سب رنگ زدگان اور محبت نامہ - محمد فیصل شہزاد

کچھ دن قبل محترم عامر ہاشم خاکوانی صاحب نے ایک بار پھر سب رنگ کا ذکر کیا، اور گویا ایک بار پھر دل کو چھو لیا. دل چاہتا ہے کہ آج ایک بات کا اعتراف کروں.

دیکھیے کچھ محبتیں، کچھ وابستگیاں تو ایسی ہوتی ہیں کہ جن میں رقابت کا عنصر شامل ہوتا ہے، جسے ہم چاہیں، اسے کوئی اور دیکھے نہ سراہے. بشر تو بشر، آسماں بھی کبھی اپنا رقیب محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ آخر کیوں ہمارے محبوب کو دیکھتا ہے، مگر کچھ محبتیں اور وابستگیاں ایسی ہوتی ہیں جونہ صرف اس سفلی قید سے بلکہ ہر قید سے آزادہوتی ہیں، زمان ومکاں سے آزاد، یہاں تنگی کاکوئی گزر نہیں ہوتا، نہ نظر کی تنگی نہ دل کی تنگی، وسعت ہی وسعت، محبوب کا محب بھی اپنا محبوب، اس کا ذکر کرنے والا بھی دل و جاں سے محبوب.

سو دو تین سال قبل جب ایک بار اتفاقاً جناب خاکوانی صاحب کے ایک کالم پر نگاہ پڑی جس میں سب رنگ اور بازی گر کا ذکر تھا اور تقریباً انہی دنوں جناب رؤف کلاسرا صاحب کا بھی سب رنگ اور جناب شکیل عادل زادہ صاحب کو خراج تحسین پیش کرتا کالم نگاہ سے گزرا تو بس کیا تھا، یہ دونوں حضرات کالم پڑھتے ہی ہماری نگاہ میں خاص ٹھہرے تھے.

بے شک ان کی بے پناہ صلاحیتیں اپنی جگہ، ان کی کیرئیر کے لیے کی گئی شبانہ روز محنت کے ہم معترف، ان کی سمجھ بوجھ، معاملہ فہمی، ان کا شاندار صحافتی کیرئیر سب تسلیم، مگر اسےاوپر بیان کردہ محبت کا کرشمہ سمجھیے، ایک خاص قسم کا تعصب سمجھ لیجیے یا خاکوانی صاحب کے الفاظ میں ایک خاص نادیدہ کلب کے ممبرز ہونے کا لاشعوری احساس اور باہمی وابستگی کہ دونوں احباب ہمارے لیے تو خاص اسی وجہ سے اچانک بہت خاص سے ہو گئے تھے.

اس کلب کا ہر ممبر اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے کہ گاہے گاہے اس کا ذکر کرے، اپنی نوجوانی کی پہلی محبت کا، جب اکثر نوجواں کسی لیلیٰ کے رخ کے مشتاق ہوتے ہیں، کسی شیریں کی زلف سنوارنے کو بے تاب ہوتے ہیں، عین اسی وقت لیلائے سب رنگ کے عشاق سرما کی طویل پراسرار راتوں میں گرم رضائی میں دبے اپنے محبوب سے راز و نیاز کر رہے ہوتے ہیں.

اس لیلیٰ کا سب سے پہلا مجنوں ایک آشفتہ سر تھا، شکیل عادل زادہ، جس نے دنیا میں پہلی بار ایک پرچے سے عشق کیا، کچھ اس شدت سے کہ پڑھنے دیکھنے والے بھی مسحور سے ہو گئے، عشق ہو تو اظہار بھی لازم ہے، سو اس آشفتہ سر نے اپنے محبت ناموں میں اظہار عشق بھی اس شدت سے، اس بےقراری و بے تابی سے کیا کہ ایک مثال بن گئے. مجھے تو گمان ہے کہ ایک پوری نسل نے ان محبت ناموں سے الفاظ ہی نہیں، جذبے کشید کر کے اپنی اپنی محبتوں کے چرنوں میں دان کیے ہوں گے، اور یقینا وصل میں کامیاب ٹھہرے ہوں گے!

