مجھے جواب نہیں دینا - ڈاکٹر غیث المعرفہ

مجھے جواب نہیں دینا، علم کی تیغ اخباری ٹکڑوں کی سان پر نہیں چڑھائی جاتی اور ہر اس چیز کو دانش کا نام نہیں دیا جا سکتا جس پر مرصع لفظوں کی ملمع کاری کی گئی ہو، پھر جب بات فقط قبضوں کی ہو تو کیا جواب دیا جائے، یہ دیہی دماغوں کی پٹاری ہے جو کھل جائے تو اسے بند کرتے کرتے نسلوں کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ مخصوص طبقہ کہتا ہے کہ کیونکہ پاکستان، قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے بنایا تھا، اس لیے یہ ان کی جاگیر ہے لہٰذا جو گیارہ اگست کو انہوں نے کہا، لازم ہے کہ اسی کی بنیاد پر تعمیر اٹھائی جائے۔ قیادتوں کی اہمیت سے انکار نہیں، وژنری ہوں تو مٹی بھی سونا اگلتی ہے اور کھوٹے سکے ہوں تو ہیرے بھی راکھ کا ڈھیر بن جایا کرتے ہیں لیکن پاکستان اور بھارت عوامی استصواب رائے کے نتیجے میں وجود میں آئے، تحریک پاکستان کا ڈاکٹرائن عوامی تھا، "مسلم ہے تو لیگ میں آ" اور "پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ" تھا، جب یہ نعرے برصغیر کے طول و عرض میں لگ رہے تھے تو سید مودودیؒ اسے مسلم لیگ کا سیاسی داؤ پیچ سمجھ رہے تھے اور میرے ملک میں بیٹھے سیکولرز ایک طرف ان کی تائید میں ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں اور دوسری طرف انہی پر خنجر تان رکھا ہے۔

بات بالکل سادہ ہے اگر آپ کہتے ہیں کہ قائد اعظمؒ کی گیارہ اگست کے علاوہ باقی تمام تقاریر فقط سیاسی لفاظی تھی تو صاحب آپ سید مودودیؒ کی مسند سنبھال چکے ہیں جو تحریک پاکستان میں اسلام کے نام پر سیاست کو محسوس کر رہے تھے۔ قصہ ماضی ہے چھوڑئیے پاکستان بن چکا مگر قبضوں کی تحریک جاری ہے۔ مجھے کبھی کبھی ملک کے دینی طبقات پربہت ترس آتا ہے سید مودودیؒ کبھی اس ملک کے صدر اور وزیراعظم تو کجا وفاقی وزیر برائے مذہبی امور تک نہ بن سکے اور یہی روایت ان کے جانشینوں نے برقرار رکھی، جماعت اسلامی کبھی اقتدار تک نہ پہنچ سکی لیکن کمالِ فن ہزل گوئی ہے کہ ملک پر سید مودودیؒ اور جماعت اسلامی کا قبضہ ہے اور صرف قبضہ ہی نہیں بد انصافی پر مبنی قبضہ ہے اور یہ قبضہ چھڑانے کے لیے پوری پوری ویب سائٹیں اور گھنٹوں صرف کئے جا رہے ہیں۔

مجھے ایک عزیز نے آصف محمود صاحب کا لنک بھیجا، منادی تھی کہ سید مودودیؒ کو بچا لو، خدا کے بندو جس نے اپنے جیتے جاگتے اعصاب کے ساتھ اپنی زندگی میں خود کو بچانے کی فکر نہ کی ہو ان کو آج بھی کسی محافظ کی ضرورت نہیں، ان پر لگنے والے فتاویٰ نئے نہیں، بس کردار اور شکلیں بدل گئیں لیکن طریقہِ واردات نہیں بدلا، پہلے مذہبی ملا تھے تو آج سیکولر ملا ہیں۔ تو کیوں نہ سید کی روایت سنبھالی جائے اور جواب نہ دیا جائے۔ کل کے مذہبی فتاویٰ کے دوسرے ایڈیشن چھپنے کی نوبت نہ آئی اور تم دیکھو گے کل گوگل بھی سیکولر فتاویٰ کو تلاش کرنے میں مشکل محسوس کرے گا۔ مجھے جواب نہیں دینا، لیکن اک التجا ہے کہ ہم سب اور آپ سب اپنی قوتیں آج کے مسائل پر صرف کریں، قبضے کی دیہاتی لڑائیوں کو چھوڑتے ہوئے اس قوم کو بتائیں آج تک اس ملک پر کس کا قبضہ ہے اور کیوں یہاں مسائل مسلسل بڑھتے چلے گئے ہیں