پنک ٹی کی تحریف شدہ ترکیب - حنا نرجس

مجھے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ میں اوپر تلے دو تحاریر چائے کے حوالے سے لکھوں گی. وہ تو کچھ لوگوں کے سبز چائے ناپسند کرنے سے تحریک ملی. پھر مزے کی بات یہ ہوئی کہ گذشتہ تحریر میں بات تو سبز چائے کے فلیورز پر کی گئی تھی لیکن اس کا انجام گلابی ہوا. 🙂

جی ہاں اب گلابی یعنی پنک ٹی کی ترکیب بتائے جانے کی فرمائش کی گئی ہے. آگے بڑھنے سے پہلے میں گرین اور پنک ٹی میں فرق واضح کر دوں. یہ فرق وہاں سے بیان کیا جائے گا جہاں سے چائے کے ساتھ ہمارا سامنا ہوتا ہے. اس کی کاشت سے لے کر ڈبے میں بند ہو کر ہم تک پہنچنے کے مراحل آج کا موضوع نہیں ہیں.

دیکھنے میں تو دونوں کی پتّی، ویسے سائز کا لحاظ کرتے ہوئے پتّے کہنا چاہیے، سبز ہی ہوتے ہیں مگر چائے پکنے اور بننے کے مراحل کے بعد جب کپ میں حاضر کی جائے تو عرف عام میں سبز کا لیبل اس پر لگتا ہے جو قہوے کی طرح ہو، فلیور جو بھی ہو اور پنک وہ ہوتی ہے جس میں الائچی، پستہ، بادام، چینی یا نمک کے ساتھ ساتھ دودھ بھی شامل کیا گیا ہو. اسے کشمیری چائے بھی کہا جاتا ہے. یا شاید کشمیری چائے کو پنک ٹی بھی کہہ دیا جاتا ہے 🙂

تو آتے ہیں ترکیب کی طرف... ترکیب تو گوگل بھی تلاش کر دے گا مگر میں اپنی آزمودہ ترکیب بتاؤں گی. مجھے "کشمیری" چائے کی ترکیب ایک "پنجابی" کولیگ نے دی تھی. لہٰذا کشمیری اور پنک ٹی ایکسپرٹ بہن بھائیوں سے ترکیب کی کمی بیشی پر پیشگی معذرت.

پانی: ایک کپ
پنک ٹی کی پتی: ایک ٹی سپون
چھوٹی الائچی: دو عدد

ان اشیاء کو ڈھانپ کر تقریباً بیس منٹ تک ہلکی آنچ پر پکنے دیں. پھر چھان لیں. اب کل جتنی مقدار ہے اتنا ہی تازہ (قدرے ٹھنڈا) پانی ڈال دیں. کم از کم دو سو مرتبہ سرونگ کپ کی مدد سے پھینٹیں. جی ہاں، آپ نے درست پڑھا، دو سو بار ہی! اب ایک کپ دودھ ڈال کر ابال لیں. نمک یا چینی حسب پسند ڈال کر باریک کٹے ہوئے پستہ بادام بھی شامل کر لیں.

جب میں نے پہلی بار اس ترکیب سے بنائی تو باقی سب تو خوش اسلوبی سے ہو گیا تھا مگر دو سو بار پھینٹنے کا وقت کس کے پاس تھا بھلا؟ اب وہ کہتے ہیں نا کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے تو میں نے ترکیب میں خود سے ہی کچھ تحریف کر لی. چھاننے اور ٹھنڈے پانی کا اضافہ کرنے کے بعد چائے کو بلینڈر میں ڈالا اور جناب یوں چٹکی بجاتے کام بن گیا. نصف منٹ میں کئی بار دو سو ہو گیا. 🙂

اب مجھے تھوڑا سا ڈر بھی تھا کہ جب شیلف پر رکھ کر سرونگ کپ سے پھینٹتے ہیں تو ہوا بھی ساتھ ملتی ہے اور aeration کا پروسس ہوتا ہے، بلینڈر میں تو ہوا شامل نہیں ہوئی. پتا نہیں ٹھیک بھی بنے گی یا نہیں.

مگر یقین جانیے جب دودھ، بادام، پستہ اور چینی (تب میں چائے میں چینی ڈالا کرتی تھی، شکر ہے کہ اب پھیکی یا پھر شہد اور دیسی شکر والی بھی اچھی لگنے لگی ہے) کے اضافہ کے بعد چائے کی حتمی صورت سامنے آئی تو دل خوش ہو گیا. شکل، خوشبو، رنگ، ذائقہ سب کچھ بہترین تھا

ورنہ میں نے تو سن رکھا تھا کہ مصنوعی رنگ کا اضافہ کرنا پڑتا ہے یا پھر میٹھا سوڈا ڈالا جاتا ہے. جب ہم چھوٹے تھے، ہماری امّی بہت اچھی پنک ٹی بناتی تھیں. ابو کو بے حد پسند تھی مگر امی کو ہمیشہ شکایت رہتی کہ رنگ ٹھیک سے نہیں نکلتا. ہم بچوں کو رنگ سے غرض بھی نہیں ہوا کرتی تھی کہ مصنوعی ہے یا اصلی، بس پستہ بادام ہوں اور الائچی کی خوشبو.

سوال تو یہاں یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ میں نے ان سے کیوں نہ بنانا سیکھی؟ دراصل محض 16 سال کی عمر میں تو سسرال روانہ کر دیا گیا، لہذا کچھ سیکھنے کی نوبت ہی نہ آ سکی. تعلیم تو بعد میں جاری رکھی ہی، گھر داری کی تعلیم بھی ادھر ادھر سے ہی لی جبکہ میری امی ایک بہترین ہاؤس میکر ہیں. سلیقہ مند اور سگھڑ بھی. کری ایٹو بھی بہت ہیں. مختلف کاموں کے نت نئے آئیڈیاز اور طریقے ہوتے ہیں ان کے پاس. ماشاء الله لا قوة إلا بالله! ویسے کچھ چیزیں مجھے اب ان سے سیکھ ہی لینی چاہئیں.

اچھا اب یہ ہے کہ اچھی چائے تو اچھی پتّی سے بنتی ہے. تو جو میں نے پتّی استعمال کی وہ کون سی تھی؟ جواب یہ ہے کہ اسی کولیگ نے منگوا کر دی تھی، کھلی ہی یعنی کوئی پیکنگ ویکنگ نہیں تھی.

ترکیب ختم ہوئی. آگے اب آپ کا کام ہے چائے بنائیں اور بتائیں کہ کیسی بنی.

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.