احوال ایک ککڑ چوری کا - محسن حدید

جب ہم چھوٹے ہوتے تھے تو ایک دوست کو چھوٹی موٹی چوریاں کرنے کا بہت چسکا تھا. ایسی ہی ایک ککڑ چوری کا احوال آپ دوستوں کے ساتھ شئیر کرنے جا رہا ہوں ۔اس کا اصل نام تو کوئی اور ہے، اپنی سہولت کے لیے جیدا لکھ دیتے ہیں. چور کی زبانی سنتے ہیں.

کام تو چوہدری رؤف کا میڈیکل سٹور کا تھا۔ مگرچوہدری رؤف کا پرندوں کا شوق کمال تھا. کئی قسم کے کبوتر اور رنگ برنگے پرندے اس کے پاس موجود تھے، مگر اس کے ککڑ بڑے کمال کے تھے۔ میں جب بھی وہاں سے گزرتا، میرا دل بے اختیار مچل جاتا۔ خاص کر پچھلی سائیڈ پر بنے علیحدہ پنجرے میں بند لال رنگ کے اصیل ککڑ کو دیکھ کر تو باقاعدہ رال ٹپکنے لگتی تھی. جب سے پپو نے مجھے بتایا تھا کہ چوہدری کے اصیل ککڑ کا ریٹ دو پزار لگ چکا ہے، میرا بس نہیں چلتا تھا کہ کب اسے چرا لوں ( یہ آج سے کافی سال پہلے کی بات ہے، جب دو ہزار روپے بہت بڑی رقم ہوتی تھی) میں نے پپو کو ساتھ ملانے کا سوچا۔ پچھلی بار ہمسائیوں کی مرغی چوری کرنے میں اس نے میرا بہت اچھا ساتھ نبھایا تھا۔ لیکن جب یہ منصوبہ میں نے اس کے ساتھ شئیر کیا تو اس نے سیدھا جواب دیا کہ نا بھئی نا، یہ کام بڑے خطرے والا ہے، اور اس بار رسک بڑا ہے کیونکہ چوہدری کا میڈیکل سٹور پنڈ والے ہسپتال کے مین دروازے کے بالکل باہر تھا. ویسے تو دن دو بجے کے بعد ہسپتال میں تقریبا سناٹا ہی ہوتا تھا مگر پھر بھی روڈ چلتا رہتا تھا۔

میں نے اس کا بازو پکڑا اور اسے ہسپتال کی سائیڈ پر لے کر چلا گیا، اب ہم تسلی سے بات کر سکتے تھے۔ ان دنوں کپاس کی فصل اپنے اختتام کے قریب تھی. ہم شہر کی طرف سے آنے والی سڑک سے ایک ایکڑ پیچھے ہی ایک کھال میں پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئے. سامنے میڈیکل سٹور نظر آرہا تھا، اوراس کی دیوار کے ساتھ بنے پرندوں والے پنجرے بھی بالکل صاف نظر اآرہے تھے۔ میں نے اسے سمجھایا کہ ہم یہ کام رات کو کریں گے جب اکا دکا موٹر رکشہ یا موٹرسائیکل/سائیکل والا ادھر سے گزرتا ہے، مگر وہ گھبرایا ہوا تھا۔ میں نے اسے سمجھاتے ہوئے باور کرایا کہ دیکھو ایک تو دکان اور مین روڈ کھیتوں سے تقریبا 5 فٹ اوپر ہے اور دوسرا اتنی اونچی کپاس کی فصل ہے. ہم دکان کی عقبی سائیڈ جو کہ کپاس کی فصل کے بالکل ساتھ جڑی ہوئی ہے، وہاں سے آئیں گے اور چڑھائی چڑھنے کے بعد تقریبا دس فٹ کے فاصلے پر ککڑ والا پنجرا ہے. پہلی دفعہ اس کی آنکھوں میں چمک ابھری۔ میں نے حساب لگایا کہ اب یہ مان جائے گا۔ میں نے فورا کہا کہ تالا بھی کوئی نہیں لگا ہوتا. (بڑے شرافت بھرے دن تھے وہ بھی۔ لوگوں کے گھروں کے مین گیٹ بھی کھلے رہ جاتے تھے اور چوری نہیں ہوتی تھی) بس کنڈی کھولنی ہے اور ایک تھیلے میں ککڑ کو ڈالنا ہے اور پیچھے فصل میں غائب ہو جانا ہے۔ اگر واردات سے پہلے کسی نے دیکھ بھی لیا تو کہہ دیں گے کہ پپو کے پیٹ میں درد تھا، اس لیے ہسپتال آئے تھے۔ ویسے بھی ساتھ والا ڈیرہ تو تمھارا ہے۔

پپو کو بات اب پوری طرح سمجھ آگئی تھی۔ بظاہر اس میں رسک بھی کوئی نہیں تھا اور تقریبا پندرہ سو دو ہزار کی خطیر رقم بھی منتظر تھی جس میں وہ نصف کا حصے دار ہوتا. ہم نے وہاں بیٹھ کر تمام جزئیات طے کیں اور عمران سیریز میں جتنی بھی حکمت عملی پڑھی تھی، اس کو ذہن میں تازہ کر کے پوری باریکی سے خطرات وغیرہ کا جائزہ لیا۔ بلکہ ان دنوں میرے اور پپو کے زیر مطالعہ سپر ایجنٹ صفدر نام کا عمران سیریز بھی تھا. جس میں صفدر نے کمال جرات کا مظاہرہ کر کے مشن کو تکمیل تک پہنچایا تھا۔ مزید تسلی کے لیے ہم نے پنجرے کے قریب جا کر ککڑ کو نظر بھر کر دیکھ بھی لیا. واردات کی رات یہ طے ہوا کہ پپو ڈنگروں والے باڑے میں اپنے باپ کی جگہ خود سوئے گا اور میں اس کے ساتھ ان کے ڈیرے پر ہی سو جاؤں گا۔ پپو کا ابا مجھ سے بہت چڑتا تھا اور کئی بار پپو کو بتا چکا تھا کہ اس سے جان چھڑا لے۔ کسی دن تجھے بھی ذلیل کروائے گا۔ اس لیے میں اس کے ابے سے بہت کنی کتراتا تھا. وہاں سے ہم اٹھے اور محسن حدید کے پاس جاپہنچے. محسن کو میں کبھی کبھی جلیبی شلیبی کھلا دیتا تھا کیونکہ اس کے پاس عمران سیریز اور سسپنس جو ہوتا تھا۔ مگر ایک مسئلہ تھا کہ چوری کے پیسوں کی جلیبی کھا کر بھی وہ مجھے نصیحت بہت کرتا تھا کہ الٹے کام چھوڑ دوں۔ میں نے اگر اس سے مانگ کر رسالے ناول نہ پڑھنے ہوتے تو اسے ضرور جتاتا کہ پھر چوری کے پیسوں کی جلیبیاں اور سموسے کیوں کھاتے ہو۔ مگر بات سننے میں میرا جاتا کیا تھا اس لیے چپ رہتا۔ ابھی پچھلے ہفتے جب پپو کا ابا کسی شادی پر گیا ہوا تھا. ہم نے نیکاں بی بی کی مرغی چوری کرکے پپو کے ڈیرے پر کڑاہی بنائی تھی جس میں محسن کو بھی مدعو کیا تھا، تب موصوف نے مرغی ڈکار کر نلکے سے پانی پیتے ہوئے پھر کہاتھا، یار یہ کام ٹھیک نہیں ہے۔ اس کا ضمیر بھی ہمیشہ مصطفی کمال کی طرح لیٹ ہی جاگتا ہے۔

خیر مقررہ رات آگئی اور تقریبا دس بجے جب مجھے پوری تسلی ہوگئی کہ اب پپو کا ابا گھر پہنچ چکا ہوگا۔ میں ڈیرے پر پہنچ گیا. اکتوبر کے دن تھے، باڑے کے قریب ہی چارپائی پر موٹا کھیس اوڑھے پپو خراٹے لے رہا تھا. مجھے بڑا غصہ آیا۔ میں کتنا ایکسائٹڈ ہوں اور یہ یہاں خراٹے لے رہا ہے. میں نے قریب پڑی پانی کی بالٹی اٹھائی اور آؤ دیکھا نا تاؤ، بالٹی میں موجود پانی پپو پر انڈیل دیا۔ ایک دم پپو ہڑبڑا کر اٹھا اور پنجابی کی موٹی سی گالی دی. گالی سنتے ہی میرے اوسان خطا ہوگئے۔ یہ تو پپو کا ابا سویا ہوا تھا. اب گالیوں میں تسلسل آگیا تھا. چند ثانیے تو میرا اوپر کا سانس اوپر ہی رہ گیا، پھر میرے اندر کا کیپٹن شکیل جاگا اور میں نے بھاگنے کی ٹھان لی۔ رات اندھیری تھی اور پپو کے ابے کو عینک لگی ہوئی تھی، اس لیے مجھے اتنا اطمینان تھا کہ جب تک وہ عینک پہنے گا، میں فصل میں غائب ہو چکا ہوں گا۔ میں نے یہی کیا اور بھاگ کر فصل میں غائب ہوگیا۔ بابا تب تک گالیاں نکال کر تھک چکا تھا اور اپنی عینک ڈھونڈتے ہوئے مزید گالیوں کے لیے سانس جمع کر رہا تھا شاید۔ میں خیر گرتے پڑتے اپنی بیٹھک میں آ کر بیٹھ گیا۔ میں روز بیٹھک میں ہی سوتا تھا اور گھر کی سائیڈ والی کنڈی بند کر لیتا تھا۔ مجھے غصہ بہت آرہا تھا پپو کی غداری پر۔ آج تو اس نے تقریبا مروادیا تھا. مجھے بتا نہیں سکتا تھا مر جانا۔ خیر اتنی ذلت کے بعد بمشکل سو ہی گیا۔ صبح پپو کو اس کے باپ کی دی ہوئی ساری گالیاں سود سمیت لوٹانے کے بعد اس سے سوال کیا تو اس نے کہا یار ابا نہیں مانا. کہتا تھا ساتھ والے گاؤں میں کوئی ڈنگر کھل گیا ہے رات کو، اس لیے میں خود سوؤں گا۔ بہرحال اس نے معذرت کی اور ساتھ خوشخبری بھی سنائی کہ شاید ابا کل بہاولپور اپنے تائے کی خیریت پوچھنے چلا جائے. شام کو واقعی پپو کا ابا بہاولپور چلا گیا اب ہم آزاد تھے.

سرشام ہی ہم نے ایک بار پھر ساری حکمت عملی کا جائزہ لیا اور رات بارہ بجے ہماری جائے واردات کی طرف روانگی ہوئی۔ کپاس کے کھیتوں میں چلتے ہوئے ہم میڈیکل سٹور کے عقب میں پہنچ گئے. اب سامنے صرف دس فٹ کے فاصلے پر ہمارا شکار موجود تھا. طے یہ ہوا کہ پپوتھیلا لے کر آگے جائے گا اور میں پیچھے سے دھیان رکھوں گا. اس کے پیچھے جا کر مرغے کو قابو دونوں مل کر کریں گے. پپو ڈھلوان سے اوپر چڑھا اور میں ابھی ڈھلوان چڑھ ہی رہا تھا کہ کتے کی چئوں چئوں کی آواز آئی اور پپو موٹی سی گالی دیتا ہوا میرے اوپر آ گرا. ہم دونوں ڈھلوان سے پھسلتے ہوئے کھیتوں میں گرتے چلے گئے۔ ایک تو کھیت کی منڈیر پر اگے نوکیلے پکھڑے (خودرو جڑی بوٹی) نے میرے جسم کو چھیل کر رکھ دیا، اوپر سے پپو کا وزن بھی میرے اوپر آ گرا تھا۔ تکلیف سے میرا برا حال تھا۔ میں نے غصے میں پپو کو ایک جڑ دی .اس نے فورا کتے کو گالی دیتے ہوئے واک آؤٹ کا پروگرام بنالیا. بڑی مشکل سے اسے پکڑ کر بٹھایا۔ شکر ہے اوپر کوئی ہلچل نہیں ہوئی تھی۔ کتا بھونکتا ہوا دور بھاگ گیا تھا.

ہم دونوں نے اگلا آدھا گھنٹہ وہاں بیٹھ کر سانس درست کیا اور اب میں نے خود آگے جانے کا فیصلہ کیا۔ خیر ہم پنجرے کے پاس پہنچے۔ میں نے پپو کے کان میں کہا کہ وہ آٹے کا پیڑا کدھر ہے جس سے ککڑ کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہے، اور اس کی چونچ قابو کرنی ہے. پپو کہتا وہ تو میں لانا ہی بھول گیا۔ دل تو میرا کیا اسے ٹھڈا مار کر نیچے پھینک دوں مگر اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ میں نے ایسے ہی ککڑ پر ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ جیسے ہی دروازہ کھولا، ابھی تھیلا دوسرے ہاتھ میں ہی تھا کہ ککڑ نے میرے ہاتھ کی پشت پر دو بھرپور چونچیں مار دیں. خیر میں نے اس کی گردن دبوچ لی اور درد کو برداشت کرتے ہوئے ہم نے اسے تھیلے میں منتقل کرلیا۔ لمحوں میں ہم دوبارہ فصل میں غائب ہوچکے تھے. ڈیرے پہنچ کر اسے کُھڈے میں بند کر کے جب میں لیٹا تو سارا جسم ٹوٹا ہو اتھا۔گھٹنے سے شلوار پھٹ چکی تھی، ہرے رنگ کے داغ نمایاں تھے، اور ہاتھ کی پشت پر شدید تکلیف کا احساس اس کے سوا تھا۔ خیر صبح ماں سے جھوٹ بولا کہ رات کو کھال میں گرگیا تھا.

اب ککڑ کو بیچنے کا مسئلہ درپیش تھا۔ ایک دن تو صبر کیا۔ چوہدری رؤف کی دکان سے ہی زخموں پر لگانے کو پائیوڈین خریدی. چوہدری ایک دوست کے ساتھ ککڑ کے موضوع پر ہی گفتگو کررہا تھا۔ بے چارہ کافی غمگین تھا. ککڑ نے نیا ڈرامہ شروع کر دیا تھا، کچھ کھا ہی نہیں رہا تھا۔ ہمیں لگا کہیں ککڑ مر ہی نہ جائے، اس لیے اسے بیچنے شہر لے گئے. ایک مرغی والے نے ککڑ کو اچھی طرح دیکھا اور کہا کہ سامنے والے باری صاحب اصیل ککڑوں کے بہت شوقین ہیں، ان سے تمھاری ڈیل کروا دیتا ہوں، 50 روپے لیکن میں لوں گا۔ ہم مان گئے. اس نے ہمیں ساتھ لیا اور باری صاحب جن کا کار شوروم تھا، وہاں لے گیا۔ باری صاحب خود موجود نہیں تھے. ان کے منشی نے ہمارے لیے چائے منگوائی اور باری صاحب کو فون کردیا۔ باری صاحب 15 منٹ میں وہاں پہنچ گئے۔ جیسے ہی ہم نے باری صاحب کو دیکھا، ہمارے اوسان خطا ہوگئے. یہ تو وہی صاحب تھے جو کل چوہدری رؤوف کے پاس بیٹھے ککڑ چوری کی داستان سن سرہے تھے۔ اب یہ تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ باری صاحب نے کیا کیا ہوگا۔

Comments

محسن حدید

محسن حدید

محسن حدید میڈیکل پروفیشنل ہیں، لاہور میں میڈیکل لیب چلاتے ہیں۔ کھیلوں سے انتہا درجے کی دلچسپی ہے۔ روزنامہ دنیا اور دلیل کے لیے کھیل پر مستقل لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.