یقین زندہ ہے - ریاض علی خٹک

اظہار علم اب کیا یہی مانا جائے گا کہ جینے کی اُمید چھین لی جائے؟
آج کا علم یہی، کیوں کہ ہر وقت اس معاشرے کا منفی عکس ہی پیش کیا جائے؟

عشروں پہلے بھی یہ وبا چلی تھی، تب کچھ لوگ بڑے عدسوں کی عینکیں لگا کر، کھدر کا چولا پہن کر ہر وقت معاشرے کو معتوب کرتے تھے، ان کو ہر بات پر ہر انداز پر اعتراض تھا. اُن کے اعتراض تو بہت بس یہ اعتراف رہ گیا تھا کہ ہم ہوئے غلام تم بھی ہوجاؤ.

تب ایک منحنی جسم کا بلند قامت لیڈر تھا، اُس کا قد ان بونوں سے بہت بلند تھا، اُس کا یقین بہت توانا تھا، اُس کا اعتماد ہمالہ کی طرح ایستادہ تھا. وہ قائد بنا، قائد ہونا منوایا، اور بےجوڑ طاقت میں اُمید کی طاقت کا مینار بن کر ایک حصار عافیت بنا کر دے چلا.

آج پھر سے بنام علم قوم کی اُمید چرائی جارہی ہے. آج بھی علم کے نام پر یہی باور کرایا جاتا ہے.. تم لوگ تو کچھ بھی نہیں. تمھاری اقدار غلط، تمھاری رفتار غلط، تمھارے دن رات غلط، تمھارا علم غلط تمھارا وجدان غلط، ہاں بس یہی اعتراف باقی کہ تمھارا ہونا ہی غلط.

اے علم مغرب کے عظیم مینارو!
اے مشروب مغرب کی چسکیاں لیتے ہماری حیات کے زائچے بنانے والو!
ممکن ہے کہ ہمارا بہت کچھ غلط ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ ہم رفتار زمانہ میں سبقت رکھتی قوموں سے پیچھے ہوں. بہت کچھ ممکن ہے، لیکن ہمارے یقین کا عزم ابھی زندہ ہے. ہماری اُمید کا چشمہ سوکھا نہیں. ہم زخم زخم ہیں، لیکن ان زخموں میں بھی جینے کے نغمے کبھی بھولے نہیں.گزرے کل بھی کھدر پوش بڑی عینکوں والے افلاطون حیران و پریشان رہ گئے تھے. آنے والے کل بھی ان شاءاللہ یہ سوٹوں والے علم کے مینار حیراں ضرور ہوں گے، کہ یقین زندہ ہے.

ٹیگز

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.