ایل این جی مارکیٹ اور پاکستان کا نقصان - رضوان الرحمن رضی

ہمارے دوست جناب خوشنود باجوہ اپنی اولاد کی محبت میں کچھ سالوں سے آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان شٹل کاک بنے ہوئے ہیں۔ اولاد سے محبت ہے، اس لیے اسے چھوڑنے کو ان کا دل نہیں کرتا اور پاکستان ان کو نہیں چھوڑتا۔ اس دفعہ آسٹریلیا سے واپس آتے ہوئے اپنی زنبیل میں بہت سی دور کی کوڑیاں بھر کر لائے ہیں، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آسٹریلیا نے اپنی ایل این جی ٹیکنالوجی میں پائی جانے والی خرابیاں، کمیاں اور کوتاہیاں دور کر لی ہیں، اور اب وہ دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی برآمد کنندہ کے طور پر عالمی مارکیٹ میں ایسی تباہی مچانے آرہا ہے جو کسی بیل کے آئینہ فروش کی دکان میں گھس آنے سے ہو سکتی ہے۔ ہمارے لیے یہ ایک حیرت انگیز خبر ہے۔ خبر تو ویسے ہوتی ہی وہ بات ہے جو حیرت انگیز ہو۔

کوئی چھ ماہ پہلے کی بات ہے کہ بین الاقوامی اقتصادی خبریں دینے والے امریکی ادارے بلوم برگ نے ایک خصوصی رپورٹ شائع کی جس کا محور اور حاصل مضمون یہ تھا کہ دنیا بھر میں صاف ترین ایندھن مانی جانے والی ایل این جی کی عالمی منڈی اب ’’خریدار کی منڈی‘‘ بننے جا رہی ہے، کیوں کہ مختلف نئے کھلاڑیوں کی طرف سے ایل این جی کی پیداوار میں بے پناہ اضافے سے اس کی عالمی قیمتیں اس قدر گر جائیں گی کہ اس کی قیمت کا تعین فروخت کنندگان نہیں بلکہ خریدار کیا کریں گے۔ خبر تحریر کرنے والے صحافی نے مزید یہ بھی بتایا کہ قطر جو اب تک اس شعبے میں دنیا کا امام چلا آ رہا تھا ، اس کی اجارہ داری کو امریکہ نے چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اپنی ملکی ضروریات پوری کرنے کے بعد عالمی منڈی میں ایل این جی کے سب سے بڑے برآمد کنندہ کے طور پر داخل ہونے کو ہے۔ اور یہ کہ امریکہ اور دیگر کھلاڑیوں کی اس شعبے میں داخل ہونے سے ایل این جی کی عالمی منڈی میں فراہمی اس کی موجودہ ’’مانگ‘‘ سے تین گنا زائد ہو جائے گی۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صنعت و حرفت کے مزید شعبوں میں ایل این جی کو ایندھن کی دوسروں قسموں کی جگہ استعمال کر کے اس کے استعمال کو مزید بڑھاوا دیا جائے، جس کے لیے موجودہ ٹیکنالوجی میں کچھ تبدیلیاں لانا ہوں گی اور یہ عمل وقت لے گا۔

