کنواروں اور کنواریوں کی خدمت میں - حافظ محمد زبیر

غیر شادی شدہ بچوں اور بچیوں کی باتیں سنو تو یقین مانیں خوف آتا ہے کہ کس تخیلاتی دنیا میں رہتے ہیں اور اس تخیل کی دنیا کے پیدا کرنے میں سارا کردار میڈیا یعنی فلم انڈسٹری کا ہے۔ لڑکا ہے تو اس کا ِخیال یہ ہے کہ شادی کے بعد بس ایک خادمہ ہاتھ آ جائے گی کہ جو صبح سے شام تک اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی رہے گی، مزے مزے کے کھانے کھانے کو ملیں گے، خوب عیاشی ہوگی. وغیرہ وغیرہ

اور لڑکی ہے تو وہ یہ خواب دیکھ رہی ہے کہ شادی کے بعد ایک ایسا خزانچی ہاتھ آ جائے گا جو صبح سے شام اس کی خواہشات کی تکمیل کے لیے روپیہ پیسہ خرچ کرنے کو اپنے لیے فخر جانے گا۔ شوہر کی صورت میں ایک اے ٹی ایم کارڈ ہاتھ آ جائے گا اور ڈھیر شاپنگ ہو گی، دل کھول کر، وغیرہ وغیرہ
اللہ کے بندو! اس فینٹیسی سے نکلو۔ شادی ایک ذمہ داری کا بندھن ہے، مرد کے لیے بھی اور عورت کے لیے بھی۔ اس ذمہ داری کو ادا کیے بغیر یہ ایک مہینہ بھی نہیں چل سکتا۔ شادی کی صورت میں عیاشی کا تصور صرف فلموں میں ہوتا ہے جبکہ حقیقی زندگی میں تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان میں سے یہ بھی ہے کہ شوہر کو ناشتہ خود سے بھی بنانا پڑتا ہے اور بیوی کو میک اپ کا سامان خریدنے کے لیے اپنے پیسے خود بھی لگانے پڑتے ہیں۔

شادی ایجاب وقبول کا نام ہے اور ایجاب عربی زبان کا لفظ ہے کہ جس کا معنی واجب کرنا ہے۔ ہمارے ہاں مرد حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ قبول کا معنی ہے کہ ہم نے لڑکی قبولی ہے۔ اوہ بھئی، قبول وہ کیا ہے کہ جس کا ایجاب ہوا ہے یعنی جو تم پر واجب کیا گیا ہے۔ اور واجب کیا گیا ہے؟ وہ لڑکی کی ذمہ داری ہے۔ لڑکی کا والد یا سرپرست یہ کہتا ہے کہ یہ لڑکی اب تک میری ذمہ داری میں تھی یعنی اس کا نان نفقہ، اس کی حفاظت وغیرہ، اب میں اس لڑکی کی ذمہ داری تم پر واجب کرتا ہوں، کیا تمہیں یہ ذمہ داری قبول ہے؟ تو وہ اسے قبول کر لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بڑھاپے کی شادی - بشارت حمید

اب ذمہ داری کا ذکر تو نہ نکاح کروانے والے مولوی صاحب کے علم میں ہے اور نہ ہی دولہا کی معلومات میں اور قبول قبول کرنے کا شوق چڑھا ہوا ہے۔ اور جب ذمہ داری کندھوں پر آن پڑھتی ہے تو پھر کہتے ہیں کہ اسے شادی کہتے ہیں؟ اس سے تو کنوارے ہی بھلے تھے۔ تم نے صرف بیوی نہیں قبولی، اس کا خاندان بھی قبولا ہے لہذا ان کی خدمت کرو۔ اور لڑکی نے بھی صرف لڑکا نہیں قبولا، اس کا خاندان بھی قبولا ہے لہذا ان کے کام آؤ۔ نہیں مانتے تو نہ مانو، سسرالی خود ہی منوا لیں گے۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.