سی پیک معاہدہ: امکانات اور خدشات - حافظ محمد زبیر

سی پیک (China Pakistan Economic Coredore) پر بہت سے زاویوں سے لکھا جا رہا ہے مثلا تحقیقی مقالہ جات میں معاشی پہلوؤں سے یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ سی پیک معاہدہ کی صورت میں پاکستانیوں کو معاشی فوائد کون سے حاصل ہوں گے اور معاشی نقصانات کیا کیا برداشت کرنے پڑیں گے۔ اس موضوع پر تو زاہد صدیق مغل صاحب بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں، ہمیں سر دست سی پیک (CPEC) کے مذہبی فوائد اور دینی نقصانات کی بات کرنی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ فوائد اور نقصانات متعین نہیں ہیں بلکہ امکانات اور خدشات کے دائرے کی چیزیں ہیں۔

سی پیک معاہدے سے سب سے بڑا فائدہ جو مذہبی طبقات حاصل کر سکتے ہیں، وہ چینیوں کو اسلام کی دعوت دینے کا موقع ہے۔ چینی کوئی اسی طرح سے نظریاتی قوم نہیں ہیں جیسا کہ روسی اور امریکی۔ ان کی اکثریت بہترین ورکرز اور انجیںیئرز کی سی ہے کہ جن کے پاس زندگی گزارنے کا کوئی نظریہ اور آئیڈیالوجی موجود نہیں ہے۔ ایسے میں اگر انہیں اسلام کی دعوت دی جائے تو بہت امکانات ہیں کہ ان کی بڑی تعداد اسلام میں داخل ہو جائے۔ اب ہمیں دعوت کی اسٹریٹیجی بھی تھوڑی بدلنی ہو گی کہ ہم دعوت میں افراد کے ساتھ قوموں کو بھی ٹارگٹ کریں۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قبیلے مسلمان ہوتے تھے تو آج قوموں کے اسلام لانے پر محنت کی جائے۔

ایسی قوموں کا انتخاب کیا جائے کہ جن میں اسلام لانے کے امکانات زیادہ ہوں، ان قوموں کے خصائص وعادات پر تحقیقی مقالات شائع کیے جائیں، ان کی زبانوں کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی جائے، اور ان کے سامنے منظم انداز میں حکمت کے ساتھ اسلام کی دعوت پیش کی جائے۔ اب اسی بات کو لے لیں کہ آج اگر چائنیز یہ کہیں کہ ہم مسلمان ہوتے ہیں لیکن اپنا معاشی نظام سوشلزم نہیں چھوڑیں گے تو دنیائے اسلام میں کتنے ایسے حکیم علماء موجود ہیں جو ان کے اتنے پر بھی راضی ہو جائیں، یہ سوچ کر کہ محض کلمہ پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے برابر نہیں ہیں، یا یہ سوچ کر کہ ان کی آئندہ نسلیں اسلام میں پوری داخل ہو جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچوں کی جدوجہد -گہرام اسلم بلوچ

یہ تو ایک امکان کی بات ہو گی اور جہاں تک خدشات کی بات ہے تو ایک بڑا خدشہ یہ ہے کہ چائنہ کے آنے سے اس خطے میں لادینیت اور بے حیائی کو فروغ ملے گا کہ ان کی زندگی کا مقصد بس دنیا اور دولت ہے۔ میں نے کسی سے سنا ہے کہ چائنہ نے اپنے لوگوں کے لیے یہاں انویسٹمنٹ کے حوالے سے جو ڈاکومنٹ تیار کر رکھا ہے، اس میں انرجی، انفرا اسٹرکچر وغیرہ سب پر دس دس صفحات ہیں لیکن ٹوور ازم پر چھتیس صفحات ہیں۔ اور دنیا میں ٹوور ازم کہیں بھی شراب اور عورت کے بغیر کامیاب انویسٹمنٹ شمار نہیں ہوتا۔ پھر مساج سینٹرز کھلیں گے اور رد عمل میں لال مسجدیں وجود میں آئیں گے۔ تو ایسے میں ہمارے مذہبی طبقات اور جماعتوں کو پہلے ہی سی بیٹھ کر اس معاہدے کے امکانات اور خدشات کی روشنی میں کوئی حکمت عملی ترتیب دے لینی چاہیے۔