یاد رہے کہ موجودہ دہائی کی ابتداء میں امریکیوں نے خام تیل پر اپنا انحصار کم کرتے ہوئے مقامی طور پر تیار کردہ ایل این جی نامی ایندھن کو پٹرول پمپوں تک پہنچا کر اسے گاڑیوں میں بھرنا شروع کر دیا ہے جس کا سیدھا مطلب تھا کہ امریکہ میں گاڑیوں سے پٹرول اور ڈیزل کی کلی نہیں تو جزوی چھٹی۔ اس طرح وہ ایندھن کی ضروریات میں خود کفیل ہونے کے باعث تیل کی مقامی پیداوار میں کمی کے باعث عالمی منڈی سے جو تیل خریدتا ہے، اسے اب اس کی ضرورت نہیں رہی، اور یوں وہ عالمی منڈی سے نکل گیا ہے۔ یہ امریکہ کی اس طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ تھا جو اس نے گذشتہ دہائی میں تیل کی عالمی منڈی میں تاریخی اضافے کے بعد ترتیب دی تھی، جس کے تحت تیل کی عالمی قیمتیں ڈیڑھ سو ڈالر فی بیرل سے بھی بڑھ گئی تھیں۔ قیمتوں میں اس چڑھاؤ کو چینی سٹے بازوں کی سرگرمیوں کا نتیجہ قرار دیا گیا جن کے پاس امریکیوں سے کمائے گئے ڈالروں کی بوریاں تھیں اور جنہوں نے اس شعبے میں کئی دہائیوں سے سرگرم امریکی اور یورپی سٹے بازوں کو بھی گھما کر رکھ دیا تھا۔

اس سے پہلے امریکی کوئلے پر چلنے والے اپنے بجلی گھروں کو بھی ایل این جی ایندھن پر منتقل کرچکے تھے، یاد رہے کہ امریکہ اپنی بجلی کی ضروریات کا چالیس فی صد کوئلے سے پیدا کرتا تھا۔ ان دونوں خبروں سے عالمی منڈی میں ایندھن کے دو اہم ذرائع، یعنی خام تیل اور کوئلے کی قیمتیں آدھی سے بھی کم رہ گئی تھیں، یعنی بقول شخصے ’کریش‘ کر گئی تھیں۔

اب ہوا یوں کہ امریکہ کے اس اعلان کے نتیجے میں کہ وہ ایل این جی کا عالمی برآمد کنندہ بننے جا رہا ہے، بین الاقوامی سطح پر ایل این جی کی اوسط قیمت چار ڈالر تک گر گئی تھی، لیکن بلوم برگ کے تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی تو یہ قیمتیں تین ڈالر تک گر سکتی ہیں۔ اب اگر یہ تجزیہ درست ہے تو آسٹریلیا کی اس منڈی میں آمد سے بات دو ڈالر تک گر سکتی ہے، کیوں کہ بھارت میں خاصے بحث مباحثے چل رہے ہیں کہ بھارت نے ایران کو چاہ بہار بندرگاہ بنا کر دی ہے، اس لیے بھارت کو ایران سے ایل این جی دو ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پر لینے پر اصرار کیا جائے۔ اس لیے دو ڈالر کا نرخ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہونا چاہیے۔

باجوہ صاحب کا خیال ہے کہ آسٹریلیا اب امریکہ سے بھی بڑے برآمد کنندہ کے طور پرعالمی منڈی کا دروازہ کھٹکھٹا نے والا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر ایل این جی کی قیمتیں دو ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک بھی گر جائیں گی اور یوں پاکستان کے علاوہ تیسری دنیا کے ممالک کی لاٹری لگ سکتی ہے۔ لیکن ہم کیا کریں، ہم ٹھہرے صدا کے قنوطی، ہمیں ہر وقت یاد آجاتا ہے کہ ہم نے ساڑھے پانچ ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پر قطر سے ایل این جی خریدنے کے لیے پندرہ سال کا معاہدہ کر لیا ہوا ہے، اور ہم قیمتوں میں اس بین الاقوامی کمی کا فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، کیوں کہ ہم نے اپنی قوم کا قیمتی زرمبادلہ قطریوں کو ’’دیدہ‘‘ اور ’’نادیدہ‘‘ خدمات کے عوض بخش دیا ہے۔

