خبطِ صالحیت اور خبطِ دانشوری کے درمیان - ڈاکٹر غیث المعرفہ

وکیلوں سے الجھنا اچھا نہیں ہوتا، اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو یہ ہے وہ ہر معاملے کو قانونی نظروں سے دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں، اور دوسرا اگر ان کی اس عادت پر اعتراض کیا جائے تو آپ کے کسی قانون میں پھنسنے کے سو فیصد امکانات موجود ہوتے ہیں۔ وکلا کا طریقہ واردات یونیورسل ہے، مدعی ہو یا ملزم، کٹہرے میں کھڑا کرکے دلائل کا وہ ڈھیر پیدا کرنا ہے کہ آخر کار جزا و سزا کا فیصلہ ان کے حق میں سنا دیا جائے لیکن ظاہر ہے، ہماری زندگی کا ہر پہلو قانونی نہیں ہوا کرتا، اور نہ اس نظر سے دیکھنے کا متقاضی ہوتا ہے، اور خاص معاملہ جب ہم کسی شخص، تنظیم یا پارٹی بارے قائم کرنے لگیں۔

سب سے پہلے تو ہمیں بادل ناخواستہ یہ بات تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہم سب انسانوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، اور کوئی ایسا شخص نہیں جس کے آباء میں کسی فرشتے کا ذکر ہمیں ملا ہو۔ اگر میں انسان ہوں تو میرے ہاں غلطی کے پچاس فیصد امکانات موجود ہیں، اور یہ امکانات ہمیں تمام انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے تسلیم کر لینا چاہیے۔ اگرچہ یہ کام کہنے میں آسان اور کرنے میں بہت مشکل ہوا کرتا ہے، بہرحال اسے انفرادی سکون اور پُرامن سماج کے لیے آئیڈلائز تو ضرور کرنا پڑے گا۔ ہمارے پاس اپنی اور اپنی پارٹی کی غلطیوں، کوتاہیوں اور لغزشوں کے لیے کئی جواز ہوتے ہیں، بڑی رعایتیں، الاؤنس اور عفوکاریاں ہوتی ہیں، لیکن جب بات کسی دوسرے شخص یا پارٹی کی ہو تو پھر ہمارے لہجے تلخ اور الفاظ کی دھار تیز ہو جاتی ہے، ہمارے جذبات بڑے سنگین اور استدلال بڑے زور کا ہوتا ہے۔ عدل کی بات تو یہی ہے کہ ہم اپنے لیے جتنی رعایتیں رکھتے ہیں اتنی چھوٹ دوسرے کے لیے بھی رکھیں، یہی چیز ہمیں ایک معتدل سوچ اپنانے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔

بات صرف یہیں تک نہیں ہے، چاہے معاملہ کسی شخص کا ہو یا کسی اجتماعیت کا، زندگی ان گنت واقعات اور فکری تنوع کا مرکب ہوا کرتی ہے، سوچنے والے تو یہ بھی سوچتے ہیں اور کہنے والے بلا جھجک کہتے ہیں کہ اسلام کا مطلب ایک لگی بندھی سوچ ہے، اس کی نفی کرنے والے فقط اجتہاد کی اہمیت کا زور دیتے نظر آتے ہیں لیکن درجنوں فرقوں کا پیدا ہو جانا اور سینکڑوں اسکولز آف تھاٹ کا اسلامی قرطاس پر موجود ہونا اسی تنوع کا اظہار ہی ہے۔ یہ بات صرف مذہبی سوچ بارے ہی نہیں دنیا کے باقی نظریات پر بھی صادق آتی ہے کیونکہ ان کا ماخذ تو فقط انسانی دماغ ہے جو مسلسل تغیر پذیر ہے۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اس تنوع میں ہم کیسے روشنی تلاش کر سکتے ہیں۔ اس کا آسان سا فارمولا ہے اگر آپ نے کبھی کسی پرانی بلیک اینڈ وائٹ فوٹو کا جائزہ لیا ہو جو لاکھوں نُقاط پر مشتمل ہوا کرتی تھی، ویسے رنگین تصاویر کی بناوٹ میں یہی پکسلز کارفرما ہوتے ہیں، بس ان نُقاط کو رنگ برنگا اور اس کے سائز کو چھوٹے سے چھوٹا کر دیا گیا ہے۔ اگر ہم ان نُقاط کو زندگی کے ان گنت واقعات فرض کر لیں جو کبھی سیاہ (غلط) اور کبھی سفید (درست) ہوا کرتے ہیں۔ اب ہم کسی شخص یا جماعت کی کوئی شکل بنانا چاہتے ہیں تو وکلا کا طریقہ واردات اور قانونی نظر کام نہیں آئے گی جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی کی تمام سیاہ کاریوں سے اس کا ایسا سیاہ چہرہ پیش کیا جائے کہ وہ قابل سزا قرار پائے یا پھر تمام اچھائیوں کو جمع کر کے ایسا روشن چہرہ بنا دیا جائے کہ اعزاز و اکرام کا حقدار سمجھا جانا لگے۔ ایسے قانونی چہرے ہماری زندگی کے عکاس نہیں ہوا کرتے۔ انسان یا اس کی بنائی گئی تنظیموں / پارٹیوں کی درست تصویر کشی کے لیے ان کے تمام سیاہ اور سفید ذرات کو ایک صفحے پر جمع کرنا پڑے گا اور پورے صفحے پر پھیلی تصویر دیکھ کر ہم کوئی رائے اختیار کرنے کے قابل ہو سکیں گےکہ اس کا چہرہ پراگندہ ہے یا جاذب نظر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کا تربیتی نظام، ایک ورکشاپ کا احوال - میر افسر امان

