روح کی حقیقت کیا ہے؟ علی حسین

دنیا میں بظاہر جسم کارفرما ہیں، ہاتھ ہلتے ہیں، پیر چلتے ہیں، منہ سے بولا جاتا ہے، آنکھیں دیکھتی ہیں، کانوں سے سنا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ نہیں ہے. حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں روح کارفرما ہے۔ کان بھی ہوں گے لیکن سنیں گے نہیں، آنکھیں ہوں گی لیکن دیکھیں گی نہیں، ہاتھ ہوں گے لیکن حرکت کریں گے نہیں، پیر ہوں گے لیکن چلیں گے نہیں، اعضائے بدن تو ہوں گے لیکن ہوں گے خاموش، کیونکہ اصل رو ح ہے، وہ ہوگی تو سب چیزیں حرکت میں آئیں گی، اگر نہیں ہوگی تو حرکت نہیں کریں گی۔

روح اللہ تعالیٰ کے ایک فیصلے کا نام ہے، اس سے زیادہ جانا نہیں جا سکتا۔ انسان کے پاس جو علم ہے وہ بہت ہی کم ہے بلکہ دیا ہی نہیں گیا جبکہ روح کو سمجھنے کےلیے زیادہ علم چاہیے جو مخلوق کی شان کے لائق نہیں ہے۔ حضوراکرم ﷺ مدینہ منورہ سے باہر کسی غیر آباد جگہ پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ چل رہے تھے، قریب ہی یہودی آبادی تھی، ان کے مذہبی علماء اکھٹے بیٹھے تھے، انہوں نے آپس میں کہا کہ وہ نبوت کا دعویدار آ رہا ہے، ان سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، ان میں سے جو سمجھدار تھے، انہوں نے کہا کہ مت پوچھو، ایسا نہ ہو کہ اور بےعزتی ہو جائے، لیکن اکثر نے کہا کہ نہیں پوچھنا چاہیے، پھر انہوں نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا تو آپ خاموش ہوگئے، علمائے یہود گھبرا گئے اور ایک دوسرے سے کہا کہ ہم کہتے تھے کہ مت پوچھو، اس کی وجہ یہ تھی کہ یونانی حکماء و فلاسفر روح میں کلام کرتے تھے جبکہ انبیاء علیہم السلام نہیں کرتے تھے، وہ اسے اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیتے تھے۔ کچھ دیر بعد آپﷺ نے فرمایا ”روح امر ربی ہے“۔

روح وہ امر ربی ہے جس کے حکم اور پروگرام کے ماتحت ہمارا وجود شروع ہوتا ہے۔ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ روح کا مادہ نور ہے اور یہ نور توانائی کی ایک قسم ہے، جس طرح ملائکہ نور سے پیدا ہوئے، اسی طرح روح بھی۔ سائنسی تحقیق کے مطابق روح انسان کا وہ حصہ ہے جس کا موت بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ مغربی ممالک میں نفوس کی جو تصاویر لی گئی ہیں، ان میں یہ ایک نوری ہیولا کی مانند نظر آتی ہے۔

انسان کا وجود مرکب ہے اور اس کے دوحصے ہیں، ایک وجود حیوانی ہے اور ایک وجود روحانی ہے۔ وجود حیوانی جسم اور جان پر مشتمل ہے جبکہ وجود روحانی ایک مستقل شخصیت ہے اور وہ روح ہے۔ جسم میں جان ایک کیفیت کا نام ہے، اور اس کا جسم سے علیحدہ کوئی تصور نہیں ہے، جبکہ روح کا ایک اپنا مستقل وجود ہے۔ روح آسمان سے ہے جبکہ جسم زمین سے ہے۔ روح کی بھی آنکھیں ہیں، کان ہیں، عقل ہے، جسم کی ان تینوں چیزیں کا تعلق دماغ سے ہے جبکہ روح کی ان تینوں چیزوں کا تعلق دل سے ہے۔ روح دل میں رہتی ہے، قرآن مجید کی سورۃ حج میں ارشاد ہے ”کیا یہ لوگ زمین میں سیر نہیں کرتے، پھر ان کے دل ہوتے جن سے وہ عقل لیتے یا کان جن سے وہ سنتے“، اندھی یہ آنکھیں نہیں ہوتیں بلکہ دل کی آنکھ اندھی ہو جاتی ہے. انسان ہونے کے ناطے جو چیز ہمیں دی گئی ہے، وہ روح ہے۔

