور تعمیری ہوا بلکہ بہت سے دوسرے اہم اور تخلیقی کام بھی عمدگی سے انجام پائے جانے لگے.

تو کرنا صرف اتنا ہے کہ جو بھی آپ کی ذمہ داریاں ہیں ان کو توجہ سے انجام دینا ہے اور جب ایک کام یا اس کا کچھ قابلِ ذکر حصہ مکمل ہو جائے تو درمیانی وقفوں میں ریلکس ہونے کے لیے خود کو انعام دینا ہے 🙂

مثلاً آپ کو فزکس کا ایک چیپٹر ٹسٹ کے لیے تیار کرنا ہے. ایک گھنٹہ فوکس ہو کر مطالعہ کریں. پندرہ منٹ کی بریک میں فیس بک پر آ جائیں. پھر واپس جا کر numericals تیار کر لیں. مکمل ہو جائیں، تو پندرہ منٹ کی پھر بریک.

یا آپ کو ایک گھنٹہ کا کوئی ریکارڈ شدہ لیکچر سننا ہے. آدھا گھنٹہ توجہ سے سنیں، پھر پندرہ منٹ کی بریک، پھر بقیہ آدھا گھنٹہ مکمل کر لیں.

کچن میں سالن کی تیاری کر کے پکنے کے لیے چڑھا دیا ہے، آٹا گوندھ لیا ہے، اب بریک لے لیں. پھر روٹی پکا لیں. پھر کھانا کھاتے ہوئے میری طرح بائیں ہاتھ میں سیل پکڑ لیں، بشرطیکہ آپ کو ایک ہاتھ سے کھانا کھانا آتا ہو.

یہ بھی پڑھیں:   5 جی سروسز باقاعدہ طور پر چین میں متعارف

اب تو آپ سمجھ گئے نا کہ اگر آپ بار بار نوٹیفکیشنز چیک کرنے کے عادی ہیں تو لاگ ان ہونے کو اپنے کسی کام کی تکمیل کے ساتھ مشروط کر دیں اور بس. آپ کہیں گے کہ یہ تو پندرہ پندرہ منٹ کی بہت ساری بریکس ہو جائیں گی روزانہ.

نہیں ایسا نہیں ہو گا. جلد ہی آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ جس بریک کے لیے آپ اپنے بڑے بڑے کام شوق سے انجام دے لیتے ہیں وہ کوئی اتنی پرکشش بھی نہیں ہے 🙁

ہوتا کیا ہے؟ ایک کسی غیر متعلقہ پوسٹ پر ٹیگ کیے جانے کا نوٹیفکیشن ہو گا تو باقی اسی پر ہونے والی سرگرمیوں کے. یا پھر
she/he also commented on so and so's post
کا ہو گا یا پھر آپ کی ان پوسٹس کی یاد دہانی پر مبنی ہو گا جو آپ نے حال ہی میں سیو کی ہیں. یوں جلد ہی آپ addiction پر قابو پا لیں گے. کم از کم اتنا تو ہو گا ہی کہ تجسس و اشتیاق اس درجے کا نہیں رہے گا.

آخری اور اہم ترین بات یہ کہ ہم یونہی سرسری سا چیک کرنے کے لیے لاگ ان ہوتے ہیں کوئی بہت اچھی تحریر نظر سے گزرتی ہے، پھر ایک اور، پھر ایک اور، پھر ایک اور... ہم کہیں سے کہیں نکل جاتے ہیں اور انہی بھول بھلیوں میں بہت سا وقت گزار دیتے ہیں.

تو ایک سادہ سی بات ذہن میں رکھیں. دنیا میں بہت سا مفید علم مفت دستیاب ہے. انٹرنیٹ پر، رسائل، اخبارات، ویب سائٹس، کتب کے علاوہ آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں بھی. آپ سارا کا سارا تو نہیں سمیٹ سکتے نا! تو بس رینڈم مطالعہ کے لیے اپنے مخصوص کردہ وقت میں ہی مقید رہیں نہ کہ دستیاب تحاریر کے ساتھ بہتے چلے جائیں. سب کچھ تو کوئی بھی نہیں پڑھ سکتا، تو آپ ہی کیوں پڑھنا چاہتے ہیں؟ 🙂

یہ بھی پڑھیں:   آزادی مارچ کی ڈاکٹرائن ؟ قادر خان یوسف زئی

مان لینا چاہیے کہ جیسے ہر بندے اور بندی کا ایک نام ہوتا ہے اسی طرح اس کا ایک فون نمبر، ایک فیس بک اکاؤنٹ اور ایک واٹس ایپ اکاؤنٹ بھی ہوتا ہے. پچھلے دور میں پلٹنا تو ممکن نہیں رہا لیکن نئے دور کی باگیں اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوشش تو کی جا سکتی ہے نا!

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.