اتحاد کیوں اور کیسے؟ - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

جنگ عظیم سے تاحال اندازاً ایک کروڑ مسلمان قتل کیے جاچکے ہیں۔ پاکستان، برما، کشمیر، بھارت، افغانستان، فلسطین، شام، عراق، نائیجیریا اور دیگر ممالک میں مسلمان جس طرح اپنی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں، اس کے پیش نظر اتحاد کی ضرورت و اہمیت کو بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ مسلمانوں کی صفوں میں افتراق و انتشار میں ہی دشمن کی کامیابی کا راز ہے۔ صدیوں سے دشمن ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں کے وسائل پر قابض ہے۔ تاریخ اسلامی میں کئی ایسے مواقع آئے جن میں امت مسلمہ کا وجود خطرے میں پڑگیا۔ ان ادوار کی تاریخ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قریب تھا کہ مسلمانوں کے وجود کو استیصالاً معدوم کردیا جا تا مگر ان نازک حالات میں بھی جیسا کہ اقبال نے خطبہ الٰہ باد میں فرمایا تھا مسلمانوں نے اسلام کی حفاظت نہیں کی بلکہ یہ اسلام ہی تھا جس نے مسلمانو ں کے وجود کو باقی رکھا۔

اللہ رب العزت کا قوموں کے عروج و زوال کا قانون کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔بنی اسرائیل کو حکمت ،حکومت اور تین الہامی کتب و صحائف سے نوازا گیا تا ہم ان کی مسلسل ہٹ دھرمی اور اعراض عن الحق نے انہیں اس بات کا مستحق بنا دیا کہ ان پر ذلت، رسوائی،مسکنت اور محتاجی کو مسلط کر دیا جائے۔ آج ہمارے اندر بھی وہ تمام تر برائیاں بدرجہ اتم موجود ہیں جس کی وجہ سے سابقہ اقوام پر عذاب استیصال یا عذاب قتل و حرب مسلط کیا گیا مگر رسول اللہ ﷺ کی امت میں سے ہونے کی وجہ سے ہمیں مکمل طور پر معدوم نہیں کیا جاتا البتہ تنبیہ کے لیے جزوی عذاب ظاہر ہو تا رہتا ہے۔خاص طور پر ملک پاکستان اور بالعموم تمام عالم اسلام کی صورتحال کو دیکھ کر انداز ہ ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے جس طرح بنی اسرائیل کی پیہم سرکشی کی وجہ سے ان پر کوہ طور کو بلند کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہم نے جو احکامات تمہیں دیئے ہیں ان کو مضبوطی سے اختیار کر لو ورنہ تمہیں تباہ کر دیا جائے گا اسی طرح معاشی تنگی، دہشت گردی و قتل و غارت گری اورد یگر مصائب و آلام کا کوہ گراں ہماری نافرمانیوں کی وجہ سے ہمارے سر پر کھڑا کر دیا گیا ہے اورہمارے اعمال مجسم طور پرفرعون کی طرح ظالم حکمرانوں کی صورت میں ہم پر مسلط ہیں۔ اللہ رب العزت کی طرف سے مسلسل تنبیہات کا سلسلہ جا ری ہے کہ ہماری کتاب کی ہدایت اور نبی رحمت ﷺ کے طریقے کو مضبوطی سے تھام لو ورنہ قانون خداوندی کے مطابق تمہیں تباہ و برباد کردیا جائے گا۔

ہماری رائے میں اتحاد کے تین درجے ہو سکتے ہیں:
۱۔الہامی و غیر الہامی مذاہب کا اتحاد لا دینیت اور مغربی الحاد کے خلاف:
جیسے ۱۹۴۹ء میں مبلغ اسلام حضرت شاہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمۃ نے of Singapore Inter Religious Organisation کی بنیاد رکھی جس کے ذریعے اسلام، ہندو مت، تاؤازم، پارسی مذہب، مسیحیت، یہودیت وغیرہ سے تعلق رکھنے والے حضرات کو لادینیت کے خلاف متحد کرنے کی عالمی سطح پر کوشش کی گئی۔

۲۔الہامی مذاہب کا مشرکین کے مقابلہ میں ایک کلمہ پر جمع ہونا :

قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے فرمایا:
ترجمہ: ’’آپ فرما دیں: اے اہل کتاب! تم اس بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے ،کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبات نہیں کریں گے اور ہم اسکے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا رب نہیں بنائے گا،پھر اگر وہ روگردانی کریں تو کہہ دو کہ گواہ ہو جاؤ کہ ہم تو اللہ کے تابع فرمان ہیں۔‘‘

اسی طرح سورہ روم میں ہے کہ جس دن اہل روم مشرکین فارس پر غالب آجائیں گے تو اس دن مؤمنین کو فرحت ہو گی ”یومئذ یفرح المؤمنون“ کیونکہ مشرکین شرک کی وجہ سے یہ پسند کرتے تھے کہ اہل فارس اہل روم پر غالب آجائیں اور مسلمان اہل روم کے اہل کتاب ہونے کی وجہ سے یہ پسند کرتے تھے کہ وہ مشرکین پر غالب آجائیں۔ان دونوں آیات سے معلوم ہوا کہ مشرکین کے مقابلہ میں مسلمانوں کو اہل کتاب کی کامیابی کے لیے تائید کرنی چاہیے۔

۳۔ دشمنان اسلام کے مقابلہ میں تمام اسلامی گروہوں کا اتحاد:
یعنی دشمنان اسلام کے مقابلے پر وہ تمام گروہ جو کم از کم اسلام کے دائرے میں داخل ہوتے ہوں ان کا باہمی طور پر اپنی بقا کے لیے ایک دوسرے سے مشترکات پر اتحاد کرنا۔ جب اہل کتاب کو جو کافر ہیں مشرکین کے مقابلہ میں ’’لا الہ الا اللہ‘‘پر جمع ہونے کی دعوت دینا واجب ہے تو وہ تمام فرقے اور گروہ جو کم از کم اسلام کی تعریف میں داخل ہوتے ہوں وہ اپنی منفعت اور نقصان کے ایک ہونے کی وجہ سے اپنی بقا کے لیے ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ﷺ پر اتفاق کیوں نہیں کر سکتے؟ اس کی واضح مثال مبلغ اسلام حضرت شاہ عبد العلیم صدیقی رحمہ اللہ کا ’’التقریب بین المذاھب الاسلامیۃ‘‘ اور عہد قریب میں ان کے صاحبزادے قائد ملت اسلامیہ حضرت شاہ احمد نورانی علیہ الرحمۃ کا ’’متحدہ مجلس عمل‘‘تشکیل دینا ہے۔

یہاں یہ بات بھی انتہائی لائق توجہ ہے کہ جب اتحاد امت کی بات کی جاتی ہے تو سے مرادصرف علماء ،مشائخ یا پیروں کا اتحاد مراد لیا جاتا ہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ زندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کو جمع کر کے بنیان مرصوص بنا دیا جائے۔

اتحاد اہل سنت یا اتحاد ملت اسلامیہ؟
اسلام کے صحیح عقائداور درست تعلیمات کے امین ’’اہل سنت و جماعت ‘‘ہیںیعنی اللہ کے رسول ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی سنت و طریقے پر عمل کرنے والے اور حدیث شریف کے مطابق ایسا گروہ قیامت تک حق پر قائم رہے گا اور باطل ان کو جادۂ حق سے بھٹکا نہ سکے گا۔مثالی اتحاد تو اسلام و ایمان کی بنیاد پر ’’اتحاد انسانی‘‘ہی ہے جس میں بلا رنگ و نسل و زبان اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانا انسانوں کو عالمی بھائی چارے کے رشتے میں منسلک کر دیتا ہے۔ ہماری رائے میں مسلمان جس قدر افتراق و انتشار کا شکار ہیں انسانوں کا ایسا عالمی اتحاد جس کی بنیاد ایمان و اسلام کا رشتہ ہو قرب قیامت میں حضرت سیدنا امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت ہی ممکن ہو سکے گا البتہ اس کے لیے کی جانے والی کوششوں کو جاری رہنا چاہئے۔پیش نظر مضمون میں پاکستان میں قومی سطح پر ’’اتحاد اہل سنت‘‘ کے حوالے سے قارئین کی خدمت میں چند ایک گزارشات پیش کرنا مقصود ہے۔

