دو قومی نظریہ کبھی نہیں مرسکتا - ارشدعلی خان

پیارے وطن پاکستان میں لاکھ برائیاں سہی، یہاں کرپشن زروں پر ہے، چاہے وہ معزز اراکین حکومت ہوں یا اپوزیشن جماعتوں کے رہنما، کرپشن کے معاملے میں سب ہی ملے ہوئے ہیں، اور ایک دوسرے پر جو تنقید ہو رہی ہے وہ بھی زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھتی. مشیر خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی کی نیب سے پلی بارگیننگ کے بعد تو سرکار کی جانب سے ایک طرح سرکاری لائسنس جار ی ہوچکا ہے، (یعنی آپ 40،50ارب کی کرپشن کریں اور نیب کو دو ڈھائی ارب واپس کر کے باقی کے پیسوں سے عیش کریں)۔ اسی طرح پیارے وطن میں دیگر برائیاں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں، جو ہمارے اپنے نامہ اعمال کا نتیجہ ہیں اور یہ سب برائیاں ہمیں خود ہی ختم کرنا ہیں، تاہم ہمارے ملک میں ایک طبقہ ایسا بھی پایا جاتا ہے جو سر ے سے اس ملک اور اس کی بنیاد بننے والے دو قومی نظریے کے خلاف ہے، اور گاہے بگاہے اس موقع کی تلاش میں رہتا ہے کہ کس طرح دو قومی نظریے اور اس کے ماننے والوں کا مذاق اُڑایا جائے۔

اتنی تمہید کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ کچھ دوست پڑوسی ملک بھارت کی ترقی ،رواداری اور جمہوریت پسندی کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے۔ ان سب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت میں آپ اپنے بچے کا نام بھی اپنی مرضی سے نہیں رکھ سکتے۔تیمورعلی خان کے نام پر تنازع اس کہاوت کو غلط ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ نام میں کیا رکھا ہے اور بھارت میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت اور عدم رواداری کو ظاہر کرتا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بالی ووڈ کی معروف جوڑی سیف علی خان اور کرینہ کپور کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی ہے، اور چھوٹے نواب کہلانے والے سیف نے اپنے بیٹے کا نام تیمور علی خان رکھا ہے، تاہم سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس پر تیمور نام رکھنے پر ان کو لعن طعن کیا جا رہا ہے۔ سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس پر کہا جا رہا ہے کہ اداکار سیف علی خان نے اپنے بیٹے کا نام تیمور لنگ کے نام پر رکھا ہے اور انہیں یہ نام تبدیل کرنا چاہیے، اور یہ سب بھارت کا مین سٹریم میڈیا بھی رپورٹ کر رہا ہے بلکہ کچھ اخبارات نے تو تیمور لنگ کے مبینہ ظلم کی داستانیں بھی شائع کی ہیں۔ اس سے قبل بالی ووڈ کے معروف اداکاروں شاہ رخ خان، عامر خان اور سلمان خان کو بھی ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے اسی قسم کے رویے کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان میں کرونا وائرس، ذمہ دار کون - شہزاد حسین بھٹی

پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن پر کشیدگی کے بعد پاکستانی فنکاروں کے بالی ووڈ میں کام کرنے کے حوالے سے بھی ہندو انتہا پسندوں کے احتجاجی مظاہرے رپورٹ ہوئے جس کے بعد کچھ فلمسازوں کو مستقبل میں پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام نہ کرنے کا باقاعدہ اعلان کر نا پڑا جن میں فلم ساز و ہدایتکار کرن جوہر سرفہرست ہیں۔ کرن جوہر کی فلم’’ اے دل ہے مشکل‘‘ میں پاکستانی فنکار فواد خان اور عمران عباس نے بھی کردار ادا کیے تھے تاہم سرحد پر کشیدگی کے بعد فلم سے فواد خان کے شاٹس کم کرنے سمیت کرن جوہر کو باقاعدہ یہ اعلان کرنا پڑا کہ وہ آئندہ پاکستانی فنکاروں کو لے کر فلم نہیں بنائیں گے۔ اسی طرح شاہ رخ خان کی فلم رئیس میں پاکستان کی معروف فنکارہ ماہرہ خان کے ہونے کی وجہ سے اس کے فلم سازوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

عامر خان اور سلمان خان کو پاکستانی فنکاروں کے حق میں بیان دینے پر نہ صرف لعن طعن کا سامنا کرنا پڑا بلکہ بھارت کے مختلف شہروں میں ہندو انتہاپسندوں نے اُن کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ۔یہاں تک کے اُن کے پتلے بھی جلائے گئے۔ یہ تو ان بڑے لوگوں کی مثالیں ہیں جن کے خلاف صرف احتجاجی مظاہرے ہوئے تاہم بھارت بھر میں گائے کے گوشت کو لے کر جن مشکلات کا سامناوہاں بسنے والے غریب مسلمانوں کو کرنا پڑا ،اگر اُس کا عشرعشیر بھی پیارے وطن پاکستان اور دوقومی نظریے کے خلاف باتیں کرنے والوں کو کرناپڑے تو ان کو لگ پتہ جائے۔ ہندوں انتہاپسندوں نے گائے کے گوشت کے معاملے پر بھارت بھر میں درجنوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا،خواتین کی بے عزتی کی، سینکڑوں مسلمانوں کو بیدردی سے پیٹاگیا اور یہ سب مودی سرکار کی سرپرستی میں ہوا اس لئے انتہاپسند وں سے کوئی باز پرس نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت ہوش کے ناخن لے - حبیب الرحمن

بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کا طرز عمل دوقومی نظریے کی مخالفت کرنے والوں کی آنکھیں کھولنے کے کافی ہونا چاہیے، اور اگر اس کے بعد بھی اُن کو لگتا ہے کہ دو قومی نظریہ غلط ہے، اور اس بنیاد پر الگ ملک کے لیے کی گئی جدوجہد غلط تھی تو اُن کے لیے بھارت کے دروازے کھلے ہیں۔ وہ شوق سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی شہریت حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں اور کچھ نہیں تو کم از کم اُن کو بھارت کا ایک آدھ چکر تو ضرور لگا لینا چاہیے تاکہ بالی ووڈ کے سکرین پر چمکتے دھمکتے بھارت کا اصل چہرہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم ولادت پر ہمیں خود سے یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہمیں اپنے پیارے ملک پاکستان سے کرپشن اور دہشت گردی سمیت تمام برائیوں کو جڑ سے اُکھاڑ نا ہوگا اور اس سلسلے میں آغاز ہمیں اپنی ذات سے کرنا ہوگا۔