سی پیک قسمت بدلنے والا منصوبہ مگر؟ ارشدعلی خان

چین پاکستان اکنامک کوریڈور درحقیقت دونوں ممالک سمیت خطے کی تقدیر بدلنے والا منصوبہ ہے مگر! اس مگر کے بعد مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کی جانب سے چھوٹے اور محروم علاقوں خصوصی طور پر فاٹا سمیت خیبرپختونخوا، بلوچستان اورگلگت بلتستان کے ساتھ ناانصافی کی ایک شرمناک کہانی ہے (کہانی کا لفظ تو وفاق کی ناانصافی کے لیے چھوٹا ہے، اس کو شرمناک حقیقت کہنا زیادہ بہتر ہوگا)۔

اسلام آباد کی اسلامی یونیورسٹی میں چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے حوالے سے ایک قوم پرست سیاسی جماعت کی طلبہ تنظیم نے سیمینار کا انعقاد کیا جو پختونوں کے لیے خوش آئند ہے اور وہ لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اتنے اہم موضوع پر سیمینار منعقد کیا تاہم یہاں ایک بات گوش گزار کرنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ سیمینار کے آغاز پر ڈائس پر کمپیئرنگ کے فرائض سنبھالنے والے صاحب نے اعلان کیا کہ اب قومی ترانہ ہوگا جس کے احترام میں تمام حضرات اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوجائیں۔ دیگر معزز مہمانوں کے ساتھ ہم (اور مجھ سے کچھ اور صحافی بھی) بصد شوق و احترام اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے تاہم دکھ کی انتہا نہ رہی جب اس طلبہ تنظیم کی مدر آرگنائزیشن یعنی اُس سیاسی جماعت کا ترانہ بجایا گیا (قوم پرست جماعت کے مشران سے گزارش ہے کہ خدارا قومی ترانے اور اپنی سیاسی جماعت کے ترانے میں فر ق روا رکھا جائے اور آئندہ اس قسم کی حرکت سے اجتناب کیا جائے). سیمینار میں طلبہ تنظیم کے عہدیداروں سمیت پختونخوا اولسی تحریک کے روح رواں ڈاکٹر سید عالم محسود نے بطور خصوصی مہمان شرکت کی اور سی پیک کے حوالے سے وفاقی حکومت کی غلط بیانی اور ناانصافی پر روشنی ڈالی۔

ڈاکٹر سید عالم محسود نے جو پریزنٹیشن پیش کی، اس کے مطابق تو سی پیک کے مغربی روٹ کا سرے کوئی وجود ہی نہیں۔ یہ روٹ پلاننگ کمیشن کے نقشے پر موجود ہے نہ اس کے لیے کوئی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ 28 مئی 2015ء کو بلائے گئے کل جماعتی کانفرنس میں وزیراعظم میاں نواز شریف نے جو وعدے چھوٹے صوبوں کے ساتھ کیے تھے، ان میں ایک بھی پورا نہیں کیا گیا، جس کا ثبوت پلاننگ کمیشن کے نقشہ جات، ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل کے فیصلے اور پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام کے مختص کیے گئے بجٹ ہیں۔ سی پیک کے حوالے سے بلائی گئی پہلے کل جماعتی کانفرنس میں وزیراعظم میاں نواز شریف نے یہ وعدہ کیا تھا کہ کوریڈور کا مغربی روٹ ترجیحی بنیادوں پر سب سے پہلے مکمل کیا جائے گا۔ اس کے لیے مزید فنڈز جاری کیے جائیں گے اور سی پیک کے روٹ پر لگائے جانے والے تمام منصوبوں کو چاروں صوبوں میں مساوی تقسیم کیا جائے گا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ان شہروں کے ناموں کا بھی اعلان کیا جہاں مغربی روٹ کو گزرنا تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ سی پیک کا مغربی روٹ 15جولائی 2018ء تک مکمل کر لیا جائے گا جس پر انڈسٹریل زونز، آپٹیکل فائبر، بجلی کے منصوبے اور ریلوئے لائن بھی بچھائی جائے گی، تاہم اس حوالے سے کیے گئے تمام وعدے جھوٹے ثابت ہوئے، ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا گیا اور تین سال پہلے جو مغربی روٹ تجویز کیا گیا تھا، اس کو بھی مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت نے بدل ڈالا اور اب سی پیک کا مغربی روٹ بھی وہ نہیں جس پر اتفاق رائے کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   این آر او نہیں دونگا ڈرامے کا انجام ، دے دیا - حبیب الرحمن