اگرچہ ہمارے نزدیک یہ صورت ایک مثالی اور قرآن و سنت کی مطلوب نہیں تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر جب ایک فرقہ دوسرے کے ساتھ کسی بھی طور پر تعاون کے لیے تیار نہیں اور وہ لوگ جو اکثریت میں ہوںاور اسلام کی حقیقی تعلیمات کے امین ہونے کے باوجود وہ باہم دست و گریبان ہو جائیں تو کم از کم ایمان کی بنیاد پر اس مثالی اتحادانسانی تک پہنچنے کے لیے اسے خشت اول قرار دیا جا سکتا ہے۔عمومی طور پر جب مختلف گروہ آپس میں ایک دووسرے سے اتحاد کرتے ہیں تو وہ اتحاد کسی دوسرے مکتبۂ فکر کے خلاف بغاوت کے رد عمل میں ہوتا ہے یعنی ان کو متحد کرنے والی قوت ان میں باہمی محبت نہیں بلکہ مخالف گروہ کا بغض ہوتا ہے اس لیے ایسا اتحاد نہ صرف ناپائیدار و تار عنکبوت ثابت ہوتا ہے بلکہ قومی سطح پر فرقہ واریت، تشدد اور دہشت گردی کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ لہٰذا اتحاد اہل سنت سے ہماری ہر گز یہ مراد نہیں کہ اہل سنت کو کسی خاص اسلامی فرقے یا گروہ کے مقابلہ میں متحد کیا جائے۔ اس کا نتیجہ سوائے تشدد و افتراق کے اور کچھ برآمد نہ ہوگا۔اس بات کو خاص طور پر ۹/۱۱ کے بعد عالمی صورتحال کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔

امریکا اور عالمی شیطانی طاقتوں کے مد مقابل اگر کوئی مکمل نظام زندگی ہے جو زندگی کے انفرادی و اجتماعی ،مادی و روحانی ہر پہلو میں اللہ کی وحی کی بنیاد پر’’رسول اللہ ‘‘ ذریعے ہم تک پہنچا ہو اور اپنی اصل صورت میں باقی ہو نیز وہ عالمگیر سطح پر کثرت کو اپنی وحدت میں گم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو وہ صرف اسلام ہے۔دشمنان اسلام مسلمانوں میں موجود افتراق و انتشار کے اسبا ب اور ان کے سلاسل سے بخوبی واقف ہیں اور ان کو بوقت ِضرورت تحریک دے کر اپنے مقاصد کو حاصل کرنا بخوبی جانتے ہیں۔

پاکستان میں موجود تمام اسلامی تنظیموں، جماعتوں، خانقاہوں اور فرقوں کو چاہیے کہ وہ بالخصوص افغانستان، عراق، شام اور دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک کی بدلتی ہوئی صورتحال پر غور کریں اور یہ دیکھیں کہ کس طرح سے مسلمانوں میں انتشار پیدا کر کے دشمن ہمیں ’’اسلامک ورلڈ وار‘‘ کی طرف دھکیل رہا ہے۔ امریکا اور عالمی طاقتوں کا افغانستان سے ناکام و نامراد ہوکر واپس لوٹنا انتہائی اہم ہے۔ دشمن کی مکمل کوشش ہوگی کہ مسلمان آپس میں خانہ جنگی میں مبتلا ہوجائیں اور ان کے لیے شکست کو کامیابی میں بدلنا آسان ہوجائے۔ لہٰذا ہماری رائے میں اتحاد اہل سنت کے سلسلہ میں درج ذیل باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے:

۱۔اتحاد اہل سنت کسی اسلامی فرقے یا جماعت و گروہ کے خلاف نہ ہو تاکہ یہ اتحاد دشمن کے ہراول دستے کے طور پر استعمال نہ کیاجا سکے۔

۲۔اس بات کی کڑی نگرانی کی جائے کہ دشمن اس اتحاد میں اپنے مالی تعاون اور ایجنٹس کو داخل کر کے اس اتحاد کو مزید انتشار کا سبب نہ بنا پائے۔

۳۔یہ اتحادقومی اور پھر عالمی سطح پر اسلام کی بنیادپر اتحاد انسانی کے لیے پہلا قدم ثابت ہو۔

اب ہم اتحاد اہل سنت کے حوالے سے چند ایک بنیادی باتیں پیش کرنا چاہتے ہیں جن پر غور و فکر کرنا مختلف جماعتوں کے قائدین کے لیے ضروری ہے:

