سکوپ - مبشر اکرام

یونیورسٹی سے فارغ ہوکر جاب کرتے ہوئے اڑھائی سال ہونے کو آئے۔ ایک سوال جو باقاعدگی سے جونیئرز اور چھوٹے کزن پوچھتے ہیں وہ یہ ہے کہ بھائی سکوپ کس فیلڈکا ہے ؟

میرے خیال میں سکوپ فیلڈ کا نہیں قابلیت کا ہوتا ہے۔ اگر آپ کو اچھا سموسہ بھی بنانا آتا ہے تو آپ کو پیسوں کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ ایک برے انجینئر سے زیادہ خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں۔ اگر آپ میں اتنی قابلیت ہے کہ آپ شہر کی اچھے درزیوں میں سے ایک ہیں تو یقین کریں کہ آپ کسی کالج کے پروفیسر سے زیادہ خوشحال زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ ٹائلوں کے اچھے مستری ہیں تو بھی پیسوں کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں، آپ کا ایک کام ختم نہیں ہوگا اور اگلا گاہک اپنی باری کا انتظار کر رہا ہوگا۔

میں نے شروع میں ذکر کیا کہ میری ڈگری ہوئے اڑھائی سال گزر چکے، لیکن ڈگری ابھی تک یونیورسٹی میں پڑی ہے۔ میرے ایک کولیگ کو پڑھائی ختم کیے ہوئے آٹھ سال ہوچکے، ڈگری ابھی تک وہیں پڑی ہے۔ کسی نے آج تک ڈگری کا نہیں پوچھا۔ آپ انٹرویو کے لیے جاتے ہیں، وہ آپ کی سی وی بھی نام پڑھ کر ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ انہیں دلچسپی نہیں ہوتی کہ آپ کے مشاغل کیا ہیں۔ انہیں دلچسپی نہیں کہ میٹرک کہاں سے کیا اور انٹر کہاں سے۔ وہ صرف پروفیشنل پراجیکٹس کی بابت پوچھتے ہیں کہ ہمارے کام سے متعلق تمہیں کیا آتا ہے۔ آپ کو کچھ آتا ہوا تو اگلا سوال وہ تنخواہ کا پوچھیں گے وگرنہ خداحافظ۔

میری فیلڈ آئی ٹی ہے۔ آج پاکستان میں آئی ٹی کی نوکری حاصل کرنا یا اس شعبے میں آگے بڑھناسب سے آسان ہے۔ میں کمپیوٹر سائنس کے طلبہ کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ آپ لوگ یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہی پہلا کام یہ کریں کہ کسی بھی فری لانسنگ کی ویب سائٹ پر اپنا اکاؤنٹ بنالیں۔ پہلا ٹارگٹ آپ کا یہ ہونا چاہیے کہ آپ صرف ایک ڈالر کا کوئی پراجیکٹ کر ڈالیں۔ چاہے کوئی کتنا بھی چھوٹا کام ہی کیوں نہ ہو۔ جب ایک ڈالر کا پراجیکٹ کرلیں گے تو آپ کو سمجھ آجائے گی کہ فری لانسنگ کی دنیا کیا ہے۔ اب یوں کریں کہ یونیورسٹی میں ساتھ ساتھ پڑھتے رہیں اور فری لانسنگ کو بھی تھوڑا بہت دیکھتے رہیں۔ آپ پڑھ بھی رہے ہوں گے اور عملی کام کے طور پر بھی آہستہ آہستہ آپ کا رخ بنتا چلا جائے گا۔ آپ خود سمجھ جائیں گے کہ یہاں آپ کو کون سا کام زیادہ مل رہا ہے کس کی ویلیو زیادہ ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کس قسم کا کام کرنا آپ کو زیادہ اچھا لگتا ہے۔ جو لوگ پڑھائی کے ساتھ ساتھ یہ کام کر لیتے ہیں وہ پڑھائی ختم ہونے کے بعد نوکری نہیں ڈھونڈتے بلکہ اور لوگ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں جو پراجیکٹس کرنے میں ان کی مدد کریں۔

کپمیوٹر سائنس کے طلبہ کو ایک بہت بڑا دوسروں کی نسبت فائدہ یہ ہے کہ یہ لوگ ’’ون مین آرمی‘‘ ہوتے ہیں۔ انہیں کام کرنے کو ایک عدد لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کنکشن چاہیے۔ کام دینے کو لاکھوں لوگ آن لائن موجود ہیں۔ بس آپ کو کوئی مہارت حاصل کرنی ہے اور کام گھر بیٹھے ملنے لگے گا۔ جو لوگ کچھ سیکھے بغیر آن لائن کام ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بہت جلد مایوس ہو جاتے ہیں کیونکہ بغیر سیکھے کرنے کو کام نہیں بلکہ مزدوری ہی ملتی ہے۔ یعنی کہ ڈیٹا انٹری کی مزدوری، کلک کرنے والے کام، لنک پوسٹنگ کا کام۔ یہ کام طویل اور تھکا دینے والے ہوتے ہیں اور ان کا ریٹ نہایت ہی کم ہوتا ہے۔ اس لیے آپ اگر اس شعبے میں آنا چاہیں تو چند ماہ لگا کر کوئی بھی ٹیکنیکل کام اچھا سا سیکھ لیں اور اس کے بعد بجائے نوکری ڈھونڈنے کے اوروں کو نوکری دیں۔