وکیل صاحب نے بھی اسلامی جمعیت طلبہ کو کٹہرے میں کھڑا کیا، تمام تر سیاہ کاریوں کو جمع کیا اور فیصلہ سنا دیا کہ طلبہ تنظیموں کو قانوناً ختم کر دیا جائے۔ بات یہ نہیں کہ میں اسلامی جمعیت طلبہ اور اس وابستہ نوجوانوں کی اچھائیوں کی بات کرنا چاہتا ہوں، اور میری زندگی میں ان کی غلط کاریوں کا کوئی واقعہ موجود نہیں، وکیل صاحب تو فقط میس کی حاضری کمرے میں نہ لے جانے کی پالیسی پر برافروختہ ہیں، لیکن راقم نے معتمد عام جیسی شخصیتوں کی زبان مبارک سے دھمکیاں چکھی ہیں، اور ان کے تربیت یافتہ کارکنان کے ہاتھوں کا ”اخلاق“ سینکا ہے لیکن مجھے احساس ہے کہ بڑی تصویر میں ان کی حیثیت ایک نقطے سے زیادہ نہیں، اور نہ عدل و انصاف کی یہ روش ہے کہ میں اپنے ذاتی تجربے یا گنے چنے افراد کی آرا پر پوری تنظیم کو نشانے پر رکھ کر اڑا دینے کی خواہش کا اظہار کرنے لگوں.

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

یہ سلسلہ یہیں رکا نہیں. گذشتہ دنوں ایک ویب سائٹ کے کرتا دھرتا نے سید مودودیؒ پر بہتان تراشی کی۔ ویسے تو وہ خود کہا کرتے ہیں کہ انہیں سنجیدہ نہ لیا جائے، وہ صرف مزاح لکھتے ہیں۔ ان پر یا ان کے لکھے الفاظ پر ہنسو، فضا میں قہقے بکھیرو اور آگے بڑھ جاؤ، پھر بھی اگر کوئی قابل اختلاف اور قابل اعتراض بات آتی ہے تو اہل جماعت بارے اچھا گمان رکھنا چاہیے، فکری ضعف کے باوجود ردعمل دیتے ہی رہتے ہیں، کم از کم اتنا کچھ تو سنا سکنے کی طاقت رکھتے ہیں جتنا آصف محمود صاحب کو سنا رہے ہیں۔ لیکن آصف محمود صاحب ایک ترنگ میں سامنے آئے، ہم سب کے روح رواں سے انصاف طلب ہوئے، پھر ان کی طرف سے جو انصاف کیا گیا، اسے دوبارہ لے کر لکھتے ہیں
سید مودودی سیکولر احباب کے نشانے پر ہیں. افتخار عارف یاد آ گئے : تیر کا مشکیزے سے رشتہ بہت پرانا ہے. سوچتا ہوں کاش اس رشتے کے تقاضے دلیل سے نباہے جاتے.
آخر میں پھر اہل جماعت پر چڑھ دوڑے
پہلا حق ان کا ہے جو مارکیٹ میں فکر مودودی کے وارث ہونے کے دعویدار ہیں. یہ سوچ کر قلم رکھ دیا کہ صالحین اسے اپنی حق تلفی سمجھ کر بد مزہ نہ ہو جائیں.