۱۔سنی کی تعریف کیا ہے؟
ہمارا المیہ یہ ہے کہ اہل سنت کے مابین ’’اہل سنت‘‘ کی تعریف متنازع بن چکی ہے۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جس طرح سے یہ ممکن ہے کہ ایک شخص سنی نہ ہو مگر مسلمان ہو،حنفی نہ ہو مگر اہل سنت ہو اسی طرح یہ کیوں نہیں ہو سکتا کہ وہ بریلوی نہ ہو مگر وہ سنی ہو۔اپنی غلطیوں کی وجہ سے ہم نے بریلویت کو ایک نیا فرقہ بنا یا ہے۔ ہم عقائد کے جن دائروں میں رہتے ہیں اس دائرے سے باہر ہونے والوں کو ہم سنی سمجھنے سے قاصر ہیں۔اپنی اپنی فکری،جماعتی ،خانقاہی،جامعتی اور ادارتی نسبتوں پر ایک مخصوص خول اور دائرے کی صورت میں ایمان لایا جا چکا ہے اور اس دائرے سے باہر ہونے کو ارتداد شمار کیا جا تا ہے۔جس کی وجہ سے شاید ہی کوئی ایسا گروہ باقی بچا ہو جس کی تکفیر خود اہل سنت سے تعلق رکھنے والوں نے نہ کی ہو۔ وہ شخص جس نے پوری زندگی اہل سنت کی خدمت اپنے قلم اور زبان سے کی ہو اسے آخر میں گمراہ یا کافر ہونے کا سرٹیفیکیٹ دے دیا جا تا ہے۔ اگر ان تمام فتاوی کو درست مان لیا جائے اس وقت اہل سنت کی تعداد انتہائی کم رہ جائے گی۔ لہذا اہل سنت کے قائدین کو چاہئے کہ اہل سنت کی تکفیر کرنے اور ان کو دائرہ سنیت سے باہر کرنے کے بجائے تکثیر اہل سنت پر زبان و قلم کا زور صرف کریں۔ اہل سنت کے مابین باہمی تکفیر کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے اصول تکفیر کا جاننا ضروری ہے اس کے لیے راقم کی کتاب ’’ حرمت تکفیر مسلم ‘‘کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔

۲۔صلح کلیت
عام طور پر ایک دوسرے کو سنیت سے خارج کرنے کے لیے جو ہتھیار استعمال کیا جا تا ہے وہ کسی کو ’’صلح کلی‘‘قرار دینا ہے۔اس اصطلاح سے عام طور یہ مراد لیا جا تا ہے کہ جو شخص ہر ایک سے صلح کر لے وہ صلح کلی ہے اور صلح کلیت گمراہیت ہے۔اس حوالے سے ہم نے ایک معروف عوامی مقرر سے بات چیت کے دوران خود سنا: ’’مولانا نورانی جب قائد اہل سنت تھے میں ان سے ملتا تھاان کی دست بوسی کرتا تھا لیکن جب وہ قائد ملت اسلامیہ بن گئے تومیں نے ملنا چھوڑ دیا اور مر گئے تو ان کے جنازے میں نہیں گیا۔‘‘یہ بات انہوں نے اس فخر کے ساتھ بیان کی جیسے حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کے جنازے میں شریک نہ ہو کر بہت نیک کام کیا ہو۔جو لوگ آپ کے جنازے میں شریک تھے وہ اس امر پر گواہی دیں گے کہ آپ واقعی طور پر قائد ملت اسلامیہ تھے۔ وہ یہ بات سمجھ نہ سکے کہ یہ ان کی نیکی نہیں بلکہ بد نصیبی تھی کہ اس سعادت سے محروم رہے۔صلح کلی کی اصطلاح کو بہت غلط سمجھا اور استعمال کیا گیا ہے۔ اگر اس کو اسی معنی میں استعمال کیا جائے کہ ہر ایک مکتبہ فکر کے لوگوں سے صلح کرنا گمراہیت ہے تو علماء کی اکثریت گمراہ قرار پائے گی۔ تحریک پاکستان کے قبل سے لے کر پاکستان بننے کے بعد تک اور پھر تا حال قومی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ایسے مواقع آئے ہیں جن میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے ایک دوسرے سے مشترکات پر اتفاق کیا جیسے تحریک ختم نبوت۔ اس کی واضح مثال مختلف قومی اور نجی چینلز پر نشر ہونے والے مذہبی پروگرامز میں تمام مکاتب فکر کا شریک ہونا اور قومی سطح پر حکومت کی ایما پر فتاویٰ کی تصدیق کرنا ہے۔