جس طرح جسم کو طاقت کےلیے غذا کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ غذا زمین سے لی جاتی ہے۔ روح کو بھی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے کلام سے ملتی ہے۔ جسم اور روح کے رجحان ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جسم جہاں سے آیا ہے اسی کی طرف جھکنا چاہتا ہے جبکہ روح اللہ تعالیٰ کا قرب چاہتی ہے۔ روح ہے لیکن اس کی تفسیر قرآن مجید نے نہیں بتائی، البتہ سوچنے والوں کے لیے اشارات ہیں. سب سے پہلا اشارہ یہ ہے کہ روح کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے منسوب کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا ”میں سڑے ہوئے گارے سے خشک ہو کر کھنکھناتی ہوئی مٹی سے بشر بنانے والا ہوں، جب میں اسے تیار کر دوں اور پھر اپنی روح اس میں پھونک دوں تو اسے سجدہ کرنا“ ( یہاں پر علمائے کرام احتیاط کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی شایان شان نہیں ہے کہ اس میں سے کوئی چیز نکلے)۔

صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ دنیا کی ہر مادی چیز کے ساتھ ایک غیر مادی چیز نتھی ہوتی ہے، اس غیر مادی چیز کو جوہر کہتے ہیں، روح انسان کے مادی جسم کا جوہر ہے، یہ غیر مادی جوہر جسم سے علیحدہ ہو جائے تو مادی جسم فوت ہو جاتا ہے، گویا ہمارا مادی جسم غیر مادی جوہر پر قائم ہے، یہ جوہر نہیں رہے گا تو مادی جسم بھی نہیں رہے گا۔ روح حلال ہے اور جسم حرام، حلال نکل جائے تو جسم حرام ہو جاتا ہے، اور حرام کو تدفین کےلیے غسل بھی چاہیے اور نمازی بھی۔

زندگی کے جس جزو کو ہم حیات کہتے ہیں، امام غزالیؒ نے اس کا نام روح حیوانی رکھا۔ جس جزو کو ہم نفس کہتے ہیں، آپؒ اس کو روح انسانی کہتے ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ چونکہ روح حیوانی کا سفلی اشیاء سے تعلق ہے، اس لیے علم طب میں اس کی وضاحت موجود ہے اور اس کے مزاج کو اعتدال پر رکھنے کےلیے علاج مقرر ہیں تاکہ بیماریوں سے نجات مل سکے۔ اس کے برعکس روح انسانی علوی ہے جو قلب کی حقیقت سے تعلق رکھتی ہے۔

کچھ لوگوں نے روح کے متعلق یہ فلسفہ بیان کیا کہ یہ ایک حرارت غریزی (خون کی گردش سےگرمی پیدا ہونا) ہے، اور اس حرارت غریزی کی وجہ سے انسان زندہ ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک قوت نامیہ (بڑھنے والی) ہے۔ ہندو شاعر برج نارائن چکبست اس نے اس فلسفے کو یوں بیان کیا ہے کہ
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انھی اجزاء کا پریشاں ہونا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”اے انسان جو تیرے قریب چیز ہے، اس سے محبت کرتا ہے (یعنی دنیا سے)، اور آخر ت چونکہ تمھیں نظر نہیں آتی، اس لیے تو اس کو چھوڑ دیتا ہے۔ اے انسان وہ وقت یاد رکھ جب تیری روح نکلنے کےلیے تیر ی پسلی تک پہنچ جائے گی۔“

