عورت ہی کیوں؟ رضوان اللہ خان

شروع رمضان کے دن تھے، ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی، حال چال پوچھنے کے بعد معلوم ہوا جناب نے 5 ماہ قبل ہی شادی کی ہے۔ یہ ان دوستوں میں سے ایک تھا جسے ماڈلنگ کی دنیا میں ہر حد تک جانا منظور تھا۔ وہ عیاش قسم کا خوبصورت نوجوان تھا۔ پردے میں ملبوس لڑکیوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا اور جب بھی کبھی بات شادی کی ہوتی تو کہتا تھا کہ ”کبھی بھی کسی ایسی لڑکی سے شادی نہ کروں گا جس نے کسی یونیورسٹی میں قدم بھی رکھا ہو۔“ وہ ایسا اس لیے کہتا تھا کہ شاذ ہی کوئی لڑکی ایسی بچتی ہے جس کا لڑکوں میں اٹھنا بیٹھنا نہ ہو۔ میں اس کی بات پر ہنستا اور کہا کرتا کہ ”پردہ کرنے والی لڑکیاں تمھیں زہر لگتی ہیں (گو کہ اس کی اس بات سے مجھے شدید نفرت تھی) جبکہ یونیورسٹی جانے والی سے شادی نہیں کرنی، سیدھی طرح کیوں نہیں کہتے کہ کنوارہ رہنا ہے“۔

اب جو ملاقات ہوئی تو چھیڑتے ہوئے پوچھا ”بھائی صاحب بیگم صاحبہ کتنا پڑھی ہوئیں؟“ جواب ملا ”ایم بی اے“ میں نے قہقہ لگایا اور کہا ”سر آپ کو تو پڑھی لکھی لڑکی سے شادی نہیں کرنی تھی؟“ اس نے نہایت اطمینان سے مسکراتے ہوئے جواب دیا ”یار وقت واقعی بہت کچھ سکھا دیتا ہے، جانتا ہے میں نے جس لڑکی سے شادی کی ہے، وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی سب سے کرپٹ لڑکی مانی جاتی تھی“۔ میں حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا، بھلا کوئی کیسے ایسی لڑکی سے شادی کر سکتا ہے اور پھر کیسے اتنے اطمینان سے اس بات کا ذکر کر سکتا ہے۔

اس نے بات جاری رکھی ”ایم بی اے کے بعد وہ آگے پڑھنا چاہتی تھی، اور گھر والے اس کا رشتہ کرنا چاہتے تھے، میری بیوی نے مجھے خود بتایا کہ کیسے وہ غصے میں فیس بک پر بیٹھی تو پاکستان کے ایک معروف عالم دین کے بیان میں اس کی سہیلی نے اسے ٹیگ کر رکھا تھا، وہ مولویوں سے ایسے ہی نفرت کرتی تھی جیسا کہ میں کیا کرتا تھا، نہ جانے اس کے دل میں کیا خیال آیا، اس نے بیان سننا شروع کیا اور اس 3 منٹ اور 20 سیکنڈز کے کلپ نے اس کی زندگی بدل دی۔“

اب مجھے اس کی بات کچھ کچھ سمجھ آنے لگی، لیکن ماضی کا خوبصورت عیاش جو کہ اب ہلکی سی داڑھی کے ساتھ بہت ہی معصوم اور پیارا لگ رہا تھا، بولے چلا جا رہا تھا اور کہہ رہا تھا ”اس کلپ کو سننے کے بعد اس نے اپنی ماں سے کہا کہ میں آئندہ جینز اور ٹاپ نہیں پہنوں گی، مجھے آج ہی شلوار قیمص دلوائیں، ماں حیران تھی اور کہا پاگلوں والی باتیں کیوں کر رہی ہو؟ پر اس نے کوئی تفصیل بیان نہ کی اور اپنی بات دہرائی، اب وہ شلوار قمیص پہننا شروع ہوئی اور روز اس عالمِ دین کے بیانات یوٹیوب پر سننے لگی. پھر ایک دن اس نے مکمل پردہ کرنے کا فیصلہ کیا، اس کی والدہ نے خوب ڈانٹا، باقی بہنوں، پھوپیوں اور خالاؤں نے خوب مخالفت کی، لیکن وہ کہاں باز آنے والی تھی، اس نے پردہ شروع کیا، اس کی ماں روز طعنے دیا کرتی کہ آج کل ایسی لڑکیوں سے کوئی شادی نہیں کرتا اور وہ رب کی رضا کے لیے سب برداشت کرتی رہی. میری بیوی نے خود بتایا کہ اس کا رشتہ 3 سال تک رُکا رہا اور نہ ہونے کی وجہ میرا پردہ نہیں بلکہ میرا ماضی تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   نجات دہندہ - زرین آصف

