کیا سوشل میڈیا اپنی اہمیت کھو دے گا؟ ڈاکٹر اسامہ شفیق

سوشل میڈیا نے یوں تو ابلاغی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں اطلاعات کی عدم تصدیق، جھوٹی خبریں اور معاشرے کو الجھن و خلفشار میں مبتلا کرنے کے عوامل بھی سوشل میڈیا کے ساتھ ہی نتھی ہوگئے ہیں۔

اب خبر محض وہ نہیں جو کسی ابلاغی ارادے کی جانب سے جاری کی جا رہی ہے بلکہ میری آپ کی اور دنیا کے کسی بھی فرد کی کوئی بھی اہم بات جو وہ سوشل میڈیا پر شیئر کر رہا ہے وہ اب خبر ہے۔

ابلاغیات کی دنیا میں گو کہ اس نئی ٹیکنالوجی کی خوب پذیرائی کی جا رہی ہے اور اس کو ایک انقلاب سے تعبیر کیا جا رہا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی فرد وہ ابلاغی قوت حاصل کرچکا ہے جو کہ اس سے قبل بڑے ابلاغی اداروں کو حاصل تھی، لیکن اس کے بطن سے ”تشکیک اور غیر تصدیقی اطلاعات کا طوفان“ امڈ کر اب ابلاغیات کو بھی بحیثیتِ مجموعی مشکوک اور غیر معتبر بنا رہا ہے۔

گذشته کچھ عرصے کے دوران جس طرح سوشل میڈیا پر موجود خبریں جو کہ مبنی بر حقیقت بھی نہیں تھیں، نے معاشرے میں شکوک و شبہات کو ابھارا اور کئی افراد و اداروں کی کردار کشی سے لے کر ان کو معاشرے میں اچھوت بنا دیا گیا. اس بہتی گنگا میں ابلاغی اداروں نے بھی کچھ نہ اپنا حصہ جانے انجانے میں ادا کر ہی دیا

اس میں چند واقعات کا تذکرہ محض یاد دہانی کے لیے
1. عبدالستار ایدھی کی وفات کی قبل از وفات خبر سوشل میڈیا سے ہوتی ہوئی ابلاغی اداروں کی ویب سائٹس اور ٹی وی کی زینت بنی.
2. شاہد خان آفریدی کی بیٹی کی موت کی خبر نے بھی سوشل میڈیا پر خوب دھوم مچائی، بعد ازاں یہ جھوٹ ثابت ہوئی.
3. جنید جمشیدمرحوم کی اپنی سگی خالہ کے ساتھ تصویر بھی کس غلیظ پرو پیگنڈے کی بدولت خوب مشہور ہوئی.
اور اب
4. کرسمس کے موقع پر سراج الحق کی کیک کاٹتی تصویر نے نجانے کس کس کے لیے تسکین کا سامان بہم پہنچایا ہوگا اور کس کس کے دل پر ٹھیس لگائی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   بالغ افراد سوشل میڈیا اور نئی نسل - محمد اعجاز

اب جماعت اسلامی کی جانب سے وضاحت آچکی ہے کہ جماعت کے امیر سراج الحق اور امیر صوبہ مشتاق احمد خان کرسمس کے موقع پر پشاور میں نہیں بلکہ لاہور میں تھے اور مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں شریک تھے، لہذا انھوں نے کرسمس کی کسی تقریب میں شرکت نہیں کی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر کب اور کہاں کی ہے، اور ترجمان کے مطابق فوٹو شاپ سے ایڈٹ شدہ ہے۔

یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے لیکن جدید دنیا اور خاص طور پر وہ ممالک جہاں میڈیا کو سنجیدگی سے برتا جاتا ہے، وہاں صحافی ایسی اطلاعات کو سوشل میڈیا پر بھی بطور ثواب شیئر کرنے سے قبل اس کی تصدیق لازماً کرتے ہیں. واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر اور معروف صحافی لارنس پنٹیک نے ایک ایسی ہی مثال شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی کی میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دی کہ کئی سوشل نیٹ ورکس پر ایک بہت بڑی خبر گردش کرتی رہی کہ
”واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے پر FBI کا چھاپہ اور کئی گھنٹے تک مکمل تلاشی“
لارنس پنٹیک کا کہنا تھا کہ میں نے کئی گھنٹے تک اس خبر کو فالو کیا لیکن کسی بھی معتبر ذریعے سے اس کی تصدیق ہوسکی نہ کسی مین اسٹریم میڈیا نے اس کو بطور خبر پیش کیا۔ لیکن ذرا تصور کریں کہ جوش میں اور بریکنگ نیوز کے جنون میں لارنس پنٹیک اس کو ری ٹویٹ یا شیئر کردیتا تو شاید یہ بھی خبر بن جاتی۔

سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والوں کو ابلاغ کے لیے
1. سند یا ذرائع کے بارے میں مکمل معلومات ہونے کے ساتھ،
2. خبر کی ایک سے زائد ذرائع سے تصدیق کی عادت ڈالنی ہوگی،
3. اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ خبر کو شائع کرنے والے کا کیا ایجنڈا ہے،
4 اس کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا خبر مکمل اور متوازن ہے یا نہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا- محمد عاصم حفیظ

خلاصہ
سوشل میڈیا کی کئی خوبیوں کے ساتھ اب اس جانب زیادہ توجہ دینی ہوگی کہ مصدقہ اور غیر مصدقہ اطلاعات میں ایک حد فاصل قائم کی جائے، ورنہ سوشل میڈیا بھی روایتی میڈیا کی طرح وقت کے ساتھ غیر مؤثر اور ناقابل اعتبار ہوجائے گا۔ اور اس کے ساتھ ہی روایتی ذرائع ابلاغ کے برخلاف جو طاقت عام آدمی کو اپنی بات کے ابلاغ کی حاصل ہوئی ہے، وہ بھی ختم ہوجائے گی، لہذا احتیاط اور تصدیق ہی اس کا واحد حل ہے۔