خوشی ایک احساس - حسن تیمور جکھڑ

خوشی انسان کے اندر موجود اطمینان سے جڑی ہے، دولت میں مت ڈھونڈیں۔ خوشی دولت کے انبار کا نام نہیں، کسی ایک روپے کے بالکل صحیح استعمال کا نام ہے۔ خوشی کامیابیوں کے جھرمٹ میں ہی نہیں، ایک ناکامی کےخاتمے میں بھی چھپی ہوتی ہے۔ خوشی کسی قیمتی کھلونے یا مہنگے ساز و سامان میں نہیں، ایک سستے سے تحفے میں بھی مل جاتی ہے۔ خوشی ایک بوند سے بھی مل سکتی ہے بشرطیکہ وہ بوند چاہت کی ندیوں سے نکل کر من کی وادیوں میں آئی ہو۔ فرائض کے بوجھ میں دبےمزدور کو ’’حقوق‘‘ بھی خوشی دے جاتے ہیں۔

خوشی کسی ٹھوس وجود کا نہیں بلکہ ایک غیر محسوس ٹھنڈے اور لطیف احساس کا نام ہے، جو دنیا کے ہر مرض کی دوا ہے۔ ٹیلی ویژن کی آمد اور معلومات کی آزادانہ ترسیل کے باعث جس طرح دنیا سمٹ کے ایک عالمی گاؤں کی صورت اختیارکرگئی ہے، اسی طرح تیزی سے اس دنیا میں مختلف معاشرتی اور سماجی مسائل بھی پیداہوئے ہیں۔ حریص تاجروں اور پوری دنیا کے ذہن کو کنٹرول کرنے خواہش مندوں کی جانب سے ٹی وی پر عالی شان گھروں، پرتعیش اشیا کی ترویج، مہنگے ملبوسات اور لگژری لائف سٹائل کو جس طرح پروموٹ کیا گیا، اس نے دنیا کو مختلف النوع کی ذہنی بیماریوں میں جکڑ دیا ہے۔ اس میں سرفہرست ہے احساس کمتری۔

یہ احساس کمتری کئی قسم کاہے۔ کسی چیز کے پاس نہ ہونے کا بھی، اور اپنے پاس موجود چیز کو دنیا کو دکھانے کا بھی۔ اپنی دولت، خوبی، ملکیت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے اور داد و تحسین سمیٹنے جیسا مرض کینسر کی طرح معاشرے میں سرایت کر چکا مراعات یافتہ طبقہ تو اس کا بڑا شکار ہے ہی لیکن اس موذی مرض نے محروم طبقے کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ پہلے سے ہی کچھ نہ ہونے کی اذیت کا شکار طبقہ، آسائشوں کے حصول اور دکھاوے کے لیے بری طرح آگ میں جل اٹھتا ہے۔ دولت کے پجاریوں کی جانب سے شروع کیے جانے والا کھیل، اس قدر خطرناک ثابت ہوا کہ اس نے دنیا کو طاعون اور ایڈز سے بھی زیادہ لاعلاج اور خطرناک مرض میں مبتلا کر دیا۔ ان امراض میں تو شاید پھر بھی کوئی بچ جائے، مگر احساس کمتری بالخصوص ’’دکھاوے کی چاہ‘‘ میں مبتلا شخص مکمل طور پر ذہنی مفلوج اور نفس کا قیدی بن کر رہ جاتا ہے۔

میرے خیال میں تو خوشی ایک احساس کانام ہے نہ کہ کسی مادی چیزکا۔ یعنی ایسا نہیں کہ ایک قیمتی لباس ہی آپ کو خوشی کا احساس دے، اس کے بجائے ایک صاف ستھرا لباس جو آپ پر جچے، وہ بھی خوشی مہیا کر سکتا ہے۔ ایسے ہی لازمی نہیں کہ بڑے ہوٹل میں کھایا گیا کھانا آپ کے لیے لذت کے ساتھ سکون کا باعث بنے، بلکہ اپنے دوست احباب کےجھرمٹ میں کسی ڈھابے سے کھایا گیا کھانا بھی خوشی کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ خوشی میں دولت کا کوئی کمال نہیں بلکہ یہ اندر کے اطمینان سےجڑی ہے۔ یہ اپنے رب کی احسان مندی اور صبر شکر کے احساس سے جڑی چیز ہے۔ ایک قانع غریب مزدور ایک ارب پتی حریص کی نسبت زیادہ پرسکون شب و روز بسرکرتا ہے۔

فی زمانہ قناعت پسندی دنیا کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ یہ نہ صرف دنیا میں راحت کا باعث ہے بلکہ آخرت میں کامیابی کےحصول میں بھی معاون ہے۔۔ یہ نہ صرف خدا کی عنایت بلکہ یہ شیطان کی ناکامی کاسبب بھی ہے۔ مگر نفسا نفسی کے اس دور میں خوشی جیسا بنیادی احساس بڑی تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے، اور اس کی جگہ مایوسی اور دکھ لے رہے ہیں ۔ محض دکھاوے کے لیے خود پرطاری کردہ بوجھ نے بڑے سے بڑے متمول کی کمر توڑ رکھی ہے۔ حرص و ہوس کا دل و دماغ پر قبضہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ بےسود چیزوں کے لیے اپنی زندگیاں تک داؤ پر لگا دی ہیں۔ خوشی کے چھوٹے چھوٹے لمحوں کو نظر انداز کر کے جھوٹی شان و شوکت کے لیے اپنی زندگی برباد کی جا رہی ہے۔ یہ انسان کی ہار ہے، یہ انسانیت کی ہار ہے، یہ اخلاقیات کی ہار ہے، یہ مذاہب کی ہار ہے۔

خوشی کو بڑے گھر، پرتعیش اشیاء، مہنگے ملبوسات اور قیمتی آلات سےناپنے کے بجائے حاصل مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور قلبی اطمینان کے ذریعے ناپا جانا چاہیے۔ زندگی کے اتار چڑھاؤ میں اپنی شخصیت کو کھونا ایک نہایت تکلیف دہ اور نقصان دہ عمل ہے۔ ایسا کرنا شکست کے مترادف ہے۔ ڈٹے رہنا ہی اصل جیت ہے۔

Comments

حسن تیمور جکھڑ

حسن تیمور جکھڑ

حسن تیمور جکھڑ شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ سماجی موضوعات پہ لکھنا پسند ہے۔ میڈیا عروج کے اس دورمیں بھی سنسر پالیسی سے خائف ہیں، اس لیے سوشل میڈیا اور دلیل کو اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.