نیویارک میں ڈاکٹر ایل جان نے چند ڈاکٹروں کو اپنے ساتھ ملا کر بارہ سو لوگوں پر تجربات کیے اور یہ نتائج اخذ کیے کہ جیسے ہی انسان فوت ہوتا ہے، اس کا وزن 67 گرام کم ہو جاتا ہے، اسی قسم کے تجربات ڈاکٹر ابراہام نے لاس اینجلس میں کیے، اور یہ نتائج اخذ کیے کہ روح کا وزن 21 گرام ہے، لیکن ان تجربات کے باوجود بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اصل میں روح کا وزن کتنا ہے۔ سائنس کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ روح کہاں چلی جاتی ہے، کائنات میں گردش کرتی ہے یا کوئی نیا بدن، کوئی نیا جسم تلاش کر لیتی ہے. سائنس اس کا ابھی تک کوئی تسلی بخش جواب تلاش نہیں کر سکی۔

قرآنی تعلیمات سے پتا چلتا ہے کہ روحیں اس وقت بھی موجود تھیں، جب انسانی جسم کی تخلیق نہیں ہوئی تھی۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی تو تمام انسانیت کی روحیں حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں داخل کر دی گئیں۔ یہ جنت کے زمانے کی بات ہے، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ”ہم نےحکم دیا کہ تم سب یہاں اتر جاؤ۔ پھر اگر تمہارے پاس میر ی طر ف سے کوئی ہدایت آئے، تو جو میری ہدایت کی اتباع کرے گا۔ نہ ہوگا ان کے لیے کوئی خوف اور نہ کوئی غم۔“ (سورۃالبقرہ آیت 38)۔ یہ بھی کہاجاتا ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا تو ان کی ہتھیلی پر چھوٹے چھوٹے ذرے رکھے گئے، وہ ان کی مٹھی میں آ گئے، ان میں کچھ کالے تھے، کچھ سفید تھے، کچھ سرخ تھے، انہیں کہا گیا کہ یہ تمہاری آل اولاد ہے۔ سید سرفراز شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے روحوں کو تخلیق کرنے کے بعد اُس آسمان پر اتارا جہاں فرشتے رہتے ہیں، وہاں پر انہیں فرشتوں کے نور میں غسل دیاگیا اور اس کا نام روح پاکیزہ رکھا گیا۔ وہاں سے پھر انہیں تیسرے آسمان پر اتارا گیا، اور ایک بار پھر غسل دیا گیا جس کے بعد اس کا نام روح متحرکہ رکھا گیا۔

دنیا میں روانگی کے وقت روح کو ایک ٹاسک دیا جاتا ہے کہ جب تک یہ زمین پر ہے، اپنے خالق کی طرف رجوع رکھے گی۔ دنیا میں آنے اور بلوغت کی حد تک پہنچنے کے بعد روح اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع تو رکھتی ہے لیکن اس طرح نہیں جس طرح رجوع رکھنے کا حق ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس سرسری رجوع کو بھی قبول کرتا ہے، اسے رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ اگر کوئی روح ہمیشہ اپنے خالق سے رجوع رکھتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنا علم عطا فرماتا ہے، پھر اسے دین کی سمجھ بھی آجاتی ہے، یہی وہ مقام ہوتا ہے جس کے بارے میں حضوراکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ”مؤمن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور کی مدد سے دیکھتا ہے (جامع ترمذی، حدیث نمبر 3052)۔“ مزید قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے ”(اے نوع انسانی) اللہ تبارک و تعالیٰ کی اپنے اوپر مہربانی یاد کرو اور اس وعدہ پر غور کر جس پر تم نے پابند رہنے کا عہد کیا۔ اس وقت تم سب نے یہ کہا تھا کہ ہم نے اس وعدہ کو اچھی طرح سن لیا اور اطاعت کی۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو (اب تم اس وعدہ کے مطابق اپنے رب کے فرائض کو پورا کرو) بیشک اللہ تعالیٰ تمھارے دلوں کے اندرونی راز بھی خوب اچھی طرح جانتا ہے۔“ (سورۃ المائدہ آیت 7)