ہمارے خوشنود باجوہ صاحب کسی آف شور کمپنی کا ذکر بھی کرتے ہیں، جو پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی کے سودے میں ملوث ہے، جس کو ہماری ایس این جی پی ایل اور پی ایس او مقامی طور پر ایل این جی خریدنے کے خواہش مند گاہکوں سے پیشگی ڈالر پکڑ کر دیتے ہیں اور پھر ہمارا ایل این جی ٹرمینل جھومتا جھامتا، تیرتا ہوا قطر جاتا ہے اور ایل این جی بھر کے لے آتا ہے۔ اس کمپنی کے حوالے سے وہ میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور میاں شہباز شریف کے صاحبزادے کے نام ہائے نامی لیتے پائے جاتے ہیں اور پھر خیر اپنے سیف الرحمن تو ہیں ہی، انہیں ہم نے وہاں بٹھایا ہی اسی لیے ہوا ہے۔

لیکن کیا کریں ہم بغیر تنخواہ کے نواز شریف کے سکہ بند ایجنٹ ہیں، اس لیے ہم باجوہ صاحب کی اس طرح کی باتوں کو سنی ان سنی کر دیتے ہیں۔ لیکن پھر خیال آتا ہے کہ تین گنا مہنگے ایندھن پر صنعت چلانے والے ہمارے برآمد کنندگان نے عالمی منڈی میں کیا خاک مقابلہ کرنا ہے؟ اس لیے بہت عرصے سے اپنی اس نام نہاد ایجنٹی کو برقرار رکھتے ہوئے اس موضوع پر لکھنے سے احتراز کیا، لیکن اب جلے دل کا پھپھولا پھوٹ پڑا ہے۔ مودی نے ایل این جی کی سب سے بڑی ڈیل جو امریکہ سے کی ہے، وہ بھی چار ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پر کی ہے۔ اس معاہدے کو بھارتی حزبِ اختلاف نے بھارت کی طرف سے امریکہ کو ایٹمی معاہدے کی رشوت قرار دیا ہے۔ لیکن ہمارے ہاتھ تو اس قسم کا کوئی معاہدہ بھی نہیں آیا، تو پھر ہم کیا کریں، کس دیوار کے ساتھ جا کر سر پھوڑیں؟

پھر ہمارے اندر سے میاں نواز شریف کا ایجنٹ فوراً بیدار ہوا، اور دلیل دی کہ دیکھوناں! اس گیس کی قیمت تیل کی عالمی منڈی کے چودہ فیصد پر طے کی گئی تھی، اس لیے جیسے ہی تیل کی قیمت کم ہو گی اس کی اوسط سالانہ قیمت نکال کر ہم بھی اس ایندھن میں کمی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ ہم نے فوراً ہی اس ایجنٹ کا مکو ٹھپ دیا کہ بھائی جان کم از کم ڈیڑھ سال تو اس ایل این جی کی درآمد ہوتے ہوئے ہوگیا ہے لیکن کسی نے بھی ساڑھے پانچ ڈالر والے نرخوں میں کمی کی بات نہیں کی۔ ویسے بھی اب ایل این جی کی عالمی منڈی باقی ایندھنوں سے الگ ہو گی اور اس کی وجہ اس شعبے میں اوپیک کے ممبران کے علاوہ دیگر کھلاڑی بھی شامل ہیں اور اس کا شاید کوئی تعلق بھی تیل کی عالمی منڈی سے نہ ہو۔

ہاں اس کی ایک صورت ہو سکتی ہے۔ میاں صاحبان اپنے بچوں کی کمپنی کے ذریعے ایل این جی منگوا کر پنجاب میں لگنے والے بجلی گھروں سے بجلی بنا کر مہنگی بجلی، قومی خزانے سے اربوں روپے زر تلافی دے کرصارفین کو سستی کرکے فراہم کرتے رہیں، اور اس ملک کے بدقسمت صنعت کاروں کو براہِ راست عالمی منڈی سے ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت مرحمت فرما دیں جیسا کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ مطالبہ بھی کرچکے ہیں، جس کی تاحال حکومت نے اجازت نہیں دی۔ ایس این جی پی ایل کی کرپشن، نااہلی اور چوری کی سزا صارفین کو دینا اور پھراس کے ساتھ ساتھ اپنا رزقِ حلال بھی ان ہی سے وصول کرنا، کہاں کا انصاف ہے؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */