اب وہ آئینہ نہیں دیکھتی - اسامہ محمد

وہ کتنی دیر سے آئینے کے سامنے کھڑی خود کو سنوار رہی تھی، تقریب میں وقت پر پہنچنا ضروری تھا، اس لیے میرے غصے کی انتہا نہ رہی۔
کیا وحشت ہے؟؟ آخر تم عورتوں کو سب سے منفرد نظر آنے کا جنون کیوں ہے؟؟
اس لیے جناب تاکہ ان کے شوہر کی نگاہ کسی اور طرف نہ اٹھے، بس جب دیکھے اپنی بیوی ہی کو دیکھے، (وہ بڑی اپنائیت سے میرے ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی)۔
بڑا اچھا بہانہ ہے اپنے ذوق کی تسکین کا، کبھی یہ سوچا ہے کہ وہاں کتنے نامحرم ہوتے ہیں، میں غصے سے پھٹ پڑا، تم میرے لیے نہیں دوسروں کے لیے خود کو سجاتی ہو۔

بس یہیں مجھ سے غلطی ہوگئی، میں سوچے سمجھے بغیر بول گیا اور اس کی انا پر کاری ضرب لگی، وہ ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوگئی، آئینے میں خود کو غور سے دیکھا، واش روم میں گئی اور منہ دھو کر باہر نکل آئی۔
چلیے دیر ہو رہی ہے، چادر لپیٹتے ہوئے کہہ کر مجھ سے آگے آگے چلنے لگی، تقریب سے واپسی پر کافی دیر ہوگئی، میرا موڈ خراب تھا اس لیے سیدھا کمرے میں چلا گیا۔

رات کے پچھلے پہر پیاس کی شدت سے آنکھ کھل گئی، پانی پینے کے لیے اٹھا تو اس پر نظر پڑی، شاید کچھ لکھتے لکھتے سو گئی تھی، میں نے آہستہ سے ڈائری اٹھا لی۔

لکھا تھا:
”مرد کا بھروسہ جیتنا بہت مشکل ہے، اپنے آپ کو بڑی اذیتوں سے گزارنا پڑتا ہے، پھر بھی پتہ نہیں چلتا کب اور کہاں غلطی ہو جاتی ہے، میں بھی اسی بھروسے کو لے کر اب تک چلتی رہی اور سمجھتی رہی کہ میرا سجنا سنورنا صرف آپ کے لیے ہے، اور آپ کی نظر پر صرف میرا حق ہے، آپ کی محبت میں اتنی غرق رہی کہ کبھی کسی دوسری طرف دھیان ہی نہ گیا لیکن یہ میری سب سے بڑی بھول تھی، مرد اپنا ظرف وہیں آزماتے ہیں جہاں انہیں ہارنے کا ڈر نہیں ہوتا، سو آج میں ہار گئی، میں نے اپنا سب کچھ کھو دیا. میرا مان ٹوٹ گیا۔“

یہ بھی پڑھیں:   لڑکیاں بھی انسان ہوتی ہیں - عمارہ خان

میں نے غور سے اس کے چہرے کو دیکھا آنسو گال پر خشک ہو چکے تھے، وہ معصوم چہرہ جسے میں بہت چاہتا تھا، آج کرب میں ڈوبا تھا، وہ ایسی بکھری کہ پھر میری لاکھ کوششوں اور معافیوں کے باوجود دوبارہ سمٹ نہ سکی۔

گھر کے معمولات میں کوئی فرق نہ آیا، وہ اپنی ذمہ داریاں اسی طرح نبھاتی رہی لیکن اس کے بعد اس نے آئینہ دیکھنا چھوڑ دیا۔