جب شکم مادر میں بچے کی تخلیق شروع ہوتی ہے، اور دل وجود میں آتا ہے تو اس وقت روح کو آسمان سے روانہ کر دیا جاتا ہے، اور ایک فرشتہ اس روح کو دل کے عین وسط میں رکھ دیتا ہے اور روح وہاں قید ہو جاتی ہے۔ چنانچہ حضوراکرمﷺ نے فرمایا ”ماں کے پیٹ میں بچے کے آغاز کو جب 40 دن ہوتے ہیں، تو اس میں روح داخل ہوتی ہے۔“ پیدائش کے بعد حالات اعتقادات اور اعمال کے اثرات کے نتیجہ میں یہی فطری روح، نفس کی شکل اختیار کر لیتی ہے جیسے بیج سے پودا اگتا ہے۔ ہمارا مستقبل ہماری نفس کی اس حالت پر منحصر ہے جس حالت میں اس دنیا کو ہم چھوڑتے ہیں۔ سائنس کہتی ہے کہ انسان جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو ایک لوتھڑے کی مانند ہوتا ہے، اچانک وہ سانس لیتا ہے اور اس میں زندگی آجاتی ہے۔

جب انسان پیدا ہوتا ہے تو یادداشت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ انسان خواہ کہیں کا ہو، کسی بھی زمانہ کا ہو، اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات کا احساس ضرور ہوتا ہے، یہ اور بات ہے کہ بسا اوقات ماحول کے زیراثر وہ اس کا پورا ادراک کرنے سےقاصر ہوتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے ہم کچھ لمحوں کے لیے ملتے ہیں، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم پہلے ملے ہوئے ہیں، چند سیکنڈ میں ان کے ساتھ ہماری گہری وابستگی ہوجاتی ہے جبکہ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے ساتھ پوری زندگی گزر جاتی ہے لیکن ان کے ساتھ دوستی نہیں ہوتی اور کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو بہت زبردست ہوتے ہیں لیکن ہمیں انہیں دیکھتے ہی چڑ ہو جاتی ہے اور بغیر کسی وجہ کے ان کے ساتھ نفرت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے روحوں کوگروپوں کی شکل میں پیدا کیا“، کسی گروپ میں بیس لوگ تھے، کسی میں تیس، کسی میں دو، کسی میں سو تھے، وہ گروپس صدیوں ایک ساتھ رہے ہیں، صدیوں ایک ساتھ رہنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کر دیا، ان میں کوئی آسٹریلیا میں پیدا ہوا، کوئی بھارت میں پیدا ہوا، کوئی پاکستان میں پیدا ہوا، پھر ہوتا یہ ہے کہ جب ان کی کہیں اچانک ملاقات ہو جاتی ہے تو کشش محسوس ہوتی ہے، اور وہ کشش دوستی میں منتقل ہو جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے روح میں غلط اور صحیح کی تمیز شروع سے رکھی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے ”قسم ہے نفس کی اور اس کی جس نے اسے سنوارا، اس کو صحیح اور غلط کی تمیز عطا کی، بےشک اس نے فلاح پائی جس نے (اس کو نیک کاموں سے) سنوارا۔ اور یقینا ناکام ہوگیا جس نے خراب کیا۔“ (سورۃ الشمس آیت 7 سے10)۔ اصل میں روح اللہ تعالیٰ کا ایک عطیہ ہے جس کا زندگی کے ساتھ تعلق ہے جب تک وہ عطیہ انسان کو نہیں ملتا، اس وقت نہ انسان کا شعور متحرک ہوتا ہے اور نہ جسم۔ جب روح کو مطمئن نہیں کیا جاتا، اس وقت تک ہماری زندگی مکمل نہیں ہوتی، اس وقت تک ہم ایک اچھی اور خوبصورت زندگی نہیں گزار سکتے۔ ہر وہ کام جو مثبت ہے، اگر اس کو کیا جائے تو روح مطمئن ہوگی اور ہر وہ کام جو منفی ہے، اس کو جب بھی کیا جائےگا، روح بےچین ہو جائےگی۔ مثبت کام وہ ہوتا ہے جو دوسرے آدمی کو تکلیف نہ دے بلکہ خوشی دے جبکہ منفی کام وہ ہوتا ہے یا ہر وہ چیز جو کسی کو تکلیف دے، منفی ہوتا ہے۔