یہ محبت نامے جو ”ذاتی صفحہ“ سے معنون تھے، میں ایک شخص نے مسلسل 25 سال تک ایک ہی بات کہی، مگر ایک لمحے کے لیے بھی سامعین کا شوق ماند نہ پڑا. یہ بہت بڑی بات ہے. یہ محبت نامے گویا عشق کا نصاب ہیں. عشق سیکھنے کی چیز نہیں، مگر جنہیں اظہار کی قدرت عطا نہ ہوئی ہو، وہ اپنی ہی برادری کے ایک فرد کی سرمدی لے سے لے ملا لیں تو کیا خوب ہے.

تجربہ شرط ہے، اگر آپ عاشق ہیں، تو شکیل صاحب کے چند محبت نامے ذرا بلند آواز سے پڑھیں. دل میں سوز و گداز نہ پیدا ہو جائے تو کہیے گا، آنکھیں بھیگ نہ جائیں تو کہیے گا، آہ کیا تاثر ہے اور کیا بانکپن، کیا رنگ بدلتے دلکش پیرائے اظہار ہیں اور کیا ست رنگی اسلوب، کیا انوکھی شدتیں ہیں اور کیا شاندار تعبیرات.

ذاتی صفحہ، جس کے ذریعے اردو ادب میں عموما اور خصوصا ماہناموں میں ایک نئے رواج کا چلن ہوا (گو کوئی بھی پھر اسے اس طرح نہیں نبھا سکا). میں نے اسے یہاں محبت نامہ سے تعبیر کیا توکچھ غلط نہیں کیا. اگر آپ متفق نہیں تو پھر بھی عرض ہے کہ جلدی نہ کیجیے. ایک بار پڑھ کے ان کی اثر انگیزی محسوس تو کیجیے. میری رائے میں غالب اور دوسرے مشاہیر ادب کے خطوط کی طرح. بے مثال نثر کے ان محبت ناموں کو بھی کتابی شکل میں ضرور شایع ہونا چاہیے، اسی طرح یہ محفوظ ہو سکتے ہیں، اسی طرح دل کھوئے ہوؤں کے نادر خزانے میں ایک خاصے کی چیز کا اضافہ ہو سکتا ہے!

جناب شکیل صاحب اپنے قبیلے کے افراد کو سب رنگ زدگان کہتے تھے. خاکوانی صاحب نے بھی یہی اصطلاح استعمال کی، جو کچھ غلط نہیں ہے. سب رنگ اور بازی گر کا ذکر گویا لازم و ملزوم ہے. سو جب جب سب رنگ کا ذکر آئے، بازی گر پر اپنے تاثرات کا اظہار کیے بنا رہا نہیں جاتا، خود میں نے موقع بےموقع، کمنٹس میں، پوسٹ میں، کالم میں ایک سے زائد بار اس پر لکھا، مگر آج، صرف ان محبت ناموں کا ذکر کرنا مقصود تھا جن کی بابت سب رنگ زدگان نے بھی شاید کبھی نہیں لکھا۔

بہرحال جناب عامر ہاشم خاکوانی صاحب کی محبت بھری فرمائش پر عنقریب دلیل پر گوشہ ادب پرجناب شکیل عادل زادہ صاحب کے یہ محبت نامے دینے کا ارادہ ہے. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلے شمارے جنوری 7 کا ذاتی صفحہ سب سے پہلے دیا جاتا، مگر بوجوہ فی الحال تین سال بعد یعنی جولائی 73 کا ذاتی صفحہ قبول کیجیے. جلد ہی ترتیب وار شروع سے ان شاء اللہ ہر ہفتے ایک محبت نامہ پیش کریں گے۔

Comments

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد کو شوق 10 سال قبل کوچہ صحافت میں لے گیا۔ روزنامہ اسلام اور روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھتے رہے، طبی میگزین جہان صحت، ہفت روزہ خواتین کا اسلام، ہفت روزہ بچوں کا اسلام اور پیام حق کے مدیر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.