اس کے بعد وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے 17مئی 2015ء کو کی گئی ایک ٹویٹ میں کہا کہ سی پیک تین روٹس یعنی مغربی روٹ، مرکزی اور مشرقی روٹ پر مشتمل ہوگا اور مغربی روٹ برہان، ایم ون سے ہوتے ہوئے پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان اور ژوب تک جائے گا۔ ٹویٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ مغربی روٹ سب سے پہلے مکمل کیا جائے گا تاہم یہاں بھی غلط بیانی سے کام لیا گیا۔ مشرقی روٹ کا نقشہ بھی مکمل ہے اور اس روٹ پر کام بھی زور و شور جاری ہے جبکہ اس کے لیے تمام بجٹ اور فنڈز بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔

سی پیک کے تحت انڈسٹریل زونز، فائبر آپٹک، بجلی کے منصوبوں اور مجوزہ ریلوے لائن پر اگلے کالموں میں بات کرنے کی کوشش کروں گا کیونکہ یہ سب الگ الگ کالموں کے متقاضی ہیں، صرف ایک کالم میں سی پیک کے تحت ان تمام منصوبوں پر بات کرنا ممکن نہیں۔

اب بات کرتے ہیں دو وفاقی وزارء کی جانب سے دیے گئے حالیہ بیانات کی۔ وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے ایک بار پھر یقین دہانی کروائی ہے کہ سی پیک کے تحت پاکستان کے تمام علاقوں کو ان کا جائز حصہ دیا جائے گا اور سب کو اس منصوبے کی تکمیل میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی منصوبے کی تکمیل کے لیے معاشی اور سیاسی استحکام اولین شرط ہے۔ دوسری وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق تو جناب احسن اقبال سے بھی ایک قدم آگے ہیں۔ ان کا فرمان ہے کہ اگر سی پیک پر تنقید نہ رکی تو یہ عظیم منصوبہ بھی کالا باغ بن جائے گا۔ چین پاکستان اکنامک کوریڈور میں زیادہ حصہ مانگنے والی سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہناتھا کہ اگر ہر کسی کی یہ خواہش ہوگی کہ سڑک اس کے علاقے سے ہوکر گزرے تو اس طرح ہم یہ منصوبہ مکمل نہیں کرسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   دینِ عمرانی کی ریاستِ مدینہ - حبیب الرحمن

دونوں صاحبان ذی وقار سے گزارش ہے کہ سی پیک کو متنازعہ ان کی حکومت اور ان کے اقدامات بنا رہے ہیں، اور چین پاکستان اکنامک کوریڈور سے یہ منصوبہ سینٹرل پنجاب اکنامک کوریڈور بنتاجا رہا ہے جس کی چھوٹی سی مثال اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ ہے جو لاہور میں زیر تکمیل ہے۔ پہلے تو اورنج لائن ٹرین کو پنجاب حکومت کا منصوبہ قرار دیاگیا اور اس حوالے سے احسن اقبال کا بیان ریکارڈ پر ہے۔ پھر کہا گیا کہ یہ منصوبہ سی پیک کاحصہ ہے۔تنقید بڑھی تو ایک بار پھر اس منصوبے کو حکومت پنجاب کا منصوبہ قرار دیا گیا، تاہم اس کے بعد چپکے سے اورنج لائن ٹرین کے لیے فنڈز سی پیک کے بجٹ سے جاری کر دیے گئے۔ اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ تو صرف ایک مثال ہے۔ اس طرح کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں جس میں مسلم لیگ ن کی وفاقی اور پنجاب حکومت نے اپنے دیگر پاکستانی بھائیوں کا جائز حق بھی دبایا اور اس فنڈ کو صرف پنجاب بلکہ وسطی پنجاب کی ترقی کے لیے استعمال کیا۔