یہ وہ نکتہ تھا جو میں اکثر لوگوں کو سمجھاتا ہوں، پر اس واقعہ نے بیان کرنا آسان کر دیا، میرا دوست بات جاری رکھے ہوئے تھا، اس نے مزید بتایا کہ ”وہ کہتی تھی کہ لوگ میرا ماضی کسی صورت بھولنے کو تیار نہ تھے، میرا پارٹیز میں جانا، آوارہ گردی کرنا، چست لباس پہننا کسی کو نہ بھولا تھا، میں روز رب سے رو رو کر التجا کیا کرتی تھی، یا رب میں اس آزمائش کے سامنے بہت کمزور ہوں، اب تو خود کو بدل لیا ہے، پھر مجھے میرے ماضی کے طعنے کیوں دیے جاتے ہیں؟ یا رب اب تو میرا ماتھا تیرے سامنے جھکنے سے روشن ہے تو لوگ میرے ماضی کی تاریکی مجھے کیوں یاد دلاتے ہیں۔“

وہ خاموش ہوچکا تھا، اس کی آنکھوں میں نمی تھی، میں بھی لب ہلانے کی ہمت نہ کر پا رہا تھا، موضوع بدلنے کے لیے مسکراتے ہوئے پوچھا ”او بھائی ساری باتیں چھوڑ، داڑھی کب اور کیسے؟“ اب بھی ہمارے درمیان کچھ دیر خاموشی رہی، پھر اس نے آنسو صاف کیے، اور میری طرف دیکھ کر کہا کہ ”میں بھی اپنی بیوی ہی کی طرح بدلا تھا، کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا تھا اور میری دنیا ہی بدل گئی، میں جو علماء کے خلاف بکواس کیا کرتا تھا، علماء کے پاس بیٹھنے لگا، ان سے سوالات کرنے لگا اور چست اور گھٹیا لباس والی لڑکیوں سے نفرت کا اظہار کیا کرتا تھا، ایک دن ایک عالم کے سامنے ایسی بات کر دی تو انہوں نے فوراََ کہا: گناہ سے نفرت کرو،گنہگار سے نہیں، دیکھو کتنی ہی مسلمان بچیاں یہ خراب زندگی چھوڑ کر رب کی فرماں برداری اختیار کر لیتی ہیں لیکن لوگ ان کا ماضی نہیں بھولتے اور وہ بچیاں رب سے سجدوں میں دعائیں مانگتی ہیں، یاد رکھنا! اللہ کبھی ایسا موقع دے تو ایسی لڑکی سے فوراََ نکاح کر لینا۔“

یہ بھی پڑھیں:   فطرت طاقت کا سر چشمہ - عالیہ زاہد بھٹی

اب میں بات کو کافی حد تک سمجھ چُکا تھا اسی لیے سوال کیا، تو کیا تو نے اسی لیے ایسی لڑکی سے شادی کی؟ مسرت بھرے لہجے میں کہنے لگا ”ہاں! الحمدللہ، میری والدہ نے ایسے ہی باتوں باتوں میں اس لڑکی کے خلاف گھر میں بات کہی کہ پہلے ہر جگہ منہ مارتی ہیں اور پھر شریف زادیاں بن جاتی ہیں، مجھے تجسس ہوا اور پوچھنے پر اس لڑکی کے متعلق علم ہوا تو مجھے عالم کی کہی بات یاد آگئی، گھر والے راضی نہ ہوتے تھے، بہنوں کو سمجھایا، انہوں نے ساتھ دیا اور بہت ضد کے بعد میری اس لڑکی سے شادی ہوگئی۔“

سوال کیا کہ تم لوگ خوش ہو؟ اور گھر والوں کا رویہ کیسا ہے؟ مسکراتے ہوئے جواب ملا ”میری ماں جی جہاں جاتی ہیں اس کی تعریفیں کرتی ہیں، اس نے واقعی گھر کو ایسا سنبھالا ہے کہ مجھے بھی خوشی ہوتی ہے“۔

غور کیجیے کہ ہمارے معاشرے میں مرد کی توبہ کو تو بہت اچھی نظر سے دیکھا جاتا ہے (میں ان لوگوں کی بات نہیں کر رہا جو داڑھی والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں یا مذاق اڑاتے ہیں) لیکن توبہ کرنے والی لڑکی کو اس کے ماضی کی وجہ سے ہی جانا جاتا ہے۔ یہ وہ معاشرہ ہے جو فہم دین کی کمی کے باعث ایسا کرتا ہے وگرنہ دین سے قربت کے باعث ہی اس لڑکے نے ایک ایسی لڑکی سے شادی کرلی۔ یہی دین کی تعلیم ہے اور یہی علماء سیکھاتے ہیں۔ لیکن جو قرآن کی زبان میں”اندھے، گونگے اور بہرے“ ہیں وہ اسی طبقے پر تنقید کرتا ہے۔

خدارا عورت کو پاؤں کی جوتی مت سمجھیں اور اسے وہی عزت اور مقام دیں جس کی وہ حقدار ہے۔ عورت کو بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مردوں کی نظر بھی تب ہی غلاظت اختیار کرتی ہے جب عورت خود اپنے آپ کو ایک پروڈکٹ کی طرح دکھاتی ہے۔

Comments

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان کالم نگار، فیچر رائٹر، مصنف اور تربیت کار ہیں۔ اسلام و پاکستان سے محبت ان کا نظریہ اور اپنی بنیادوں سے جُڑے رہتے ہوئے مثبت و متحرک معاشرہ ان کا خواب ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.