شادیوں پر وہ ’’خاص‘‘ لوگ – مدیحی عدن

کبھی کبھی میں آج کل کی شادی بیاہ کی تقریبات پر ہونے والے نت نئے فیشن ٹرینڈز کی بھرمار دیکھ کر حیران ہوجاتی ہوں۔ آج کل جب تک کوئی فوٹو گرافر نہ ہو تب تک لوگوں کی شادیاں نامکمل سمجھی جانے لگ گئی ہیں۔ ان میں ایک نیا شوشا ویڈنگ فوٹوگرافی (Wedding Photography) کے بڑھتے ہوئے دام بھی ہیں، جب مجھے اِس نئے رجحان پر خرچ ہونے والی قیمت کے بارے میں معلوم چلا تو اتنے اونچے ریٹ سن کر بےاختیار ہی پوچھ بیٹھی کہ کیا چاند پر جاکر فوٹو گرافی کرنی ہے؟

آپ اگر ان فوٹوگرافرز کو دیکھیں تو ہر دوسرا ایرا غیرا، نتھو خیرا ایک DSLR خرید کر سوشل میڈیا پر Wedding Photography کا پیج بنا کر بیٹھا ہوتا ہے، پھر ان کے ریٹ تو پوچھیے ہی مت۔ ہزاروں سے شروع ہونے والا پیکج لاکھوں سے بھی آگے تک پہنچ جاتا ہے۔

اِس معاملے میں کوئی بھی غلطی نہ ہو، اِس لیے دلہا اور دلہن خود ہی بہترین فوٹوگرافر کی تلاش میں مصروف رہتے ہیں تاکہ تمام معاملات بخیر و عافیت سے سرانجام ہوسکیں اور ہر چیز لاجواب ہوجائے، کُل ملا کر تین سے چار گھنٹے کی شادی ہوتی ہے، اور ان چار گھنٹوں کی اہمیت کا اندازہ شادی کی تیاریوں سے ہوتا ہے۔

اِس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ شادی سے بڑھ کر انسان کی زندگی میں خوشی کا شاید کوئی اور موقع نہیں آتا، مگر سچ پوچھیے تو اِس خوشی کے موقع پر بڑھتا ہوا اسراف دیکھ کر مجھے افسوس زیادہ ہوتا ہے۔ شادی کی اصل خوشی جو دو خاندانوں اور انسانوں کے ملاپ اور نکاح کی سنت پوری کرنے میں ہوتی ہے، مگر وہ ان ڈھول ڈھمکوں کے درمیان کہیں کھو کر رہ جاتی ہے۔ مادہ پرستی کا یہ فیشن اب بہت عام ہو رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں دو پیسے خرچ کرنے ہوتے ہیں وہاں دکھاوے میں دو ہزار خرچ کردیے جاتے ہیں۔ حیرانگی اور افسوس اس بات پر بھی ہے کہ ان چیزوں کو بہت حد تک ہمارے معاشرے میں راسخ کردیا گیا ہے۔ جو لوگ اِس خوشی کے موقع پر فضول خرچی سے روکنے کی ہدایت کرتے ہیں، اُن کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے انہیں کنجوس خیال کیا جاتا ہے، اور اِس سوچ کو پرانی اور فضول قرار دیتے ہوئے ناقابل عمل قرار دے دیا جاتا ہے۔

یہ تو ایک فوٹوگرافی کی بات ہے، لیکن عین اسی طرح جہیز، ہال، پارلر، کپڑے، گاڑی اور کھانے پر پانی کی طرح بے دریغ پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔ ان چونچلوں کو اگر ایک غریب انسان کے زاویے سے دیکھا جائے تو ہم انہیں سوائے حسرتوں اور تقابل کے اور کچھ نہیں دیتے۔ وہ رحجانات جو اشرافیہ طبقہ سے آہستہ آہستہ مڈل کلاس میں فیشن کی صورت میں رنگ دکھاتے ہیں، وہ غریب کے لیے ایک خواب سے بڑھ کر اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔

ان بڑی بڑی شادیوں پر ان امراء کا براہِ راست واسطہ ان معاشی طور پر کم حیثیت طبقہ یعنی ڈرائیور، خانساماوں، مالی، درزی وغیرہ سے ہی پڑتا ہے۔ ہمیں کچھ ان کے زاویے کو سامنے رکھ کر بھی سوچنا چاہیے۔ محض پرانے کپڑے یا تھوڑی بہت مدد کرنے سے ہمارا فرض پورا نہیں ہوجاتا، بلکہ ہماری اصل ذمہ داری تو یہ ہے کہ ایسے موقع پر فضول خرچی کرنے کے بجائے ایسے تمام افراد کی مدد کی جائے جن کے بچے صرف پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے شادی کرنے سے قاصر ہے، لیکن غیر ارادی طور پر ہم اپنے گھروں میں ہونے والی تقریبات میں فضول خرچی کے ذریعے اُن کو بار بار یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ لوگ نچلے طبقے کے ہیں اور وہ اِن خوشیوں کے حق دار نہیں ہیں۔

اگر ہم حقیقت پسندانہ نقطہ نظر سے بات کریں تو جتنا ایک شادی بیاہ پر خرچہ آتا ہے، اتنے میں ان جیسے کئی سفید پوش افراد کے چولہے لمبے عرصے تک جل سکتے ہیں۔ بات اگر خوشی کو پوری طرح منانے کی ہے تو خوشیاں کبھی بھی چیزوں یا مادہ پرستی کی محتاج نہیں رہیں، یہ تو بہت بے لوث سا احساس ہے، جس کا تعلق انسانوں کے دلوں سے ہے۔ دل دکھاووں اور بناوٹوں سے نہیں بلکہ ان میں بسے انسانی جذبوں سے سرسبز و شاداب ہوتا ہے، اور ایسے دلوں میں اطمینان اور خوشیاں بستی ہیں۔

آئیے ہم سب مل کر معاشرے کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالیں اور اس مادہ پرستی کی دلدل میں پھنسنے کے بجائے اپنی خوشی کے ساتھ ساتھ ان خاص لوگوں کی حسرتوں اور خوابوں کا بھی خیال رکھیں۔

Comments

FB Login Required

مدیحی عدن

مدیحی عدن ایک سوچ کا نام ہے جو ایک خاص زاویے سے دیکھی گئی تصویر کے دوسرے رُخ کی عکاسی کرتی ہے۔ معاشرتی صورت حال کے پیش نظر انھیں مایوسیاں پھلانے سے سخت الرجی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ قلم میں اتنی طاقت ہے کہ وہ سوچ اور امید کے ساتھ سمت کا بھی تعین کر دیتی ہے

Protected by WP Anti Spam