چلو مسکرانے کا بہانہ ڈھونڈتے ہیں - عابد محمود عزام

زندگی نشیب وفراز کا مجموعہ ہے۔ دنیا میں ہرانسان کو جہاں بہت سی خوشیاں ملتی ہیں، وہیں بہت سے غموں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ انسان کو بہت سے ایسے مواقعے سے بھی پالا پڑتا ہے، جب وہ یہ کہنے پر مجبورہوجاتا ہے کہ زندگی واقعی نامساعد حالات کا ایک سلسلہ ہے۔ ایک دکھ سے چھٹکارا ملتا ہے تو دوسرا آ دبوچتا ہے۔ ایک پریشانی ختم نہیں ہوتی کہ دوسری انسان کو عاجز کرنے کو تیار ہوتی ہے اور جب انسان زندگی سے عاجز آجائے تو وہ مایوسیوں کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے، ایسے حالات تب ہی پیدا ہوتے ہیں، جب انسان زندگی کی تلخیوں کو خود پر سوار کر لے اور زندگی کی خوشیوں کو نظر انداز کر کے صرف ان تلخیوں کے بارے میں سوچتا رہے، حالانکہ ہر انسان کو یہ سوچنا چاہیے کہ حالات کبھی ایک سے نہیں رہتے۔ دنیا تغیرات کا مجموعہ ہے، جہاں رات ہے، وہاں دن بھی ہے۔

جہاں تاریکی ہے، وہاں روشنی بھی ہے۔ جہاں کانٹے ہیں، وہاں پھول بھی ہیں۔ جہاں ناکامی ہے، وہاں کامیابی بھی ہے۔ جہاں نفرت ہے، وہاں محبت بھی ہے۔ جہاں دشمنی ہے، وہاں دوستی بھی ہے۔ جہاں پریشانیاں ہیں، وہاں خوشیاں بھی ہیں۔ جہاں برے لوگ ہوتے ہیں، وہاں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ لہٰذا کسی پریشان کن بات کو لے کر ہی نہیں بیٹھ جانا چاہیے، کیونکہ اس سے پریشانی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ انسان کوکبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیشہ خوش رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ خوش ہونے اور مسکرانے کے بہانے ڈھونڈنے چاہیے۔ خوش رہنے کی کوشش کی جائے تو خوشیاں یقینا انسان کا استقبال کرتی ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں وہی لوگ کامیاب ٹھہرتے ہیں، جو پریشانیوں کا رونا رونے کی بجائے خوش رہنے کی کوشش کریں۔ زندگی ہارے ہوئے غمزدہ انسان کا ساتھ کم ہی دیا کرتی ہے، زندگی کے میدان میں فتح حاصل کرنے کے لیے انسان کا باہمت اور خوش ہونا ضروری ہے۔ زندگی میں آپ کو ایسے کئی لوگ ملے ہوں گے جو تمام نعمتیں حاصل ہونے کے باوجود ناخوش، شاکی، اداس اور مایوس نظر آتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ زندگی میں مشکل سے ہی کامیاب ہوتے ہیں، کیونکہ یہ لوگ ہمیشہ منفی پوائنٹ پر ہی نظر رکھتے ہیں، جب کہ کامیابی کے لیے مثبت سوچ کا ہونا ضروری ہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں، جو دیگر تمام لوگوں کی طرح مصروف اور مسائل سے نبرد آزما ہونے کے باوجود بھی ہر دم خوش رہتے ہیں۔ وہ خوش ہونے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں تو خوشیاں بھی ایسے لوگوں کو ڈھونڈتی ہیں۔ یہ صرف سوچ کا فرق ہے۔ اگر کسی کے پاس مال و دولت اور تمام آسائشیں بھی ہوں، لیکن سوچ مثبت نہ ہو تو زندگی اجیرن ہو جاتی ہے اور اگر کسی کے پاس نعمتیں بہت زیادہ نہ ہوں، لیکن سوچ مثبت ہے تو زندگی جنت کی مثل ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میرے پاس تم ہو - رمشاجاوید

انسان نے آسائشوں اور دولت کے حصول کے لیے خود کو اتنا مگن کرلیا ہے کہ حقیقی خوشی کا حصول مشکل ہوگیا ہے، حالانکہ ضروری نہیں کہ حقیقی خوشی بے تحاشا پیسہ خرچ کر کے حاصل کی جائے۔ خوشی حاصل کرنے کے قیمتی مواقعے تو ہماری اپنی ہی دسترس میں ہوتے ہیں، جن تک رسائی کے لیے دولت خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ بس درست وقت پر ان سچی اور دیرپا خوشیوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے خدا کی عطا کردہ نعمتوں کا ادراک ہونا ضروری ہے اور جب انسان ان نعمتوں کی اہمیت کو سمجھ جاتا ہے، تب وہ ان نعمتوں کی خوشیوں کو محسوس کرتا ہے۔ انسان عموماً خود کو میسر نہ ہونے والی کئی نعمتوں کی وجہ سے پریشان ہوتا ہے، حالانکہ انسان کو ان نعمتوں پر خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے جو اسے بن مانگے مل گئی ہیں۔ خدا تعالیٰ نے ہر انسان کو بن مانگے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ اگر ہم ان لاتعداد نعمتوں کا شکر ادا کریں تو ناخوش رہنے کی کوئی وجہ ہی نہیں۔

خوشی کسی کی میراث نہیں۔ زندگی کے ہر لمحے سے ہمیں خوشی محسوس کرنا پڑتی ہے۔ اگر انسان چاہے تو کائنات میں ہونے والے ہر عمل سے خوشی کشید کر سکتا ہے۔ مثلاً صبح طلوع آفتاب کا منظر، پھولوں کا کِھلنا، پرندوں کی چہچہاہٹ، بارش کی پھوار، ٹھنڈی ہوا کے جھونکے، ساتھیوں سے ہنسی مذاق سمیت ان گنت اشیا میں خوشیاں موجود ہیں۔ انسان کو خوراک، رہائش اور لباس کا میسر آ جانا بھی کسی بڑی خوشی سے کم نہیں ہے، ورنہ دنیا میں نجانے کتنے لوگ بے سروسامانی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ خوش رہنے کے لیے یہ اطمینان ہی کافی ہے کہ بحیثیت انسان ہم تمام ذائقوں کو چکھ سکتے ہیں۔ مسحور کن خوشبوو¿ں کو سونگھ سکتے ہیں۔ قدرت کے بنائے حسین شاہکاروں کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ خوش رہنے کی اہم وجہ یہ بھی ہے کہ آپ کے اردگرد پیار کرنے والے والدین، رشتے دار، دوست احباب موجود ہیں، جو آپ کی فکر کرتے ہیں، آپ کی پریشانی پر پریشان اور آپ کی خوشی پر خوش ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سرسوں کا تیل زندگی میں کیسے تبدیلی لاسکتا ہے؟

زندگی مختصر ہے، سب کو اس سے پیار کرنا چاہیے۔ اِس کے ہر لمحے کو بھرپور انداز میں لطف اندوز ہو کر گزارنا چاہیے اور ہرہر منٹ سے خوشیوں کو کشید کرنا چاہیے۔ خود بھی خوش رہیں اور دوسروں میں بھی خوشیاں بانٹیں۔ خوش رہنے کے لیے انسان کو ہمیشہ مثبت سوچ رکھنی چاہیے۔ اس کی مثال یوں بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ آدھا گلاس پانی دیکھ کر یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ آدھا گلاس خالی ہے، بلکہ یہ سوچ کر خوش ہوں کہ آدھا گلاس بھرا ہوا ہے۔ زندگی کو مثبت انداز میں گزارنے کے لیے ہمیشہ بہترکی امید اور روشن پہلو پر نظر رکھنی چاہیے۔ فکر کرنا اور پریشانیوں کے بارے میں سوچنا چھوڑ دینا چاہیے۔ اگر حالات ناموافق ہوں تو افسردہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ زندگی کا حصہ ہے۔

خوش رہنے کے لیے انسان کا اپنی سوچ کو بدلنا بھی ضروری ہے۔ کسی بھی بات کے مثبت پہلوؤں پر غور کرنا چاہیے۔ زندگی میں حاصل ہونے والی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو خوش آمدید کہیں، کیونکہ خوشیاں اسی کو ملتی ہیں جو زندگی سے کشید کرنا چاہے اور جو نہ کرنا چاہے، اسے نہیں ملتیں۔ زندگی میں چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے جی بھر کر لطف واندوز ہونے کی کوشش کریں۔ معمولی تلخ باتوں کو اہمیت نہ دیں، ایسے مواقعے کی تلاش میں رہیں جو ہمیں خوشی دے سکیں۔ چھوٹی چھوٹی پریشانیاں زندگی کا حصہ ہوتی ہیں، اس لیے ان کا بہادری سے سامنا کرنا چاہیے، ان میں الجھنا نہیں چاہیے، کیونکہ پریشانی سے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید الجھتے ہی چلے جاتے ہیں۔

دوسروں کے کسی اچھے کام کی تعریف دل کھول کر یں۔ اپنی کارکردگی کا بھی جائزہ لیں اور دیکھیں کہ آج سارا دن میں ہم نے ایسے کون سے کام کیے ہیں جو قابل تعریف ہیں اور جو کام آپ کو مطمئن کریں، ان پر خود کو شاباش دیں اور جو کام آپ نے ایسے کیے ہیں جو نہیں کرنے چاہیے تھے، ان پر پریشان نہ ہوں، بلکہ آیندہ ان سے احتیاط کرنے کی کوشش کریں۔ کوشش کریں کہ منفی پہلوو¿ں کو تلاش کرنے کی بجائے تصویر کا مثبت رخ دیکھیں اور اس کو فروغ دیں۔ اگر انسان زندگی سے خوشیاں تلاش کرنا چاہے تو خوشیوں کا ڈھیر لگا سکتا ہے اور انسان کو ہمیشہ خوش رہنے کی ہی کوشش کرنی چاہیے۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.