صلح کلیت سے مراد تمام مکاتب فکرسے عقائد میں کلی طور پر صلح کر لینا ہے نہ یہ کہ ہر ایک سے صلح کر لینا۔اس کو’’ صلح جزوی ‘‘کہا جاسکتا ہے۔دشمنان اسلام و پاکستان کے خلاف اپنی منفعت اور نقصان کے پیش نظر جزوی طور پر تمام مسلمان فرقوں سے جزو ی صلح کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ کسی خاص مقصد کے پیش نظر اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے جزوی طور پر کسی سے صلح کر لینا ہر گز صلح کلیت نہیں اور نہ ہی گمراہیت ہے۔

۳۔سنیوں کے موضوعات
اہل سنت کے متحد نہ ہونے اور پیچھے رہ جانے کی ایک بڑی بوجہ ان کے وہ موضوعات ہیں جن پر وہ بولتے ،لکھتے اور مناظرے کرتے ہیں۔وہ مسائل جن کی بنیاد پر ہم خود کو دوسروں سے ممتاز ثابت کر تے ہیں سارا زور ان پر صرف کیا جا تا ہے۔ان موضوعات کے حوالے سے اہل سنت خود کفیل ہے انہیں مزید ان پر لکھنے اور بولنے کی ضرورت نہیں۔دوسرے مکاتب فکر کے لوگ مستقل اپنے مخصوص اہداف کے حصول کے لیے کوشاں ہیں اور ان کی مصروفیت کا عالم یہ ہے کہ وہ ہمیں منہ تک لگانا پسند نہیں کرتے اور ہم ہیں کہ اس کے باوجود مستقل ان مسائل پر اپنا وقت صرف کررہے ہیں۔ لہٰذا ہماری توپوں کا رخ اب ایک دوسرے کی طرف ہوگیا ہے۔ اب ہم آپس میں ان موضوعات پر بحث کررہے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ زیادہ افضل ہیں یا حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ زیادہ افضل ہیں؟ ہمیں حق چار یار کا نعرہ لگانا چاہیے یا حق سب یار کہنا چاہیے؟ یزید کی ماں مسلمان تھی یا عیسائی؟ حضور نبی کریم ﷺ کا نور حسی ہے یا معنوی؟ حضور نبی کریم ﷺ کو نبوت کب عطا ہوئی؟

اہل سنت کو چاہیے کہ وہ امت اور قوم کے زندہ مسائل سے خطاب کریں اورخاص مسلک کے نمایندہ بننے کے بجائے قوم کے سامنے اسلام کو بحیثیت نظام زندگی پیش کریں اور اس نظام زندگی کے نفاذ و نفوذ کے لیے عملی کوشش کریں ورنہ چند سالوں میں ہمارے وجود کا ثبوت صرف مخصوص رنگوں کا عمامہ ہی رہ جائے گا۔ ہم اس وقت صرف بیان حق کا کام اپنی تعریف کے مطابق کرنے میں مصروف ہیں تردید باطل جو خاص انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے اس پر عمل کرنے کی بہت ضرورت ہے۔

کیا کرنا چاہئے؟
ذیل میں ابتدائی نوعیت کی کچھ باتیں ذکر کررہے ہیں، جن پر عمل کرنا یقیناً اہل سنت کو نہ صرف متحد کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، بلکہ آیندہ آنے والے وقتوں میں عملی خطوط کی نشاندہی بھی کرے گا:

۱۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ اہل سنت کے مردہ جسم میں دوبارہ زندگی کی لہر دوڑ جائے تو انہیں کسی فرقے و گروہ کے بجائے بمقابلہ کفر کھڑا کر دیں ان میں زندگی پیدا ہوجائے گی۔ دشمنان اسلام یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ اگر کبھی بھی عالمی سطح پر عالم کفر کے خلاف جہاد کا ایسافتویٰ جاری ہوا کہ تمام دنیا کے مسلمان اپنی بے سرو سامانی کے باوجود بسوئے اسرائیل چل پڑیں تووہ پاکستان سے ہی جاری ہوگا۔ پاکستان میں وہ قوت اہل سنت کے ہاتھ میں ہے۔ صرف اپنے گردو پیش کے ماحول پر نظر ڈالیں۔ پاکستانی میڈیا کا تجزیہ کریں۔ اپنا تعلیمی نظام دیکھیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ پوری قوم کی ایک منظم منصوبہ بندی کے ساتھ ذہنی تخریب کاری کی جارہی ہے اور انہیں ذہنی مرتد بنایا جارہا ہے۔

