سیرت کی ایک جھلک - احمد حامدی

بچپن ہی سے ان کی تربیت شروع ہوگئی۔ پیدا ہوئے تو والد وفات پا چکے تھے۔ دادا نے ابتدائی تربیت کی۔ اسی دوران بنو سعد کی ایک خاتون حلیمہ آئی اور ان کو دودھ پلانے اور دیہاتی عربی (اصل عربی) سکھانے کے لیے ساتھ لے گئی۔ ابھی لڑکپن کا زمانہ تھا کہ والدہ نے تنہا چھوڑ دیا۔ دادا جان نے والد و والدہ کی جگہ لی۔

تصور کرو نا! وہ عبد اللہ و آمنہ کا لعل، وہ سرور عالم کس یتیمی کی عالم میں زندگی گزارتا ہوگا۔ ابھی لڑکپن کا دور تھا کہ دادا جان نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔

ہر نئے دور میں ان کو کسی اور کے حوالے کیا گیا، لیکن دراصل وہ الہ العالمین کی نگرانی میں تھے ۔ جوانی انھوں نے اپنے چچا کے زیر نگرانی گزاری۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر سرپرست نے ان کی خوب سرپرستی کی، سرپرستی کا حق ادا کیا۔

وہ نرم و خاموش مزاج، وہ شرمیلا و باحیاء انسان، وہ خیر کا داعی و شر سے متنفر۔ اس ہستی کو مکہ کے اس شر و فساد سے کوئی لگاؤ نہ تھا، اس لیے وہ سکون کی خاطر مکہ سے دور ایک غار (حرا) میں غور و تفکر کی غرض سے روز و شب گزارنے لگے۔

ایک دن غار میں عجب واقعہ ہوا۔ ایک فرشتہ نمودار ہوا۔ اور کہنے لگا ۔۔۔ اقرا ۔۔۔۔ غار والے نے جواب دیا، میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔۔۔۔ فرشتے نے اسے جنجھوڑا اور پھر کہا ۔۔۔۔ اقرا ۔۔۔ غار والے نے پھر کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔۔۔۔ اس فرشتے نے پھر وہی عمل کیا ۔۔۔ اور کہا اقرا باسم ربک الذی خلق ۔۔۔ غار والے نے پھر اس فرشتے کے پڑھائے ہوئے کلمات پڑھے ۔۔۔۔ اس اچانک واقعہ سے وہ مکہ کے نیک نفس کتنا گھبرا گئے ہوں گے نا؟؟

واقعی بہت گھبرا گئے تھے ۔۔۔ اسی وقت غار سے اترے اور گھر آکر بیوی سے بولے ۔۔ مجھے کمبل اوڑھ دو ۔۔۔ کانپ رہے تھے ۔۔۔ اور اہلیہ سے کہہ رہے تھے، مجھے اپنی زندگی خطرے میں لگتی ہے۔۔ بیوی (خدیجہ) بھی ایک باکمال عورت تھیں، انھوں نے تسلی دی، اور ایک عالم ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ ان سے بات کرکے معلوم ہوا کہ وہ غار والا واقعی فرشتہ تھا اور سردار دو جہاں (ص) کے پاس رب العالمین کا پیغام اور رسالت کی ذمہ داری لے کر آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   غزوۂ اُحد سے حاصل شدہ سبق - مفتی منیب الرحمٰن

ہائے، نہ پوچھو! یہ رسالت کی ذمہ داری کتنی بڑی اور سخت ہوتی ہے ۔۔۔۔ اس کو ادا کرتے ہوئے اپنے خاندان تک والے دشمن ہو جاتے ہیں ۔۔۔ گالیاں دیتے ہیں ۔۔۔۔ مذاق اڑاتے ہیں۔۔ صرف یہی نہیں ہوتا بلکہ لوگ مارتے ہیں، اپنے گھر سے نکال دیتے ہیں۔۔

اور اس باحیا و با وقار انسان، اس شریف النفس کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ابو لہب گالیاں دیتا ہے۔ عقبہ بن ابو معید جسمانی اذیتیں دیتا ہے۔ طائف والے لہو لہان کر دیتے ہیں۔

کائنات کے عظیم ترین انسان کے ساتھ یہ سب کچھ ہوا، ہائے! دل رکھنے والے تو یہ سن کے روتا کیوں نہیں ہے؟ تجھے اس ہستی کی اہمیت کا اندازہ کیوں نہیں ہوتا؟

وہ عظیم انسان (ص) گھر سے نکالا گیا تو کچھ اور لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔۔۔ اور انصار کہلائے۔۔۔ پھر اس ہستی نے جس شان کے ساتھ مہاجرین و انصار کے ساتھ مل کر پورے عرب کو فتح کیا۔۔۔ کاش! تو سیرت کی کتابوں کے اوراق پلٹا کر دیکھ لے۔۔

ایسی ہستی کا اس جہاں سے اٹھ جانا صحابہ پر کتنا سخت ہوگا نا؟؟ ہاں بالکل، وہ وقت بہت سخت تھا، صحابہ رو رہے تھے، اور یہی وجہ تھی کہ جب یہ ہستی اس جہاں سے اٹھ گئی تو اس کے ایک عاشق یعنی عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار نکالی اور پورے مجمع میں کہہ دیا، خبردار! اگر کسی نے حضورﷺ کے بارے میں ایسا کچھ کہا تو ۔۔ اتنے میں ایک اور عاشق رسول جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور بآواز بلند کہا کہ جس کا خدا محمدﷺ ہے تو وہ جان لے کہ اس کا خدا فوت ہوگیا ہے، اور جس کا خدا اللہ تعالی ہے تو وہ جان لے کہ اس کا خدا زندہ و جاوید ہے اور اس کو موت نہیں آنی۔
لاکھوں سلام اس ہستی عظیم پر، اس کے صحابہ و تابعین پر، اور اس کے گھر والوں اور ماننے والوں پر۔۔