ترکی اور پاکستان کے اسلامسٹوں میں فرق - سردار جمیل خان

رجب طیب اردگان کا ترکی ایسا ملک ہرگز نہیں تھا
٭ جہاں حاکمیت اعلی کا تصور اللہ تبارک و تعالی کے لیے مختص ہوتا۔
٭ قرارداد مقاصد متفقہ آئین کا دیباچہ ہوتی، اور جہاں
٭ قرآن و سنت کے منافی قانون سازی پر قدغن ہوتی
بلکہ ترکی شراب، شباب و کباب سے لت پت ایک ایسا بے دین معاشرہ تھا جہاں
٭ طاقتور فوج سیکولرازم کی محافظ تھی۔
٭ آذان و سکارف پر پر پابندی تھی۔
٭ اسلام کے حق میں نظم پڑھنے پر اردگان کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔
٭ ایک آرمی جرنیل کو محض اس لیے برطرف کر دیا گیا کہ اس کے بیٹے نے قرآن حفظ کر لیا تھا۔
٭ ترکی کے عوام کی اکثریت سورۂ فاتحہ بھی ٹھیک تلفظ سے پڑھنے سے قاصر تھی۔
۔
کبھی اہل دانش نے غور کیا کہ اردگان نے ایسے معاشرے میں ایک طاقتور جمہوری انقلاب کیسے برپا کر دیا، جس نے نہ صرف ترکی کی معیشت کو سہارا دیا بلکہ بگڑے ہوئے ترک جرنیلوں کے ناک میں نکیل ڈال دی حتی کہ چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ترک عوام اور پولیس نے فوجی بغاوت کو پاؤں تلے روند ڈالا۔

بلاشبہ ترکی کا دھاندلی سے پاک شفاف انتخابی نظام بھی اس جمہوری انقلاب کا ایک اہم اور بنیادی سبب ہے، مگر ایک اور بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اردگان نے اپنی قوم کو مذہبی/ سیکولر، شیعہ/سنی، دیوبندی/بریلوی، نمازی/بےنمازی، ٹوپی/ پی کیپ، داڑھی/کلین شیو، برقع/میک اپ اور تسبیح و گٹار کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے بجائے قوم کو روٹی، روزی و روزگار سے جڑے مسائل، انصاف، مساوات، مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے منشور پر اکٹھا کیا اور جب اقتدار نصیب ہوا تو قوم کو معاشی ریلیف دینے کے ساتھ بتدریج اسلامائزیشن بھی کی، نتیجتا آج اردگان عالم اسلام کی سب سے زیادہ با عزت اور توانا آواز بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹی20 بارش کے باعث منسوخ

امریکہ و مغرب اور اتحادی اردگان کے خلاف صف آرا ہیں، ممکن ہے انہیں دوبارہ اندرونی بغاوت کا سامنا بھی کرنا پڑ جائے مگر اردگان نے اسلامی تحریکوں کو اس راز سے آشنا کر دیا ہے کہ ایک پرامن جمہوری انقلاب کیونکر ممکن ہے۔

ترکی کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بنیاد ہی کلمہ طییبہ پر ہے، تحریر و تقریر کی ایسی بےلگام آزادی کہ ساری دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی مگر مذہبی و غیر مذہبی، علاقہ و قبیلہ کے خانوں میں تقسیم اور گروہی جتھہ بندی نے قوم کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا۔

سیکولر، لبرل یا خود کو اعتدال پسند کہلوانے والے عناصر جو 1948ء سے آج تک کسی نہ کسی روپ میں ملک پر مسلط رہے، بدترین کرپٹ، بزدل اور نااہل ثابت ہوئے، جنہوں نے سیاست و اقتدار کو صرف اور صرف لوٹ مار اور اپنے ذاتی کاروبار کی وسعت کا ذریعہ بنایا۔

مسلکی اور فرقہ پرستی میں لتھڑی ہوئی مذہبی سیاست کے علمبرداروں نے بھی قوم کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ مذہبی پیشواؤں نے حصہ بقدر جثہ کے اصول کے تحت ہر حکومت کے سانچے اور کھانچے میں فٹ ہو کر ایک دو وزارتوں، ایک دو چئیرمینیوں کے ساتھ ساتھ اپنے لیے مٹن بریانی کی دیگ اور اپنے مدارس کے طلبہ اور جذباتی پیروکاروں کے لیے چاول چنا کی چند پلیٹوں کا حصول کافی سمجھا۔

ایسے میں اردگان کی جیت پر جشن منانے والی اور خود کو ماڈرن اسلامی جمہوری جماعت کہلوانے والی جماعت اسلامی بھی اسلام کی حقیقی آئیڈیالوجی کو سمجھنے اور بہت حد تک اس پر عمل پیرا ہونے کے باوجود بھی آج تک قوم کو یہ سمجھا ہی نہیں سکی کہ وہ کہاں کھڑی ہے؟ جماعت اسلامی کے صالحین بھی اختلافی مسائل، فروعی و مسلکی مباحث، شخصیات کی نجی زندگیوں اور ذاتیات کو ہدف بنانے میں خاصی دلچسپی لیتے ہیں۔ کوئی پوچھے کہ کیا ترکی، مراکش، کویت، الجزائر، فلسطین، تیونس اور مصر کے لوگ اسلامی تحریکات کو اس لیے ووٹ دیتے ہیں کہ وہاں کے کارکنان اپنا منشور پیش کرنے کے بجائے مخالف پارٹی کی لڑکیوں کے ڈانس، مجرے، ٹھمکے، ناچ گانے، برقع اور میک اپ ڈسکس کرتے ہیں؟ کیا وہاں بھی اسلامی تحریکوں کے کارکن بنیادی انسانی مسائل کو زیر بحث لانے کے بجائے اپنا تقوی، داڑھی، ٹوپی، تسبیح، پرنا، کرتا، پاجامہ اور خشوع و خضوع دوسروں پر زبردستی ٹھونستے ہیں؟
جوابا ہر حال میں روایتی بھیڑ چال پر ڈٹے رہنے کے لیے فورا سقراطی تاویل آ جائے گی کہ ترکی، تیونس اور سوڈان کے حالات پاکستان سے مختلف ہیں، مگر وہ خود بھی یہ جانتے ہیں کہ یہ خود کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں ہے. اردگان نے اسلامسٹوں کے اقتدار میں آنے اور مضبوطی کا راستہ بتا دیا ہے تو ہے کوئی جماعت اسلامی یا کوئی دوسری مذہبی جماعت، جو اس پر چلے اور پاکستان کو اس کی منزل سے ہمکنار کرے.