پہلی بات تو یہ ہے کہ فکر مودودیؒ جماعت اسلامی کا اثاثہ ضرور ہے لیکن اس کی میراث نہیں۔ اس سے فیض حاصل کرنے والے جماعت اسلامی سے باہر ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں. خود میرے ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین کا جماعت اور جمعیت سے کوئی واسطہ نہیں لیکن فکر مودودیؒ کے شناور تھے، بھلے ایسے لوگ آج جماعت اسلامی سے اختلاف کریں اور تیر و نشتر آزمائیں لیکن ان کی اسلام سے محبت بارے دوسری رائے نہیں۔ آصف محمود صاحب بارے یہ خوش گمانی ہے اور قائم رہے گی، یہ خوش گمانی ہم نہ بھی کریں تو اس پر حرف نہیں آتا کہ وہ اس ملک میں جماعت اسلامی کے حامی نہ سہی لیکن اسلام کے سچے اور کھرے پیروکار ضرور ہیں، یہ اسلام پسندی کا تقاضا ہی تھا کہ وہ اس ظلم پر انصاف مانگنے لگے، انصاف طلبی کے بعد انہیں ہر طرف سے تحسین بھری نظروں سے دیکھا جا رہا ہے، اور اس پس منظر میں اگر وہ مدعی بنے بھی تھے تو انہیں باقیوں کی طرف دیکھے بغیر آگے بڑھنا چاہیے تھا لیکن ان کی بزرگی اور دانشوری نے انہیں مجبور کیا کہ اہل جماعت کو دو تھپر بھی رسید کریں اور ان کے مقدمے کو بھی آگے بڑھائیں. اس کے باوجود بڑے فورا پر ان کی آواز کو بڑے ادب سے سنا گیا، اور اپنی کمزور فکر و عقل سے جواب پیش کیے گئے۔ زناٹے دار طعنوں میں دوبارہ آمد ہوئی اور ایک کمنٹ کی بنیاد پر فرمانے لگے
احباب کی اب سید کی فکر سے کوئی راہ و رسم نہیں رہی. بس ایک عصبیت ہے کہ سید مودودی سے تعلق ہے
احباب فکری پسپائی اختیار کر چکے ہیں اور سیکولر بیانیے کے جواب میں ان کے پاس کہنے کو کچھ ہے ہی نہیں. وہ سمجھتے ہیں کہ مودودی صاحب پر لگائے جانے والے الزامات درست ہیں اور ان کا جواب دینے کے بجائے خاموش رہنے ہی میں عافیت ہے

اس ترنگ میں وہ شخص ہی بات کر سکتا ہے جسے زعمِ دانشوری کا عارضہ لاحق ہو گیا ہو، جس کے نتیجے میں وہ اردگرد لوگوں کو بونا سمجھنا شروع کر دے، ایسی ہی باتیں بعض لوگ کیا کرتے تھے، انہیں جوابی دلائل کے مرہم سے صحت یاب کرنے کی کوشش کی گئی. میں سمجھتا ہوں کہ ایسا زعمِ دانشوری انسانوں کو ہو جایا کرتا ہے بلکہ سوشل میڈیا کی آمد کے بعد اس نے وبائی شکل اختیار کر لی ہے، میرے جیسے ٹوٹے پھوٹے الفاظ سے دو پیراگراف لکھنے والے خود کو دانشور سمجھنا شروع کر دیتے ہیں، ایسے میں بڑے بڑے کالم نگار تو خود کو آدھا پونا خدا ضرور سمجھنے لگتے ہوں گے، لیکن آصف محمود صاحب کی نوکِ قلم اس کی تائید کرے یا نہ کرے، ہم ان کے اخلاص اور نیت کی بنیاد پر ان کے بارے ایسی بدگمانی پالنے سے پناہ مانگتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   اہل کشمیر نڈھال مت ہوجانا - سید مصعب غزنوی

یہاں تک معاملہ صرف سید مودودیؒ اور ان کی جماعت سے متعلقہ تھا، جب وہ جواب لکھنا شروع کرتے ہیں تو اس معاملہ کو ”ڈیپ“ کر کے اس کی اصل وجوہات تک پہنچ رہے ہیں اور کہتے ہیں،
یہ تنقید اگر سید کی ذات یا فکر تک محدود رہتی تو ہرگز اس کا جواب نہ دیتا کیونکہ شخصی عیوب و محاسن پر بحث میں الجھنا بھی شعوری بانجھ پن ہی کی ایک شکل ہوتی ہے۔ میری رائے میں اس تنقید تازہ کے نشانے پر سید مودودی ہی نہیں بلکہ ہمارا پورا سماج ہے اور اگر اس مشق ستم کا تنقیدی جائزہ نہ لیا گیا تو یہ عمل اس سماج کی بنیادوں میں بارود بھر دے گا۔

سوال یہ ہے کہ اگر آپ کے بقول یہ معاملہ سید کی شخصیت و فکر تک محدود نہیں تو اہل جماعت سے چھیڑ خانیاں کس مقصد کے تحت کی جا رہی ہیں؟ اس کا تعلق اسلام، پاکستان اور سماج سے ہے تو اس میں ہم برابر کے شراکت دار ہیں، جتنا حق جماعت اسلامی کا ہے، اتنا ہی حق آصف صاحب اور ہر اس شخص کا ہے جو اسلام اور پاکستان کو لازم و ملزوم سمجھتا ہے. جہاں تک جماعت اسلامی کی بات ہے، تو اس سے وابستہ لوگ ہی تھے جنہوں نے سیکولرقبیلے کے سرخیل کے شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ پر ہونے والے حملوں کا کامیاب دفاع کیا اور عامتہ الناس کو سچائی سے بہرہ مند کیا تھا. ان کے بارے ایسا گمان پیدا کرنا کہ وہ اپنے بانی کے خلاف آنے والے الزامات پر جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے، کوئی دانشمندانہ نتیجہ نہیں ہے۔ راقم ابھی تک قائم ہے کہ مجھے جواب نہیں دینا۔ اور الحمد للہ اس کے بہتر نتائج آپ اس تجزیاتی خبر کے ثبوت پر ردعمل کی صورت میں دیکھ رہے ہیں.