دماغ کی بتی اور عمران خان - علامہ تصور عنایت

میاں نوازشریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، اسفندیار ولی اور الطاف حسین میں سے کوئی ایک بھی کرپٹ نہیں ہے۔
صرف یہی کیوں؟
ہماری 70 برس کی تاریخ میں کوئی جرنیل، کوئی بڑا بیوروکریٹ، اور نہ ہی کوئی بڑا جج کرپٹ گزرا ہے۔

بات ہضم نہیں ہوئی شاید؟
چلو !گردن کے اوپر اور بالوں کے نیچے ایک دماغ نام کی چیز ہوتی ہے، اُس پر زور ڈال کر، اُن دس بڑے لوگوں کے نام بتائیں جن کو کرپشن پر سزا ہوئی ہو؟

چلیں بس کریں۔
زیادہ مت سوچیں، نہیں ملیں گے۔
دماغ پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ سنا ہے بادام کی قیمت بھی کافی بڑھ چکی ہے۔
نہیں ملے ناں!
پس ثابت ہوا کہ پاکستان وہ خوش قسمت ملک ہے جس پر اپنے قیام سے لے کر آج کے دن تک صرف اور صرف ایماندار اشرافیہ نے حکومت کی ہے۔

کیوں صاحب! بات ناگوار گزری ؟
آپ ہی تو دلیل دیتے ہیں کہ اگر میاں نوازشریف پانامہ کیس سے بچ نکلے تو وہ ایماندار ثابت ہو جائیں گے اور عمران خان صاحب جھوٹے ثابت ہو جائیں گے۔
یہی دلیل میں دے رہا ہوں کہ اگر کیس سے بچ نکلنا ہی ایمانداری کا ثبوت ہے تو ماضی کی تمام حکمران اشرافیہ بھی ایماندار تھی۔ آپ کے اور میرے سمیت ساری قوم جھوٹی ہے جو کہتی ہے کہ ہمیں آج تک کوئی ایماندار حکمران نہیں ملا۔ ہمیں شرم آنی چاہیے اتنی ’’ایماندار‘‘ حکمران اشرافیہ پر جھوٹے الزامات لگاتے ہوئے۔ کیونکہ ثابت تو کسی پر کچھ بھی نہیں ہوا آج تک۔

دو نتائج نکل سکتے ہیں۔
پہلا یہ کہ آج تک کی تمام حکمران اشرفیہ انتہائی ایماندار اور پاکباز تھی۔ دلیل وہی کہ کسی کو سزا نہیں ہوئی۔
دوسرا یہ کہ ہمارا نظام اوپر سے نیچے تک گلا سڑ ا ہے، جس میں کسی طاقتور کو سزا نہیں ہوسکتی۔ جہاں طاقتور کے لیے NRO، پلی بارگین، قطری شہزادے سمیت بچ نکلنے کے ہزاروں رستے ہیں۔

مگر ہم عام عوام کو ’’چِھتر بارگین‘‘ کی بھی سہولت میسر نہیں ہے۔ وہ بھی پورے کھانے پڑتے ہیں۔
او خدا کا واسطہ ہے دماغ کی بتی آن کرو، اور سوچو کہ اس ملک کی ساری کی ساری حکمران اشرافیہ عمران خان کے خلاف متحد کیوں ہو چکی ہے؟ یہ سب میاں نواز شریف کی محبت میں اکٹھے نہیں ہوئے، بلکہ انہیں اچھی طرح علم ہے کہ اگر اس ملک میں طاقتور کے احتساب کی روایت چل نکلی تو ان میں سے کوئی نہیں بچے گا۔ اور قوم کے منہ کو طاقتور کے احتساب کا خون لگ گیا تو پھر قوم انہیں سیاسی اور قانونی طور پر کچا نِگل جائے گی۔

ایک بات یاد رکھیں!
حکمران اشرافیہ اور اس سٹیٹس کو سے فائدہ اُٹھانے والے تمام لوگ نوازشریف کو بچانے کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔ قطری شہزادہ تو کیا شاید یہ اُس کے ’’ابے‘‘ کو بھی دوبارہ زندہ کر کے عدالت میں پیش کرنے کی کوشش کریں۔ وجہ وہی کہ کہیں اُن کا نمبر بھی نہ آجائے۔

حل کیا ہے؟
حل یہ ہے کہ عوام عمران حان کے ساتھ مل کر دباؤ بڑھاتے جائیں تا کہ کیس میں ڈنڈی نہ ماری جا سکے۔
اور اگلے انتحابات میں ووٹ ڈالنے سے قبل اپنے دماغ کی بتی آن رکھیں۔

ویسے آپس کی بات ہے!
میرے دماغ کا فیوز اڑ گیا ہے، اس لیے میرے دو ہی نعرے ہیں:
شیر آیا شیر آیا
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے

Comments

علامہ تصور عنایت

علامہ تصور عنایت

علامہ تصور عنایت جرمنی میں مقیم ہیں۔ سیاست اور فلسفے کے طالب علم ہوں۔ طنز و مزاح لکھنا پسند کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */