داڑھی (2): سنت کی سائنسی تفہیم - حافظ یوسف سراج

داڑھی کے ضمن میں بات سنت پر آن ٹھہری ہے۔سو بہتر ہوگا کہ پہلے ہم خود سنت کی سائنسی ومنطقی تفہیم کرلیں۔ کہ چیزو ں کی اصلیت نہ جاننے سے بھی اخذِ نتائج کے لیے روشنی نہیں ملتی۔ اس سردار سائنسدان کی طرح کہ جس نے تجربے کی میز پر پڑے مینڈک کی ایک ٹانگ کاٹ کے سیٹی بجائی تو مینڈک اچھل پڑا۔ سردار نے دوسری ٹانگ کاٹ کے پھر سیٹی بجائی تو بھلا بیچارہ کس سہارے پر اچھلتا؟ چنانچہ سردار نے بنی نوع انسان کے علم میں اضافہ فرما تے ہوئے لکھا کہ مینڈک کی دونوں ٹانگیں کاٹ دیں تو وہ بہرا ہوجاتا ہے۔ اتنا کہ سیٹی کی تیز آواز بھی نہیں سن سکتا۔ چنانچہ یہ جان لینا بہتر ہوگا کہ آیا کوئی مینڈک پاؤں کے بغیر اچھل بھی سکتاہے یا نہیں؟

سنت رسول کی ادا، نوا اور رضا کو کہتے ہیں۔ اصلاً ایک انسان کے ذریعے انسانیت کے لیے یہ رب کی انمول عطا ہوتی ہے۔ روشنی میں پڑے ہیرے کے مختلف شیڈز کی طرح سنت بھی کئی حیثیتوں سے سامنے آتی ہے۔ یہ البتہ ہمیشہ یاد رہے کہ دین سنت ہی پر منحصر ہوتا ہے۔ اور سنت ہی دراصل انسانوں کے پاس خد اور اس کی رضا تک پہنچنے کی پہلی اور آخری سیڑھی ہے۔ آسمان کی طرف اس شاہراہ کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں جاتا۔ گو قرآن اور رسول کے فرمان سے دلائل چن کے سنت کی آئینی و شرعی اور انسانی و رومانی حیثیت پر سکالرز نے متعدد تحقیقی کتب لکھ دیں۔ البتہ خدا کے نزدیک سنت کا مقام جاننے کو قرآن کا ایک موقع ہی کافی ہے۔

قرآنِ مجیدمیں سیدنا موسیٰ کی فرعون سے کشمکش دیکھیں تو اس میں ہمیں نیل کے پانیوں میں فرعونِ رعمسس کے ڈوبنے کاایک منظر بھی ملتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اپنی خدائی سے یوٹرن لے کر قرآن کے بقول فرعون پکار اٹھتاہے: ’’میں اسی ہارون و موسیٰ والے رب پر ایمان لاتاہوں۔‘‘ یہ تومعلوم کہ اللہ تعالیٰ نے اس گرگِ بارہ دیدہ کی وقتِ آخر پرہیز گاری کوان الفاظ میں مسترد فرمادیاکہ (ترجمہ) ’’یہ تجھے اب یاد آیا جبکہ پہلے تو نافرمانی پر تلا رہا۔‘‘ سنت کی اہمیت سمجھنے کو یہ بڑا دلچسپ اور عبرت انگیز مقام ہے۔ وہ اس اعتبارسے کہ سیدنا موسٰی کی اس سے پہلے فرعون سے جو بھی بات ہوئی، وہ اپنے ذاتی کلام سے ہوئی تھی۔ یعنی تورات اس کے کہیں بعد نزول فرماتی ہے۔

تو اندازہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ایک پیغمبر کی بات ٹھکرانے والے کا یعنی سنت کے تارک کا ایمان تک قبول نہیں فرماتا۔ کیااب بھی سنت کی اہمیت ہم پر واضح نہیں ہوپاتی۔ یقیناً قرآن میں جناب موسیٰ کی یہ بات ہماری ہی عبرت کے لیے کہی گئی ہے۔ پھر غور کیجیے کہ وہ الفاظ قرآن نہیں، نبی کاکلام یعنی سنت تھے، جن کے ذریعے پیغمبر نے ہمیں بتایاکہ تمھارا ایک رب ہے اور یہ اس رب کا قرآن ہے۔ یعنی جب ہم نے نبی کی اس بات یعنی سنت کو مستند مانا تو تبھی ہم نے قرآن کو قرآن مانا اور تبھی ایمان کوایمان جانا۔ یہ آج قرآن کی وفا کی آڑ میں سنت پر رکیک حملے کر رہے ہیں دراصل یہ سردار سائنسدان کی طرح نتائج اخذ کرنے والے ہیں۔ اور وہ ساری آیات جن میں سنت کی حیثیت کی تعلیم دی گئی یہ ان سے اغماض برتنے والے ہیں۔ فرمایا، نبی کے مقابل کسی کی بات مان کے اعمال برباد نہ کرو۔ کہا حکمِ رسول ٹھکراؤ گے پھر لرزاں بھی رہو کہ کہیںتم پر دنیا فتنہ میں اور آخرت میں عذابِ الیم نہ ٹوٹ پڑے۔ فرمایا رسول جو بھی دیں، لے لو اور جس سے روکیں رک جاؤ۔

تو کوئی دیکھتا نہیں کہ ’’جو بھی‘‘ کہہ کے خدا نے پیغمبرکی ذات اور بات کو کیا اتھارٹی اورتحفظ دے دیا ہے۔ آیا پیغمبر بھی سنت کی اتھارٹی ہی سمجھے تھے یا ہمیں غلطی لگ رہی ہے؟ فرمایا سبھی جنت جائیں گے سوائے جنت جانے کا انکار کر نے والوں کے۔ پوچھا، بھلا انکار کون کرے گا؟ فرمایا جو میری بات مانے، وہ جنت کا مشتاق ہوا اور جسے میرا طریقہ تونا پسند ہوا، وہ گویا جنت جانے سے انکاری ہوگیا۔ فرمایا مجھے قرآن دیا گیااور اس کیساتھ اسی جیسی اک اور چیز بھی۔ یہ جاننا اب آپ کا کام ہے کہ’ قرآن جیسی‘ چیزکیا ہوگی اور اس کی اہمیت کیسی رہنی چاہیے؟

دیہاتی آکے رسولِ رحمت سے ملتمس ہوا، میرا بیٹا خلافِ عصمت غلطی کر بیٹھا۔ بکریاں دے کے صلح تو میں نے کرلی پر آپ فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کردیجیے۔ فرمایا کتاب اللہ ہی کے مطابق فیصلہ کروں گا، پھر جو فیصلہ ہوا۔ وہ کتاب اللہ میں کہیں مذکور اور کسی آیت سے ماخوذ نہ تھا۔ یعنی سنت کو یہاں آپ نے کتاب اللہ قرار دیا۔ یہ اور سنت کے بغیرتو قرآن پر عمل تک ممکن نہیں۔ سیدہ عائشہ نے سیرت وسنت پوچھنے والے کو بتایا آپ کی سنت واخلاق قرآن ہے، کیا تم پڑھتے نہیں؟ قرآن فرماتا ہے آپ خلق عظیم پر فائز ہیں۔ یہ سنت کی پاکیزگی پر قرآن کی اک اور گواہی ہے۔

ذرا غور فرمائیے قرآن کہتا ہے نماز پڑھو، سنت کہتی ہے طریقہ مجھ سے سیکھ لو۔ قرآن کہتا ہے حج فرض ہے، سنت کہتی ہے، آؤ میں تمھیں مناسکِ حج سکھا دوں۔ قرآن کہتا ہے زکوۃ دو، سنت کہتی ہے طریقۂ عمل مجھ سے لے لو۔ قرآن ہمیں نماز کی تفصیلات نہیں بتاتاہے اور نہ رکعتیں۔ نہ مناسکِ حج اورنہ زکوٰۃ کی تفصیلات۔ یعنی قرآن اور دین پر عمل ہمیں سنت سکھاتی ہے۔ سنت ہی کو ہمارے لیے نمونہ کامل بناکر بھیجا گیا۔

امام مالک نے فرمایا سنت سفینۂ نوح ہے۔ جو سوار ہوا بچا، جو رہا غرق ہوگیا۔ امام اوزاعی کو خواب میں اشارہ ہوا۔ ساری نیکیاں اپنی جگہ، پر ساتھ سنت پر مرنے کی استدعابھی کیا کرو۔ فضیل بن عیاض نے کہا عمل جتنا بھی پیارا لگے، سنت کے سانچے میں نہ ڈھلاہو توخدا کی جناب میں پہچانا ہی نہیں جاتا۔ سفیان ثوری کہتے ہیں علم ہے ہی آثار یعنی سنت کا نام۔ چاروں ائمہ کے یہ اقوال تو ضرب المثل ہو گئے کہ ہماری بات حکمِ رسول کے خلاف لگے تو اٹھاکے دیوار پر دے مارو، اور کبھی مت مانو۔ آخر کیوں نہ کہتے کہ جب رسول یہ فرماچکے۔ جوبات ہمارے طریقے سے میچ نہ کرے، سنو وہ مردود و مسترد ہے۔ ایوب سختیانی کہتے ہیں جو کہے چھوڑو سنت کو، بس قرآن بیان کرو، جان لو وہ گمراہ ہے۔

سنیے رسول دراصل زمیں پر خد اکے سفیر ہوتے ہیں۔ سفیر کا پروٹوکول اور حیثیت آپ بخوبی جانتے ہیں۔ اور رسول کے لیے اتنا جان لینا ہی کافی ہو گا کہ یہ سب ریاستوں کے شہنشاہ اور سب طاقتوں کے فرمان روا کی مملکتِ دین و ایمان کے سفیر ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان کا پروٹوکول یہ ہے کہ ان کی بات حرفِ آخر مانی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ سنت کے مقابل عمر جیسی شخصیت بھی نہ ٹھہرسکی۔ ازروئے حکمت حج تمتع پر روک لگائی تو ابن عمر نے اسی حج کا احرام باندھ لیا۔ پوچھنے والے سے کہا باپ کا نہیں کلمہ نبی کا پڑھا ہے۔ انھی کے بیٹے نے جب کہا ہم اپنی خواتین کو مسجد نہ آنے دیں گے، تو بیٹے سے برملا کہا تم کون ہوتے ہو حکمِ رسول کی مخالفت کرنے والے؟ پھر عمر بھر بیٹے سے کلام نہ کیا۔ عبداللہ بن مغفل نے بھی اسی طرح ایک سنت پر بات کرنے والے بیٹے سے زندگی بھر کلام نہ فرمایا۔ عبداللہ بن عباسؓ فرماتے مجھے خدشہ ہے کہ کہیںآسمان تم پر پتھر نہ برسانے لگے کہ میں کہتا ہوں رسول یہ فرماتے تھے اور تم کہتے ہوفلاں فلاں یوں کہتے ہیں۔

تو اے میرے بھائی یہ ہے سنت اور یہ ہیں اصحابِ سنت۔ خدارا مت فرمائیے کہ کوئی سنت کمتر ہوتی اور کوئی سنت فساد اور شر بھی پیدا کرتی ہے۔ کہنے والے بڑے ہوں گے، مگر ہمارے لیے توبڑے رسول ہیں نا؟ ان سے بڑا تومخلوق میں کوئی نہیں۔ اب اس سے کسی کا دل دکھے تو وہ مجھے معافی دے دے، مگرادھر بھی تو حضور کا دل دکھتا ہے۔ محبانِ رسول کادل دکھتاہے۔ رہی بات کہ داڑھی سنت ہے یا نہیں تویہ جاننے سے پہلے ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ ایسا فیصلہ کرنے کا مجاز کون ہے؟ تو آگے بڑھتے ہیں۔ ان شااللہ

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.