پیدائشی دولت مند اور سکون - ریاض علی خٹک

دولت آج کے رائج دور میں وہ قوت خرید ہے جس سے آسائشات خریدی جاسکیں. یہ قوت خرید جتنی زیادہ ہو عام معاشرتی انداز فکر میں اتنا ہی وہ دولت مند ہے. اور غربت قوت خرید کی کمی کو کہا جاتا ہے.

مروج دولت اگر آسائشات و ضروریات کی قوت خرید ہوئی تو کیا یہ دولت ہی کہلائے گی؟ دولت کی خرید کے بعد ایک مرحلہ تسکین کا ہوتا ہے جسے لیول آف سیٹیسفیکشن کہا جاتا ہے. کون سی چیز آپ کو کتنا آسودہ کرتی ہے؟ کتنا اطمینان دیتی ہے؟ کتنی خوشی بہم پہنچاتی ہے؟ دولت کا اس کے ساتھ براہ راست تعلق ہے کہ دولت کی خواہش انہی کیفیات کے حصول سے نکلتی ہیں. آپ کی بہت خواہش ہو کہ ایک مشہور برانڈ کے جوتے پہنیں، ایک اور برانڈ کے سلے کپڑے کسی لگثری گاڑی کی سواری، کسی عالیشان گھر کی رہائش. یہ سب آپ کی خواہشات ہیں. ان خواہشات کا حصول کا ذریعہ دولت ہے. یہ خواہشات تسکین پر ہیں. فرض کیا یہ سب آپ کے پاس ہیں تو کیا یہ تسکین کی ضمانت بھی ہیں؟

پیٹرسن انمین اور جورجیا انمین جڑواں تھے، یہ والکر انمین کی اولاد تھے. ان کا خاندان امریکہ میں تمباکو کی انڈسٹری کا بادشاہ مانا جاتا تھا. صرف تیرہ سال کی عمر میں یہ دونوں بچے ایک بلین ڈالر کی وراثت کے حقدار بنے. اور پندرہ سال کی عمر تک یہ تین تین ماہ ٹراما سنٹر کے مریض رہ چکے تھے، کیونکہ ان کا بچپن بہت مسائل میں گزرا. ان کا والد بھی نشے کی زیادتی سے فوت ہوا، یہ بھی ساری زندگی الجھنوں کا شکار رہے.

کیسی جانسن، جانسن اینڈ جانسن کی اکلوتی وارث ارب پتی بچی جس نے دولت و بے تحاشا دولت میں آنکھیں کھولیں، زندگی بھر الجھنوں کا شکار رہی، کوکین سے لے کر بھانت بھانت کی نشہ آور اشیا کی شکار، کہ نا آسودگی نے تنہا کردیا تھا.

یہ کیا مسائل ہیں؟ اتنی بے بہا دولت بھی ناآسودگی کی اُس منزل پر لے جاتے ہیں کہ جہاں نشہ سے ہی وقتی آسودگی خواہش بن جاتی ہے. یہ صرف ایک اصول ہے کہ دولت سے خوشی اور سکون نہیں خریدا جاسکتا. ایسی ہزاروں مثالیں ہیں کہ دولت نے رشتوں کو کھالیا، فرد کو تنہا کردیا، لیکن مطمئن و اطمینان کی مثالیں بھی موجود ہیں. ہاں ہمارے پاس مارک زکربرگ کی بھی مثال ہے. بظاہر اور بقول اُس کے وہ ایک مطمئن زندگی گزار رہا ہے، لیکن وجہ بھی وہ خود ہی بتاتا ہے. کہ اُس نے دولت کو بانٹنا سیکھ لیا، اُس نے دولت کو استعمال کرنا سیکھ لیا، نہ کہ دولت اسے استعمال کر جائے.

پیدائشی دولت مند تب کون ہوا؟ اس سوال کے لیے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آج کی دنیا میں دولت کیا نہیں خرید سکتی. دولت صحت نہیں خرید سکتی، دولت اطمینان و آسودگی نہیں خرید سکتی، دولت محبت کرنے والے رشتے نہیں خرید سکتی. دولت سکون نہیں خرید سکتی.

اللہ تعالیٰ جب کسی انسان کو مکمل صحت کے ساتھ، ایمان کے ساتھ ایک محبت کرنے والے گھر میں احساس رکھنے والے رشتوں کے درمیان پیدا کرتا ہے، تو وہ پیدائشی دولت مند ہوتا ہے. یہ سونے کا وہ چمچ ہے جو وہ لے کر آتا ہے، اور شعور آنے پر اگر ایمان و قناعت کا زیور اسے وہ بنا دے، اگر پیدا کرنے والے کی رضا میں راضی رہنا سیکھ لے، اگر حقوق العباد کا حساب کتاب وہ سیکھ لے، تو وہ یہ دولت برتنا سیکھ لیتا ہے.

یہ پیدائشی دولت مند اطمینان رکھتے ہیں، ان کے پاس سکون ہوتا ہے. یہ ٹوٹی چپل اور سادہ کپڑوں میں بھی مسکرا رہے ہوتے ہیں. یہ دولت پا کر بھی کھانے سے زیادہ کھلانے میں تسکین لیتے ہیں. دولت نہ ہو تو روٹی پر رکھے اچار یا چٹنی کو بھی ایسی لذت سے کھاتے ہیں. اتنی آسودگی لیتے ہیں کہ بلند و بالا محلوں والے بھی ان کو رشک سے دیکھتے ہیں. یہ پیار کرنے والے ہوتے ہیں. یہ پیارے رشتوں میں گھرے رہتے ہیں. یہ رشتے بنانا سیکھ لیتے ہیں. یہ رشتے نبھانا سیکھ لیتے ہیں.

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.