روح کی زندگی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ روح جب پہلے عالم حیات میں آتی ہے، پھر عالم برزخ میں اور پھر عالم آخرت میں جائے گی۔ عالم ارواح میں روحوں نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم تیری عبادت کریں گے، اللہ تعالیٰ نے اس وعدے کے آزمانے کے لیے دنیا میں بھیجا کہ دیکھا جائے کون وعدہ پور ا کرتی ہے، اور کون نہیں ۔

روح قبض ہونے کا عمل اتنا تکلیف دہ نہیں ہوتا، ہلکی سنسناہٹ ہوتی ہے، اس کا آغاز پاؤں کے انگوٹھےسے ہوتا ہے۔ انسانی ذہن کو یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے اس کا جسم رفتہ فتہ فضا میں بلند ہو رہا ہے اور چاروں طرف سناٹا پھیل جاتا ہے۔ روح قبض ہونے سے قبل جب نزع کا عالم ہوتا ہے، اس میں کچھ لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ روح جب کھینچی جاتی ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے انسان کانٹےدار جھاڑیوں میں کھینچا چلا جاتا ہو لیکن موت کے وقت انسان کے چیخنے چلانے کی قوتیں جواب دے چکی ہوتی ہیں، اس لیے وہ فریاد نہیں کر سکتا۔ حضرت امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ اگر کافر دنیا میں نیک اعمال کرتا رہا تو اس پر قبض روح کا مرحلہ آسان رہتا ہے تاکہ اس کی نیکی کا بدلہ اس کو مل جائے، اور اللہ تعالیٰ پر آخرت میں اس کا کوئی حق نہ رہ جائے۔ کافر ہو، مشرک ہو، بدمذہب ہو یا گناہگار ہو، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا قانون ہے، ان کی روح تکلیف کے ساتھ ہی نکلے گی، لیکن نیک کے معاملے میں دو طرح کی روایات ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس نیک بندے کے لیے جو درجات مقدر فرمائے ہوئے ہیں، اگر وہ اپنے ذاتی اعمال کے ذریعے ان تک پہنچ چکا ہوتا ہے، تو پھر اللہ تعالیٰ اسے موت کے وقت انتہائی آسانی عطا فرماتا ہے، اور اس کی روح ایسے نکالی جاتی ہے جیسے آٹے میں سے بال نکالا جاتا ہے، نیک آدمی کے اعمال چاہے کتنے ہی کثیر ہوں، لیکن اللہ تعالیٰ نے جو اس کے لیے درجات مقدر فرمائے تھے، وہاں تک اس کی رسائی نہیں ہو پا رہی، تو پھر اس نیک آدمی کو بھی موت میں تکلیف دی جاتی ہے، اور وہ اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے، اور اس کی اس تکلیف پر صبر کرنا اور اس تکلیف میں مبتلا ہونا اس کو ان درجات تک پہنچا دیتا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر فرمائے ہوتے ہیں۔

حوالہ جات:
(ماوریٰ، سلطان بشیر محمود، فقیر نگری، سید سرفراز اے شاہ، کالمزجاوید چوہدری، لیکچرز: پیر سید نصیرالدین نصیر اور ڈاکٹر اسرار احمد، خطاب: مولانا مفتی محمد زرولی خان، پروگرام احکام ِشریعت: مفتی محمد اکمل قادری)

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • جسم اور روح ۔۔۔!

    اَللَّـهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِـهَا وَالَّتِىْ لَمْ تَمُتْ فِىْ مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِىْ قَضٰى عَلَيْـهَا الْمَوْتَ وَيُـرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّـقَوْمٍ يَّتَفَكَّـرُوْنَ (42)
    سورۃ الزمر
    ترجمہ:اللہ وہ ہے جو دہ طرح روحوں کو قبض کرتا ہے۔ موت کے وقت اور نیند میں۔ وہ مرنے والوں کے روحوں کو اپنے ہاں روک لیتا ہے۔ لیکن باقی ارواح کو ایک خاص معیاد کیلئے ان کے اجسام میں دوبارہ بھیج دیتا ہے۔اس حقیقت میں اہل فکر کیلئے کچھ اسباق موجود ہیں۔
    پادری لیڈ بٹر لکھتا ہے کہ
    تم جسم نہیں ہو یہ تمہاری قیام گاہ ہے۔ اجسام محض خول ہیں۔ جنہیں ہم موت کے وقت یوں ہی پرے پھینک دیتے ہیں جس طرح کے کپڑے تبدیل کئے جاتے ہیں۔
    ڈاکٹر الیکسز کیرل کا قول ہے کہ
    انسان اپنے جسم سے اعظیم تر ہے۔ اس پیمانہ خاکی سے باہر جھلک رہا ہے۔
    ڈاکٹر کرنگٹن کا خیال ہے کہ
    وہ ایک غیر مرئی مقناطیسی روشنی ہے۔ جو انسانی جسم سے خارج ہوتی ہے۔ یہ یا تو دوسروں کو اپنی طرف کھینچتی ہے یا پرے دھکیل دیتی ہے۔
    ہندوؤں کی مقدس کتاب کیتا کہتا ہے کہ
    انسان کا حقیقی جوہر اتما (روح یا نفس ) ہے جو ماورا ئے زمان و مکان ہے۔ جو شخص حواس اور عقل کو ضبط میں لانے کے بعد خواہشات کو ترک کرتا ہے وہ تمام دکھوں سے رہائی پالیتا ہے۔
    قرآن مجید میں اللہ تعالی 11 قسمیں کھا کر نفس انسانی یا روح کی اہمیت کا ذکر کرتا ہے
    وَنَفْسٍ وَّمَا سَوَّاهَا (7)اور جان کی اور اس کی جس نے اس کو درست کیا۔
    فَاَلْهَـمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوَاهَا (8)پھر اس کو اس کی بدی اور نیکی سمجھائی۔
    قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا (9)بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اپنی روح کو پاک کر لیا۔
    وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا (10)اور بے شک وہ غارت ہوا جس نے اس کو آلودہ کر لیا۔
    سنسکرت کی ایک دعا میں روح کے بارے میں کچھ اس طرح بیان موجود ہے۔
    میری روح سورج سے زیادہ روشن، برف سے زیادہ پاکیزہ، ایتھر سے زیادہ لطیف ہے۔ یہ روح " میں " ہوں اور " میں " ہی یہی روح ہوں ۔
    حضرت مسیح علیہ السلام نے روح کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ
    "کیا تمہیں علم نہیں کہ آسمان کی بادشاہت تمہارے اندر ہے"۔

    ان تمام اقوال سے صاف ظاہر ہے کہ انسانی جسم دو حصوں پر مشتمل ہے۔ انسانی جسم کا ایک حصہ حیوانی ہے جبکہ دوسرا حصہ روحانی ہے۔ حیوانی حصہ تغیر پذیر ہے جبکہ روحانی حصہ غیر تغیر پذیر ہے۔
    انسان کی زیادہ تر توجہ حیوانی حصہ کی تزئین و آرائش اور خوبصورتی پر مرکوز رہتی ہے۔ انسان اپنی شخصیت کے اس حصے کو خوبصورت بنانے میں لگا ہوا ہے جو فناہ ہونیوالی ہے۔ اگر انسان اپنے شخصیت کے غیر فانی حصے پر اپنی توجہ مرکوز کرکے اس کا خیال رکھیں تو وہ انسانی شخصیت کبھی مر نہیں سکتی۔ اصل انسان تو وہ روح ہے جو اس جسم کے تمام افعال کو کنٹرول کر تا ہے۔ ہر وہ انسان کامیابیوں کی بلندیوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے جو اپنے جسم کے روحانی حصہ کی تزئین و آرائش اور نشونما کے اسرار و رموز کا ادراک رکھتا ہو۔
    حضوراکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ”مؤمن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور کی مدد سے دیکھتا ہے (جامع ترمذی، حدیث نمبر 3052)

    تحریر: میر افضل خان طوری

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com