اہل سنت کو چاہیے کہ قوم کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے لیے اپنے علمی اسلحہ خانے کو استعمال کریں۔ اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ دشمن کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے تا کہ کم از کم یہ تو معلوم ہو کہ کس طرح مختلف مذاہب و تنظیموںکے لوگ مسلمانوں کو مرتد بنارہے ہیں یا مسلمانو ں کو کم از کم مسلمان نہ رہنے دینے کی مذموم کوشش میں بے حساب پیسہ خرچ کررہے ہیں۔

۲۔اسلامی دنیا کے معاشی، سیاسی، دفاعی، سماجی حالات سے واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے تا کہ مسلم دنیا کو در پیش مسائل کو جاننے کے ساتھ ہمارے اندر ایک امت ہونے کا خیال بھی پیدا ہو، ان کے ساتھ ہونے والے معاملات سے ہم اپنی پالیسی ترتیب دے سکیں اور سب سے بڑھ کر یہ معلومات ہمیں ایک کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ حدیث کے مطابق امت ایک جسم کی مانند ہے، اگر ایک حصے میں درد ہو تو دوسرا حصہ اس درد کی وجہ سے رات بھر جاگتا ہے۔ مگر عصر حاضر میں مسلمانوں کے نروس سسٹم کو توڑا جاچکا ہے، اس لیے ہمیں درد تو ہوتا ہے مگر محسوس نہیں ہوتا۔ ان معلومات کا جمع کرنا اور ان سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا ایمان کی بنیاد پر عالمی اتحاد انسانی کی بھی بنیادیں فراہم کرے گا۔

۳۔ پوری دنیا میں اسلام اور پاکستان کے خلاف جو کچھ مختلف اخبارات، رسائل و جرائد اور دیگر ذرائع ابلاغ میں نشر ہوتا ہے ان معلومات کو سائنٹیفیک انداز سے جمع کیا جائے اور پوری مسلم دنیا میں انہیں شیئر کیا جائے۔ تاکہ دشمن کہ عزائم اور منصوبہ بندیوں سے ہم آگاہ ہو کر دفاع اور پھر اقدام کرتے ہوئے مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھ سکیں۔

۴۔اہل سنت کے تعلیمی اداروں سے ہر سال بعض طلبہ نمایاں طور پر کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔ ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے جہاں مستقبل کے رہنما تیار کیے جائیں۔ اس ادارے میں ان مخصوص طلبہ کو داخلہ دیا جائے اور داخلہ کی شرط کم از کم ایم اے اور عالم کا کورس مکمل ہونا ہو۔ اس ادارے میں تفسیر ،حدیث، فقہ و قضا، عربی ادب، تقابل ادیان اور دیگر میں تخصص کروایا جائے اور ساتھ ہی پاکستان کی کسی بھی بہترین جامعہ سے پی ایچ ڈی کروایا جائے۔ چار سال میں پی ایچ ڈی اور تخصص کے ساتھ انہیں دیگر معاشرتی اورجدید سائنسی علوم کی اتنی تعلیم دے دی جائے کہ وہ قائد کی حیثیت سے زندگی کے تمام شعبہ جات میں قوم کی رہنمائی قرآن و سنت کی روشنی میں کرسکیں۔ اس تعلیمی نظام کے ساتھ ان کی فکری تربیت اور تزکیہ کا بھی خصوصی اہتمام کیا جائے۔ اگر بہترین اور جلیل القدر تجربہ کار اساتذہ کی نگرانی میں اہل سنت ایسا کوئی ادارہ قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو سات سال میں قوم کے لیے قائدین کی کافی تعداد تیار کی جاسکتی ہے۔

