ہے کوئی مسیحا؟ ہے کوئی چارہ گر؟-حمیرہ خاتون

حلب جل رہا ہے۔ شام تباہ ہورہا ہے۔ شام کے مسلمان مدد کے لیے مسلمانوں کو پکار رہے ہیں۔ بشار الاسد اور روس کی فوجوں نے شام میں میدان جنگ برپا کر رکھا ہے۔

یہ جنگ باغیوں کی ہو یا شام کی یا روس کی۔ جس کی بھی ہو، مگر کوئی یہ تو بتائے کہ جنگ میں معصوم بچوں، ننھی کلیوں، قوم کے نونہالوں، اسپتالوں کے مریض، گھریلو خواتین، نوعمر نوجوان، بیمار ضعیف معمر افراد، ان سب کا قصور کیا ہے؟

انہوں نے کیا جرم کیا ہے؟ یہ سب کون سی بغاوت میں ملوث پائے گئے ہیں؟

وہ شیرخوار بچے جو ابھی پنگھوڑے میں لیٹے صرف جھولا جھولنے کا مزا جانتے ہیں، جو کسی بھی چہرے کو دیکھ کے مسکرادیتے ہیں، جن کی سب سے بڑی متاع ان کی مسکراہٹ ہے، جو اتنے معصوم ہیں کہ سوائے رونے، ہنسنے، مسکرانے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے۔ انہیں کس جرم میں زندگی سے محروم کیا جارہا ہے؟

وہ پھول جیسی ننھی کلیاں جن کی قلقاریاں اور ہنسی کی جلترنگ انسان کو زندگی سے محبت کرنے پر مجبور کردیتی ہیں۔ جن کی معصوم باتیں زندگی کی تھکن کو ختم کردیتی ہیں۔ ان ننھی کلیوں نے کون سا جرم کیا ہے کہ ان کو مسلا جارہا ہے۔ انہیں کس جرم میں زندگی سے محروم کیا جارہا ہے؟

وہ عفت ماب خواتین کہ جن کی ساری دنیا ان کے شوہر اور ان کے بچے ہیں۔ جن کی ساری سوچوں کا محور بس شوہر اور بچے ہیں، ان کا خیال رکھنا، انہیں آرام پہنچانا، ان کو آسائشات بہم پہنچانا... انہوں نے کون سی بغاوت کی ہے کہ ان کو گرفتار کرکے لے جایا جارہا ہے؟ ان کی عصمت دری کی جارہی ہے۔ ان کی نظروں کے سامنے ان کی اولاد، اور ان کے شوہروں پر تشدد کیا جارہا ہے۔ ان کو ذہنی اذیت دی جارہی ہے۔ ان کے گھروں کو تباہ کیا جارہا ہے۔ ان کو کس جرم میں ان کے محفوظ گھروں سے نکال کر کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور کردیا گیا ہے؟ انہیں کس جرم میں زندگی سے محروم کیا جارہا ہے؟

وہ خوبصورت پھولوں جیسی لڑکیاں، وہ بارش، موسیقی، رنگ اور خوشبو سے محبت کرنے والی، وہ کس سیاست میں ملوث ہیں؟ ان کو کس قانون کے تحت ان کے محفوظ گھروں سے نکال کر ان کے قیمتی ترین جوہر عصمت سے کھیلا جارہا ہے؟ اپنے آپ کو بچانے اور اپنی عصمت دری سے بچنے کی خاطر وہ خود کشی جیسی حرام موت کو بھی بخوشی قبول کرنے تیار ہیں کیونکہ ان کے نزدیک ان کی عصمت، ان کی عفت، موت سے زیادہ قیمتی ہے۔ آخر ان پیاری لڑکیوں کا جرم کیا ہے؟ انہیں کس جرم میں زندگی سے محروم کیا جارہا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں - رانا اعجاز حسین چوہان

وہ نوعمر نوجوان جن کی آنکھوں میں مستقبل کے خوش رنگ خواب سجے ہیں۔ جو اپنے لیے، اپنے گھر والوں کے لیے ، اپنے ملک کے لیے پرعزم ہیں۔ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں، ان کو بغیر کسی وارنٹ کے، بغیر کسی اطلاع کے، بغیر کسی جرم کے، گھروں سے، تعلیم گاہوں سے، راستوں سے اٹھایا جارہا ہے اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان پر ناکردہ الزامات لگائے جارہے ہیں۔ ان سے ان باتوں کی زبردستی تصدیق طلب کی جارہی ہے جو انھوں نے کبھی سوچی بھی نہ تھیں۔ ان کو تشدد کی ایسی بھٹی میں ڈال دیا جاتا ہے کہ وہ نہ زندوں میں شمار کیے جاسکتے ہیں اور نہ مردوں میں۔

دنیا کا کوئی بھی مذہب، کوئی بھی قانون، کوئی بھی عدالت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ شیرخوار بچوں، ننھی کلیوں، معصوم کمسن بچے، بچیوں ، نوعمر بے گناہ طالب علموں، گھریلو خواتین، بیمار ضعیف مرد و خواتین، آزاد شہریوں کو بغیر کسی جرم کے، بغیر کسی گناہ کے ان پر ظلم کیا جائے، ان پر تشدد کیا جائے، اور ان پر بمباری کرکے ان کے گھر تباہ کردیے جائیں۔ ان کو کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور کردیا جائے۔ ان کو ان کے گھروں سے محروم کردیا جائے۔ ان کو ان کے بچوں، شوہروں اور والدین کی لاشوں میں تبدیل کردیا جائے۔

دنیا کے کون سے قانون میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے؟ اگر یہ جنگ ہے تو یہ کیسی جنگ ہے کہ جس میں ایک فریق کو دفاع تک کی اجازت نہیں ہے؟

دنیا میں بسنے والے ممالک اور عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ جنگ کے قوانین پر غور کیا جائے۔ تعلیمی اداروں، اسپتالوں، گھروں، آبادیوں، رہائشی علاقوں پر بمباری کو ممنوع قرار دیا جائے۔

بچوں، خواتین اور ضعیف افراد پر تشدد کو ممنوع قرار دیا جائے۔

جس نے جرم کیا ہے، اسے گرفتار کریں، اس پر فرد جرم عائد کریں۔ اسے عدالت میں پیش کریں اور سزا کا فیصلہ عدالت پر چھوڑ دیں مگر یہ کون سا قانون ہے، یہ کون سی انسانیت ہے جو اہل شام کے ساتھ روا رکھی جارہی ہے۔ کس قانون کے تحت ان پر یہ ظلم ڈھایا جارہا ہے؟ کیا بھول گئے ساحر لدھیانوی کیا خوب کہہ گئے ہیں:
ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ، ٹپکے گا تو جم جائے گا
خون دیوانہ ہے، دامن پہ ٹپک سکتا ہے
شعلہ تند ہے، خرمن پہ لپک سکتا ہے
تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آنکلا ہے
کہیں شعلہ ، کہیں نعرہ، کہیں پتھر بن کر
خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں سے
سر جو اٹھتا ہے تو دبتا نہیں آئینوں سے
ظلم کی بات ہی کیا، ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم بس ظلم ہے آغاز سے انجام تلک
خون پھر خون ہے، سو شکل بدل سکتا ہے
ایسی شکلیں کہ مٹائو تو مٹائے نہ بنے
ایسے شعلے کہ بجھائو تو بجھائو نہ بنے
ایسے نعرے کہ دبائو تو دبائے نہ بنے

یہ بھی پڑھیں:   آگے کی کون سوچے گا؟ خواجہ مظہر صدیقی

عالمی طاقتیں اس سلسلے میں قانون سازی کریں اور اس کو پوری دنیا میں نافذ کیا جائے۔ اور جو قوانین اس سلسلے میں پہلے سے موجود ہیں، ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

افغانستان، عراق، کشمیر، برما، بوسنیا، فلسطین، روہنگیا، اور شام، ہر جگہ مسلمان ہی کیوں نشانے پر ہیں؟

اسلامی ممالک کو چاہیے کہ اپنی خاموشی کو توڑیں اور آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں۔ دنیا میں اپنی تعداد، قوت اور طاقت اور کو پہچانیں اور متحد ہوکر ایسی پالیسیاں بنائیں اور ایسے اقدامات کریں کہ کسی بھی صیہونی طاقت کو کسی بھی اسلامی ملک کو نشانہ بنانے کا موقع نہ ملے۔ اسلامی ممالک کے حکمران اس بات کو سوچیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک عظیم منصب عطا کیا ہے، وہ اس منصب کا حق ادا کریں، عوام ان کے ساتھ ہیں۔ ضرورت صرف بہادر، غیرت مند، سمجھدار مسلم حکمرانوں کی ہے جو مسلمان عوام کی قیادت کرسکیں۔
ہے کوئی نورالدین زنگی؟ ہے کوئی صلاح الدین ایوبی؟ ہے کوئی مسیحا؟ ہے کوئی چارہ گر؟

Comments

حمیرہ خاتون

حمیرہ خاتون

حمیرہ خاتون کو پڑھنے لکھنے سے خاص شغف ہے۔ بچوں کی بہترین قلم کار کا چار مرتبہ ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ طبع آزمائی کے لیے افسانہ اور کہانی کا میدان خاص طور پر پسند ہے۔ مقصد تعمیری ادب کے ذریعے اصلاح ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.