۵۔ اہل سنت کے مدارس میں نصاب کوعصری مسائل سے ہم آہنگ کرتے ہوئے از سر نو تشکیل دیا جائے جیسے فقہ کے ساتھ پاکستان آئین و قانون،علم الکلام کے ساتھ جدید فلسفہ اوربیوع کے ساتھ جدید بینکنگ کا نظام پڑھایا جائے۔ اسلام کو بحیثیت نظام زندگی سکھایا جائے اور محض عبادا ت اور چند معاملات کی تدریس کے علاوہ عبادات، عائلی احکام، معاملات، فقہ التعامل الاجتماعی، سیاست شرعیہ و فقہ دستوری، اسلام کا فوجداری نظام، ادب القاضی، فقہ دولی وغیرہ کو دور جدید کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے تفصیل کے ساتھ پڑھایا جائے۔ احیائے فکر کی تحریک کا مدارس میں آغاز کیا جائے جس کے تحت خاص موضوعات پر لیکچرز کا اہتمام کیا جائے اور طلبہ کی فکر و فہم میں وسعت پیدا کرتے ہوئے ان کے خاص ذہنی خول کو توڑا جائے۔

۵۔اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایک امیر یا قائد کا تصور ہے۔ جس طرح تمام مسلمانوں کے ممالک اپنی صدارت، بادشاہت اور امارت کو ترک کرنے کے لیے تیار نہیں، اسی طرح کسی تنظیم کا سربراہ بھی کسی کو قائد تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں جس کی ایک بڑی وجہ ایک دوسرے پر اعتما دکی کمی بھی ہے۔ مختار مسعود آواز دوست میں کہتے ہیں: ’’قدرت کا نظام اصولوں کے تابع ہے۔ بڑے آدمیوں کی پیدائش کے بھی تو کچھ اصول ہوں گے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بڑے آدمی انعام کے طور پر دیئے جاتے ہیں اور سزا کے طور پر روک لیے جاتے ہیں۔‘‘ اہل سنت اپنی اجتماعی غلطیوں کی وجہ سے شاید اسی سزا میں مبتلا ہے۔ تمام مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ ایسی صورتحا ل میں اگر ایک امیر کے تحت مثالی اتحاد قائم نہیں کر سکتے توکم از کم اپنی اپنی ریاستوں کو مضبوط سے مضبوط تر کرتے چلے جائیں اور باہمی طور پر اپنا دفا ع ومعیشت ایک کرتے ہوئے تمام مسلم ممالک میں بغیر ویزہ کے سفر کو آسان بنادیں۔ اسی طرح تمام اہل سنت کی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ درج ذیل باتوں پر اتفاق کر لیں:

۱۔کوئی ایک دوسرے کی تکفیر نہیں کرے گا۔
۲۔ایک دوسرے کو سنیت سے خارج نہیں کرے گا۔
۳۔ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کے کاموں میں تعاون کیا جائے گا۔
۴۔سب مل کر کافروں کو اسلام کی دعوت دیں گے اور مسلمانوں کی اصلاح کریں گے۔
۵۔کسی ایک امیر کو منتخب کرنے کے بجائے اہل فکر ودل پر مشتمل ایک ایسی مجلس تشکیل دی جائے جس کے تحت درج بالا کاموں کے علاوہ اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کار عظیم سر انجام دیا جائے۔ اس مجلس میں اپنے اپنے کام کا خلاصہ پیش کیا جائے تا کہ ایک دوسرے سے نصیحت حاصل کی جاسکے۔
۶۔قومی سطح پر ایک ایسی نظریاتی و علمی مجلس تشکیل دی جائے جو علمی مسائل میں قومی سطح پر تمام شعبہ جات میں رہنمائی کر سکے۔

اتحاد کے حوالے سے یہ چندابتدائی نوعیت کی باتیں ہیں جو ہم نے قارئین کے سامنے پیش کی ہیں۔اس کام کے آغاز کے لیے جلسوں، ریلیوں ،سیمینارز اور تمام قائدین کا مل کر بیٹھناشرط نہیں۔کوئی ایک تنظیم یا فرد بھی اس کام کا آغاز کر سکتا ہے۔ سالوں سے تخریب کا عمل جاری ہے تعمیر میں بھی کچھ وقت لگے گا اور یاد رکھیں کہ معماروں کے ہاتھ ہمیشہ زخمی ہوتے ہیں۔

Comments

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلام کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ علوم دینیہ کے علاوہ تقابل ادیان، نظریہ پاکستان اور حالات حاضرہ دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */